Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»بحرانوں کے ہنگام میں کچھ حوصلہ افزا خبریں اور نوجوانوں کا پیغام
    رواں تبصرے

    بحرانوں کے ہنگام میں کچھ حوصلہ افزا خبریں اور نوجوانوں کا پیغام

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتاگست 8, 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    برمنگھم کامن ویلتھ گیمز میں جاری کھیلوں کے بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستانی نوجوانوں نے اب تک آٹھ میڈل اپنے نام کرلیے ہیں جن میں دو گولڈ میڈل بھی شامل ہیں۔ ایک طلائی تمغہ ویٹ لفٹنگ میں نوح دستگیر نے اور دوسرا ایتھلیٹکس میں ارشد ندیم نے جیتا ہے۔

    پاکستان دنیا میں چھٹی بڑی آبادی کا ملک ہے جس میں 63 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، لیکن اس کے باوجود کرکٹ کے میدان میں چند کارناموں کے علاوہ مجموعی طور پہ کھیل کے شعبے میں تقریباً پچھلی تین دہائیوں میں اس کے نام کوئی خاطرخواہ کارکردگی نظر نہیں آتی۔ اب جبکہ ملک میں افراتفری کا عالم ہے، معاشی زبوں حالی غالب ہے، مایوسی اور تشدد پسندی کے سایے ہیں، ایسے میں کھیلوں کے میدان سے اچانک اچھی خبروں کا آجانا بہت حوصلہ افزا امر ہے اور یہ مقتدر اشرافیہ کے لیے پیغام بھی ہے کہ پاکستان کا نوجوان کیا کرسکتا ہے اور آپ سے کیا چاہتا ہے، درحقیقت یہی وہ اصل راستہ ہے جس سے پاکستان کی شبیہ دنیا میں بہتر ہوسکتی ہے۔ نوجوانوں کو ان کی مرضی کے مطابق ہر شعبے میں اپنی صلاحیتیں آزمانے کے پورے مواقع اور وسائل ملنے چاہیئں۔

    کھیلوں کے ماحول کو تعلیمی اداروں کی سطح پر پروان چڑھانا چاہیے۔ عمدہ کارکردگی دکھانے والوں کو سکالرشپس ملنی چاہئیں۔ اس کے لیے صوبوں کوچاہیے کہ وہ اپنے وسائل بروئے کار لائیں۔ اس حوالے سے صنفی تفریق کو بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

    پاکستان کا قومی کھیل ہاکی ہے۔ اس کھیل کی حالت 1994ء کے بعد سے ناگفتہ بہ ہے۔ حالانکہ اس میدان میں پاکستان چار عالمی ورلڈ کپ جیت چکا ہے، لیکن آج اس کی شمولیت کسی نمایاں سطح پر نظر نہیں آتی نہ اس بارے بات ہی کی جاتی ہے۔

    پاکستانی نوجوان کچھ عرصے سے انفرادی طور پہ اور اپنی کوششوں کے بل بوتے پر ملک کے لیے کچھ عمدہ مثالیں قائم کر رہے ہیں۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ انہیں مزید مایوس نہ کریں اور ان کے لیے سپورٹس کے میدان میں وسائل مہیا کریں۔ اس میں کوئی زیادہ پیسہ خرچ نہیں ہوگا، صرف کھیل کے موجودہ سرکاری شعبوں اور ڈھانچوں کو انتظامی حوالے سے شفاف اور فعال بنانے کی ضرورت ہے۔

    سپورٹس کامن ویلتھ گیمز کھیل نوجوان
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article’میر جان‘ کا تجریدی رُخ
    Next Article ماضی کے سایے جو اب تک تعاقب میں ہیں
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by