Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»کیا ٹی ٹی پی کے نظریے کو تبدیل کیا جاسکے گا؟
    رواں تبصرے

    کیا ٹی ٹی پی کے نظریے کو تبدیل کیا جاسکے گا؟

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتجولائی 27, 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    گزشتہ دو دنوں سے پاکستانی علما کا ایک آٹھ رکنی وفد کابل میں موجود ہے جس کا مقصد افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کی قیادت سے مذاکرات کرنا اور انہیں پاکستانی حدود میں مستقل جنگ بندی کے حوالے سے قائل کرنا ہے۔ وفد نے ’تحریک طالبان پاکستان‘ کے رہنماؤں کے ساتھ منگل کے روز پہلی ملاقات کی ہے۔

    ٹی ٹی پی نے پاکستانی علما کے سامنے اپنا تحریری موقف پیش کیا ہے جس میں انہوں نے پاکستانی حدود میں جنگ اور ان کے بقول ’جہاد‘ جاری رکھنے کی وجوہات بیان کی ہیں۔ انہوں نے اس تحریری موقف میں علما کو اپنے اساتذہ کہتے ہوئے قابل احترام قرار دیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے پاکستان میں جہاد و قتال کے شرعی دلائل پیش کیے ہیں کہ وہ کیوں اقدام پر مصر ہیں۔

    ٹی ٹی پی نے پاکستان میں مسلح جہاد کرنے کی جو وجوہات بیان کی ہیں وہ وہی ہیں جن کا وہ پہلے بھی تکرار کرتے رہتے ہیں، وہ چھ عوامل درج ذیل ہیں:

    • اس جنگ کی ابتدا ہم نے نہیں بلکہ یہ جنگ ہم پر مسلط کی گئی ہے۔
    • پاکستان امریکا کا فرنٹ لائن اتحادی بنا۔
    • پاکستان کے حکمران کفرِ بواح کے حکم اور زمرے میں آتے ہیں۔
    • حکمرانانِ پاکستان وہ طائفہِ ممتنعہ ہے جوکہ شریعت کا التزام نہیں کرتا۔
    • حکمرانانِ پاکستان اور پاکستان پر مسلط طاغوتی اسٹیبلشمنٹ اپنا خودساختہ آئین قرآن و سنت پر مقدم کرتے ہیں۔
    • ان میں ایسے اعمال پائے جاتے ہیں جن کی بنا پر ان کے خلاف جہاد فرض ہوجاتا ہے۔

    بنیادی طور پہ ان کے مطابق یہ چھ وجوہات ہیں جن کی اساس پر وہ پاکستانی حدود میں ’جہاد‘ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ساری وجوہات شرعی تاویلات پر مبنی ہیں جن کی تفصیلات میں مختلف فتاوی کا سہارا لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ فاٹا انضمام کی منسوخی کے مطالبے پر تاریخی نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس کی آزادی حیثیت کو قائداعظم نے بھی تسلیم کیا تھا، اور پشتونوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا کہ ان کے علاقوں میں اسلامی نظام نافذ کیا جائے گا۔

    ٹی ٹی پی نے جو تحریری موقف علما کے وفد کے سامنے پیش کیا ہے اس کی نظریاتی اساس اصولی طور پہ انہی شرعی تاویلات پر مبنی ہے جن کا وہ ہمیشہ سے تکرار کرتے آئے ہیں اور ان تاویلات کے پاکستان کے جید علما کی جانب سے بارہا تفصیلی جوابات بھی دیے جاچکے ہیں اور باقاعدہ ان تاویلات کی غلطیوں کو نمایاں کیا گیا ہے، لیکن ٹی ٹی پی نے ہمیشہ ان جوابات کو ناقابل اعتنا سمجھا ہے۔ لہذا یہ امکان بہت کم ہے کہ اب کوئی تبدیلی آئے گی۔ ریاست کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر ٹی ٹی پی اپنے نظریات پر نظرثانی کی آمادگی کے بغیر کوئی نرمی دکھاتی بھی ہے تو وہ دیرپا ثابت نہیں ہوگی۔ اس پہلو کو نظرانداز کرکے کوئی بھی معاہدہ ایک تو عارضی ثابت ہوگا اور دوسرا اس کے نتائج و عواقب اس سے تلخ شکل میں نکل سکتے ہیں جس پر حالات آج ہیں۔

    امن مذاکرات تحریک طالبان پاکستان ٹی ٹی پی طالبان
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمکران میں سرحدی تجارت کی مشکلات، ’ہمارا ایک دن کا سفر ہفتوں میں بدل گیا ہے‘
    Next Article دوسروں کے بارے رائے قائم کرنے کا شوق
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by