Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»پاکستان کے لیے امن وامان کی پیچیدہ ہوتی صورتحال
    رواں تبصرے

    پاکستان کے لیے امن وامان کی پیچیدہ ہوتی صورتحال

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتاپریل 27, 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read4 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    گزشتہ روز کراچی یونیورسٹی میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے باہر ایک خودکش دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں تین چینی باشندوں سمیت چار افراد جاں بحق اور چار زخمی ہوگئے۔ دھماکے کی ذمہ داری ’بلوچ لبریشن آرمی‘ کی مجید بریگیڈ نے قبول کی ہے۔

    پاکستان میں حالیہ عرصے کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے اور دیکھا گیا ہے کہ ملک میں تمام تشدد پسند گروہ، چاہے قوم پرست ہوں یا مذہبی، زیادہ متحرک ہونے لگے ہیں۔ گزشتہ چند مہینوں میں بڑے پیمانے کی کاروائیاں عمل میں لائی گئیں جن میں داسو ڈیم حملہ، پشاور مسجد خودکش حملہ اور نوشکی وپنجگور میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملے نمایاں ہیں، جو ماضی میں جاری رہنے والی دہشت گردی کی بدترین لہر کی یاد دلاتے ہیں۔

    چینی باشندوں اور چینی مفادات پر مسلسل حملوں کے بعد پاکستان پر وقت کے ساتھ دباؤ بڑھا ہے، اس کے باوجود اس نوع کی کاروائیوں کا سدباب نہیں ہوپایا ہے اور یہ پاکستانی سکیورٹی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ چینی شہری بلوچ قوم پرست باغیوں اور تحریک طالبان پاکستان دونوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ دہشت گرد گروہوں کے بننے والے نئے اتحاد اور ایک دوسرے کے ساتھ آپریشنل تعاون انہیں مزید مضبوط بناتے ہیں۔

    باغی اور دہشت گرد عناصر کی حالیہ کاروائیاں بتاتی ہیں کہ انہوں نے اپنی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے اور پاکستان کے متعلقہ ذمہ داران ان کی طاقت اور نفوذ کو ختم نہیں کرسکے۔ بالخصوص گزشتہ روز جامعہ کراچی میں ایک اعلی تعلیم یافتہ خاتون کا خودکش دھماکہ جس بحران کو واشگاف کرتا ہے اس کے تمام پہلوؤں پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ بلوچستان میں ریاست کی تمام تر کوششوں کے برخلاف تعلیم یافتہ نوجوان آخر عسکریت پسند عناصر کی جانب کیوں مائل ہورہے ہیں؟ صوبے کے مسائل اور وہاں کی شورش سے نمٹنے کے لیے ریاست کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت تو نہیں؟

    بلوچ لبریشن آرمی جامعہ کراچی چین دہشت گردی مجید بریگیڈ
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپولیو کا دھچکا، 15 ماہ بعد وائرس کی دوبارہ تشخیص
    Next Article سی پیک اور بلوچستان کو درپیش خطرات
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by