Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»جنرل ضیاءاور جبڑا چوک
    کالم

    جنرل ضیاءاور جبڑا چوک

    اختر بلوچBy اختر بلوچنومبر 19, 2016کوئی تبصرہ نہیں ہے۔13 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    جنرل ضیاءکو اُن کے حامی مرد مومن، مردِ حق کہتے ہیں، جبکہ ضیاءکے مخالفین کی رائے اس کے بلکل برعکس ہے۔ مخالفین ضیاءکی ذات کے حوالے سے کیا کیا نعرے لگاتے ہیں اور انہیں کِن الفاظ سے یاد کرتے ہیں یہ ناقابل بیان ہے

    جنرل ضیاءکو اُن کے حامی مرد مومن، مردِ حق کہتے ہیں، جبکہ ضیاءکے مخالفین کی رائے اس کے بلکل برعکس ہے۔ مخالفین ضیاءکی ذات کے حوالے سے کیا کیا نعرے لگاتے ہیں اور انہیں کِن الفاظ سے یاد کرتے ہیں یہ ناقابل بیان ہے۔بھاولپور کی بستی لال کمال میں طیارے کے حادثے میں”شہادت“ کے بعد انہیں اسلام آباد کی فیصل مسجد کے احاطے میں سُپردِ خاک کیا گیا۔ جنرل ضیاءکی لاش کی شناخت اُن کی بتیسی کی وجہ سے ہوئی تھی۔ اس لیے یاروں نے فیصل مسجد کے اسٹاف کا نام جبڑا چوک رکھ دیا۔نامور صحافی اعزاز سید نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی یہاں پر جو لوگ ویگنوں سے اُتر کر مطلوبہ دفاتر کی جانب جانے کے لیے اترتے ہیں تو اُس سے قبل ویگن کا کنڈکٹر آواز لگاتا ہے :”جبڑا چوک والے بھائی“۔

    ہمارا خیال ہے کہ جبڑا چوک کہنے میں کوئی بُرائی نہیں اگر کسی کا جبڑا سلامت ہے تو وہ بول بھی سکتا ہے،لیکن اگر جبڑا ہی مخدوش ہو تو بولیں گے کیا۔ ضیاءصاحب کا معاملہ بھی ایسا ہی تھا۔ جب تک ان کا جبڑا سلامت تھا وہ خوب بولے! انھوں نے اپنی قوت گویائی کی بنیاد پر صلواة کمیٹیاں، زکواة کمیٹیاں اور نہ جانے کیا کیا کمیٹیاں بنائیں، لیکن جب ان کی ایک ہوائی حادثے میں ہلاکت ہوئی تو ان کی شناخت ان کا جبڑا ہی تھی۔

    بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے دانشور، ادیب، شاعر پاکستان میں موجود تمام برائیوں کا خصوصاً دہشتگردی، بدامنی، قتل و غارت گری کا الزام ضیاءالحق پر عائد کرتے ہیں۔ان طبقوں کا خیال ہے کہ افغانستان میں سابقہ سوویت یونین کے خلاف امریکا کی جانب سے منظم کیے جانے والے جہاد میں پاکستان نے ہراول ریاست (Front line State)کا کردار ادا کیا ۔اِس کے نتیجے میں ملک بھر میں جہادی تنظیموں کا بول بالا ہوا۔ جہاد کی تبلیغ کرنے والے مدرسوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔ مذہب اور فرقے کے نام پر قتل و غارت گری عام ہوئی۔یہ ایسے مسائل ہیں جن سے آج تک پاکستان کی عسکری ، سیاسی و جمہوری قوتیں نبردآزما ہیں۔بُرہان الدین حسن اپنی کتاب ”پس پردہ“ مطبوعہ جنگ پبلشرز، اشاعت اوّل فروری2005 کے صفحہ نمبر155اور 156 پر ضیاءالحق کی شخصیت کا نقشہ یوں بیان کرتے ہیں:

    جنرل ضیاءجالندھر کے درمیانہ طبقے کے ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور ایک جونیئر افسر سے تیز رفتار ترقی کے نتیجے میں آرمی چیف اور صدر بننے کے باوجود اپنے سادہ طرزِ زندگی، قومی لباس اور مجموعی طرز عمل سے خود کو ایک عام پاکستانی کی حیثیت سے پیش کرتے رہے۔ پاکستان کے سربراہانِ مملکت میں غالباً وہ پہلے سربراہ تھے جو نماز روزے کے پابند تھے۔ وہ قومی لباس یا فوجی وردی کے علاوہ کچھ نہیں پہنتے تھے۔ اکثر و بیشتر فوجی زبان میں گفتگوکرتے اور ایک عام پاکستانی نظر آتے تھے۔ اکثر آمروں کے برعکس ان کے گرد انکساری کا ایک عجیب و غریب ہالا تھا۔ وہ بات چیت شائستہ انداز میں کرتے تھے اور ان سے گفتگو کرنا آسان تھا۔ ان کے قریب آنے والے ان کی شخصیت سے مرغوب یا اس کے زیرِ اثر نہیں ہوتے تھے۔ وہ گفتگو کے دوران دوسرے کو یہ احساس دلاتے تھے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ بہت ہی اہم ہے۔

    سرکاری خرچ پر اکثر عمرے کرتے رہتے تھے۔ مذہب کے متعلق ان کی معلومات ابتدائی نوعیت کی تھی جو زیادہ تر ”مولویوں“ کی تقاریر سے ماخوذ تھی۔ وہ بڑے ہوشیار انسان اور مکار شخص تھے لیکن تاثر ایسا دیتے تھے جیسے وہ بہت ہی سادہ لوح ہوں۔ ان کی اِس خوبی نے ان کی مکارانہ سیاست کے مختلف مراحل کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔جب قرآن حکیم کی تلاوت کی جاتی یا رسول اکرمﷺ کا نام مُبارک لیا جاتا تو ان کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگتے۔ بعض مواقع پر خانہ کعبہ اور روضہ رسولﷺ پر دعا مانگتے وقت انہیں بچوں کی طرح ہچکیوں سے روتے دیکھا گیا۔

    جنرل ضیاءکا کئی سال سے معمول تھا کہ وہ حجاج کرام کولےجانے والے جہازوں کو خدا حافظ کہنے کے لیے کراچی آیا کرتے تھے۔ وہ جہازکے عرشہ پر جاتے اور وہاں بڑی جذباتی تقریر کرتے تھے، جس میں حاجیوں سے درخواست کرتے کہ وہ ان کے حق میں اور ملک کی سلامتی و یکجہتی اور ترقی و خوشحالی کی لیے دعا کریں۔ جب وہ اس مقام پر پہنچے تو ان کی آواز بھرا جاتی اور وہ رونے لگتے۔ جب پہلی دفعہ ایسا واقعہ پیش آیا تو میں نے خبر میں ان کے رونے والا حصہ محض اس لیے حذف کردیا کہ ایک فوجی جنرل کو بچوں کی طرح روتے ہوئے دکھانا مضحکہ خیز لگے گا۔ اگلے دن مجھے صدر کے پریس سیکریٹری بریگیڈیئر صدیق سالک کا فون آیا جو یہ جاننا چاہتے تھے کہ صدر کے رونے سے متعلق حصہ کو خبر سے کیوں حذف کردیا گیا۔ میں نے انہیں اس کی وجوہات سے آگاہ کیا لیکن وہ مطمئن نہیں ہوئے اور ہدایت کی کہ آئندہ ایسے مناظر کو جن سے صدر کی رسول اکرمﷺ کے ساتھ انتہائی عقیدت و محبت ظاہر ہوتی ہو کوریج میں ضرور شامل کیا جائے۔

    جنرل ضیاءخصوصی بچوں (ذہنی اور جسمانی طور پر معذور) کی بحالی میں خاص دلچسپی رکھتے تھے۔ اِس کی ایک خاص وجہ ان کی چھوٹی بیٹی زین تھی، جس کا شُمار خصوصی بچوں میں ہوتا تھا۔ جنرل جہانداد خان اپنی کتاب ”پاکستان: قیادت کا بحران“ مطبوعہ جنگ پبلشرز، اشاعت دوم، اکتوبر2005کے صفحہ نمبر 152پر لکھتے ہیں کہ: ” گھریلو زندگی میں وہ ایک باوفا شوہر اور شفیق باپ تھے ،انہیں اپنی چھوٹی بیٹی زین سے بہت زیادہ دلی لگاو تھا۔ زین بہت ذہین لیکن اس کو بولنے اور سُننے والے اعضاءمیں کچھ مشکلات تھیں، یہی وجہ ہے کہ جنرل ضیاءSpecial Children میں بہت زیادہ دلچسپی لیتے تھے۔ وہ ان کی ناممکن سے ناممکن خواہش کو بھی رد نہیں کرتے تھے’’۔

    جنرل ضیاءہمیشہ عدم تحفظ کا شکار رہتے تھے،اُن کو یہ خدشہ تھا چوں کہ انھوں نے جو حکومت قائم کی ہے اُس کا کوئی آئینی اور قانونی جواز نہیں ہے۔یہی وجہ تھی کہ وہ اپنی حکومت کو آئینی اور قانونی قراردینے کے لیے نِت نئی ترکیبیں استعمال کرتے تھے۔اس حوالے سے جنرل ضیاءنے ایک نیا انکشاف کیا۔ وہ انکشاف جناح صاحب کی ڈائری کے حوالے سے ، اس میں موجود اُن کے فرمودات پر تھا۔ ڈائری کا انکشاف کیا ہوا،پورے ملک میں ایک نئی بحث چھڑ گئی۔

    جنرل ضیاءاسلامائیزیشن کے ایجنڈے کے حق میں اور پارلیمانی جمہوریت کے خلاف قائد اعظم کی تقریروں اور تحریروں میں من مانی ترمیم و تحریف کرنے سے بھی نہیں چوکے۔ اپنی بنائی ہوئی مجلس شوریٰ کے ساتویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے12ا گست 1983ءکو انھوں نے ایک عجیب و غریب سراسر جھوٹا دعویٰ کیا کہ نیشنل آرکائیوز (National Archives) میں محفوظ قائد اعظم کی ایک ذاتی ڈائری ملی ہے جو اب تک شائع نہیں ہوئی۔ اس میں ان کی ایک تحریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ”قائد اعظم سربراہِ ریاست کے منصب کو انتہائی موثر اور مضبوط دیکھنا چاہتے تھے اور جمہوری نظام کے خلاف تھے۔ انھوں نے کہا کہ قائد اعظم اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں کہ پارلیمانی نظامِ حکومت صرف برطانیہ میں اب تک کامیابی سے چل رہا ہے اور کہیں نہیں۔ وہ آگے لکھتے ہیں کہ صدارتی نظامِ حکومت پاکستان کے لیے زیادہ مناسب ہے چنانچہ اس دستاویزی شہادت کے پیشِ نظر جو دراصل قائد اعظم کے حکم کا درجہ رکھتی ہے نظامِ حکومت کی بابت تنازع ختم ہوجانا چاہیئے ،کیونکہ ان کی پسند صدارتی نظامِ حکومت نہ صرف جدید دور کے تقاضے پورے کرتا ہے بلکہ وہ اسلام کے بھی انتہائی قریب ہے۔“

    جنرل ضیاءکی اس دریافت کا قومی میڈیا پر زبردست چرچا رہا اور خوب تشہیر کی گئی اور اخبارات نے ڈائری کے متعلقہ صفحہ کو پہلے صفحہ پر شائع کیا۔ پی ٹی وی نے محض ڈائری دکھانے اور اس کی بابت خبر نشر کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس موضوع پر بحث و مباحثہ کے کئی پروگرام بھی ٹیلی کاسٹ کیے جن میں ضیاءکے پسندیدہ اور منظور نظر دانشوروں، علمائے کرام اور صحافیوں نے حصہ لیا۔ انھوں نے صدر کی عظیم دریافت کو اس صدی کا اہم واقعہ قرار دیا اور ضیاءکے اس دعویٰ کی مکمل حمایت کی کہ قائد اعظم کے واضح اور دو ٹوک فرمان کے پیشِ نظر پاکستان کے لیے صرف صدارتی نظامِ حکومت ہی موزوں ہے کوئی اور نہیں۔

    یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ یہ جنرل ضیاءکے اپنے دماغ کا کمال تھا یا ان کی مشیر اس انوکھی اختراءکے ذمہ دار تھے۔ تاہم یہ بات اس قدر مضحکہ خیز تھی کہ کسی نے اسے درست نہیں سمجھا۔ بالآخر جب ممتاز دولتانہ اور کے ایچ خورشید نے کسی ایسی ڈائری کو موجود ہونے کی پرزور تردید کی تو یہ افسانہ اپنی موت آپ مرگیا۔ اس کے بعد ضیاءالحق یا ان کے رفقائے کار میں سے کسی نے اس فرضی ڈائری کا کبھی ذکر نہیں کیا۔حیران کن بات یہ ہے کہ قومی پریس نے بھی اس بارے میں چپ سادہ لی اور بابائے قوم کے خلاف اس قسم کی مہمل الزام تراشی کو بے نقاب نہیں کیا۔

    پاکستان میں حکومتوں کا تختہ اُلٹنے والی عسکری قوتوں کا ہمیشہ سے یہ خیال رہا ہے کہ وہ عوام میں بے انتہائی ہردل عزیز ہیں، یہ مغالطہ جنرل ایوب خان کو بھی تھا اور انھوں نے اپنے حامیوں کے مشورے پر محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف صدارتی انتخابات میں حصہ لیا۔ ان انتخابات کے حوالے سے برہان الدین حسن اپنی کتاب ”پس پردہ “کے صفحہ نمبر 55اور 56پر رقم طراز ہیں کہ:

    ایوب خان کے سیکرٹری اطلاعات اور ان کے سوانح نگار الطاف گوہر نے اس وقت کا نقشہ کھینچا ہے جب منتخب صدر اپنی کامیابی کے بعد تقریر ریکارڈ کرانے کی تیاریاں کر رہے تھے۔‘‘ایوب خان کی تقریر رات کے 10 بجے نشر ہونی تھی لیکن شام کے 7 بجے ہی سے ایوب خان کو خوشامدیوں اور حاشیہ برداروں کے ہجوم نے گھیرا ہوا تھا جو سب اس بارے میں تجاویز پیش کر رہے تھے کہ صدر کو اپنی ‘‘فاتحانہ’’ تقریر میں کیا کہنا چاہیے۔ سیکریٹری اطلاعات نے صدر کے لیے تقریر پہلے ہی تیار کرلی تھی۔ ایوب خان نے جو ابھی تک حواس باختہ تھے مائیکرو فون پر کسی قسم کے جذبات کا اظہار کیے بغیر وہی تقریر پڑھی اور ان کے چہرے پر کئی گھنٹے تک پریشانی چھائی رہی۔

    ‘‘یہ جان کر ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی تھی کہ وہ شکست سے بال بال بچے ہیں اور لوگوں نے ان کی نافذ کردہ آئینی اصلاحات کو تقریباً یکسر مسترد کردیا ہے۔ کل 80 ہزار ارکان میں سے 49951 نے ایوب خان کے حق میں اور 38691 نے مادرِ ملت کے حق میں ووٹ دیا۔ تاہم مشرقی پاکستان میں یہ فرق بہت ہی معمولی تھا جہاں فاطمہ جناح نے 18434 ووٹ حاصل کیے اور ایوب خان کو 21012 ووٹ ملے۔ مغربی پاکستان کی صورتحال قدرے مختلف تھی۔ یہاں کراچی کے سوا تمام ڈویژنوں اور اضلاع میں ایوب خان کا پلڑا بھاری رہا۔“

    ضیاءالحق خود کو عوام میں بے حد مقبول تصور کرتے تھے۔ اُن کا ماننا تھا کہ افواجِ پاکستان ان کا انتخابی حلقہ ہیں۔اس کے علاوہ مُلک بھر میں ایک خاموش اکثریت ہے جو ان کی حامی ہے لیکن انہیں کبھی بھی یہ موقع نہیں ملا کہ وہ خاموشی سے جنرل ضیاءکی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہوئے اُن کو اپنا قائد تسلیم کریں غالباً یہی بنیادی وجہ تھی جب ضیاءالحق نے اپنی حکومت کو آئینی جواز دینے کے لیے ملک بھر میں عوامی سطح پر ایک ریفرنڈم کے انعقاد کا فیصلہ کیا۔ریفرنڈم کے نتائج جنرل ضیاءکی مرضی کے مطابق تھے، لیکن اصل میں ریفرنڈم والے دن ملک بھر میں قائم کیے گئے پولنگ اسٹیشنوں پرصورتحال کیا تھی اِ س کو جنرل ضیاءکے قریبی رفیق لیفٹیننٹ جنرل (ر) جہانداد خان نے اپنی کتاب ”پاکستان: قیادت کا بحران“ کے صفحہ نمبر 165،جنگ پبلشرز،اشاعت دوم، اکتوبر 2005ءمیں یوں بیان کیا ہے:

    ریفرنڈم کے روز میں صبح کراچی ویسٹ کے ضلع میں پولنگ کا جائزہ لینے گیا تو میں نے دیکھا کہ تمام مراکز پر ہُو کا عالم تھا۔ میں نے چند لوگوں سے ریفرنڈم میں اس عدم دلچسپی کا سبب دریافت کیا۔ ایک باریش شخص نے جواب دیا ”ضیاءکو بھلا کون ووٹ دینے آئے گا ؟ان کا ٹیلی ویژن اس وقت مقبول گانے والوں کے پروگرام پیش کر رہا ہے۔“ میں دفتر واپس آگیا اور جنرل ضیاءکو ٹیلی فون پر بتادیا کہ ”بوتھ خالی پڑے ہیں کیونکہ ٹیلی ویژن پر مقبول موسیقاروں کے نغمات زور شور سے نشر ہو رہے ہیں، جسے لوگ دیکھ رہے ہیں۔’’انھوں نے پوچھا اس کا علاج کیا ہے۔ میں نے کہا آپ موسیقاروں کی بجائے اپنے پسندیدہ مولویوں کو ٹی وی پر بٹھادیجئے۔ انھوں نے میری رائے پر فوراً عمل کیا اور سہ پہر میں رائے دہندگان کی اچھی خاصی تعداد بوتھ پر موجود تھی۔

    صحافی اظہر سہیل اپنی کتاب ‘‘ایجنسیوں کی حکومت’’ مطبوعہ وین گارڈ بکس کے صحفہ نمبر 20 ریفرنڈم کے حوالے سے مزید لکھتے ہیں کہ: ایک بار (جنرل ضیاء)نے اپنے رفقاءسے باتیں کرتے ہوئے اس ریفرنڈم کی مثال دی اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ اب وہ ملک کے ‘‘منتخب’’صدر ہیں تو جنرل فضل حق نے پلٹ کر جواب دیا، ‘‘جی ہاں’’، ‘‘عوام’’ کے ووٹوں کی یہ پرچیاں ہم نے تو خود صندوقچوں میں بھری تھیں، ہم سے زیادہ اس ریفرنڈم کے بارے میں بھلا کون جانتا ہوگا۔’’ بعد میں ایک دفعہ جنرل فضل الحق نے خود راقم الحروف کو بتایا کہ جنرل ضیاءالحق بھی اِس ریفرنڈم کی اصل حقیقت سے آگاہ تھے، مگر ہمارے سامنے ‘‘شو آف’’ کرنے کے لیے اس طرح کی باتیں کیا کرتے تھے۔ دراصل جنرل ضیاءالحق کے نام پر جس ضیاءازم کی داغ بیل ڈالی گئی، اس کا بنیادی فلسفہ ہی یہ تھا کہ اتنا جھوٹ بولو کہ سچ محسوس ہونے لگے، اس حوالے سے ضیاءازم والوں کے غلو کا یہ عالم تھا اور ہے کہ جس جھوٹ کی بنیاد انھوں نے خود اپنے ہاتھ سے رکھی، وہ جب چل گیا تو آخر میں خود بنیاد رکھنے والوں نے بھی اسے سچ ماننا شروع کردیا۔

    ضیائی فلسفے کی بنیاد کمزور تھی،اِس کمزور بنیاد کو مضبوط کرنے کے لیے انھوں نے غیر جماعتی انتخابات کروائے اور پھر ان غیر جماعتی اسمبلیوں کے ذریعے محمد خان جونیجو کی صورت میں ایک مسلم لیگی وزیراعظم منتخب کروایا اور تین سال بعد اپنے ہی نامزد کردہ وزیراعظم کو خود ہی برطرف کردیا۔اپنے اِس عمل کا ثمر دیکھنے سے قبل وہ خود ہی عالمِ بالا میں پہنچ گئے۔ ضیاءکے سیاسی وارث بھی آج اُس کی وراثت سے انکاری ہیں۔ لے دے کے اُن کا بیٹا اعجاز الحق جوآرائیں برادری کے ووٹوں کی بنیاد پر کسی نہ کسی طور پارلیمنٹ کا ممبر بن جا تا ہے لیکن اس کی آواز بھی پارلیمنٹ میں اس طرح ہے جس طرح نقار خانے میں طوطی کی آواز ہوتی ہے۔ہماری پڑھنے والوں سے گذارش ہے کہ ہم ضیاءدور پر مزید لکھنا چاہتے ہیں، اگر اس سلسلے میں وہ ہماری رہنمائی کریں تو ان کاہم پر یہ احسان ہوگا۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleسائنس آخری سانسیں لے رہی ہے
    Next Article فرقہ واریت کو دوام کیوں ہے؟
    اختر بلوچ

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by