Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»خلیجی ممالک کا ردعمل مؤثر تنبیہ، مگر بھارتی حکومت کا اقدام ناکافی
    رواں تبصرے

    خلیجی ممالک کا ردعمل مؤثر تنبیہ، مگر بھارتی حکومت کا اقدام ناکافی

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتجون 7, 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    چند دن قبل بھارت میں حکمران جماعت بی جے پی سے تعلق رکھنے والی دو شخصیات کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نازیبا زبان استعمال کی گئی جس کے بعد سے مسلم دنیا سے بھارت کے خلاف سخت ردعمل آیا ہے، بالخصوص خلیجی ممالک نے سفارتی سطح پر مؤثر اقدامات کیے۔ او آئی سی نے بھی اعلامیہ جاری کیا جس میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو متوجہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بھارت کے اسلام مخالف رویے پر اس کی جوابدہی کی جائے۔

    اس ردعمل کے بعد بھارتی حکومت نے توہین میں ملوث دونوں شخصیات کو اپنی جماعت سے نکالا ہے اور کہا کہ یہ ان کا انفرادی فعل ہے، جماعت کا موقف نہیں ہے۔

    بی جے پی کا اسلام مخالف رویہ ہمیشہ کھلا اور عیاں رہا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف ان کی جارحانہ اور ظالمانہ کاروائیاں کافی وقت سے جاری ہیں۔ بلکہ یہ قضیہ ان کی سیاست کا محور بن گیا ہے جس کے اثرات ہیں کہ ملک میں مسلمانوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔ یہ واقعہ اسی سیاست کا تسلسل ہے کہ اب سرعام اسلام کی مقدس شخصیات کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی جارہی ہے۔

    اس واقعے پر خلیجی ممالک نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے، دوطرفہ مضبوط اور وسیع اقتصادی تعلقات کی وجہ سے، جس کا ایک وزن ہے اور اس کے اثرات پر بھی بات ہو رہی ہے۔

    یہ ایک سال کے دوران دوسری مرتبہ ہے کہ خلیجی ممالک نے بھارت میں فروغ پانے والے اسلام مخالف طرزعمل پر سخت تنبیہ کی ہے۔ گزشتہ برس جب خلیجی ممالک میں کچھ بھارتی شہریوں نے #corona_jihad کا ٹرینڈ چلایا تھا تو اس پر سفارتی سطح پہ سخت جواب دیا گیا تھا اور عوام نے بھی #send_hindutuva_back_home کے ٹرینڈ کے تحت بھارتی پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔

    بھارت میں بی جے پی اپنے مسلمان مخالف بیانیے کا اظہار کافی وقت سے اور کئی طرح کے اقدامات کے ساتھ کرتی رہتی ہے۔ تاہم خلیجی ممالک کی جانب سے کبھی کوئی خاص ردعمل نہیں آیا۔ لیکن اب یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر حکومتی سطح پر اسلام اور مقدس شخصیات کے خلاف زبان استعمال کی جائے تو اس پر عرب ممالک سے سخت جواب دیا گیا ہے۔ خلیجی ممالک میں بھارت کے مذہبی منافرت پر مبنی رویے کے بارے میں عوامی سطح پر آگاہی اور اس پر ردعمل ایک خوش آئند امر ہے۔

    اگرچہ خلیجی اور دیگر مسلم ممالک اس واقعے کے بعد بھارت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس پر حکومتی سطح پہ معافی مانگی جائے، لیکن اس وزارت خارجہ نے معافی مانگنے سے انکار کیا ہے۔ ملوث شخصیات کو جماعت اور عہدے سے فارغ کرنا کافی نہیں ہے، حکومت کو اس پر معافی مانگنی چاہیے کیونکہ اس سے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔

    بھارت خلیجی ممالک
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleبلوچستان میں امن و استحکام اور ریاست کی ذمہ داری
    Next Article اخلاق اور دیانتداری، سیاسی تعصب کی نذر ہو رہے ہیں
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by