Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»ایف اے ٹی ایف کی تلوار کب تک مسلط رہے گی؟
    رواں تبصرے

    ایف اے ٹی ایف کی تلوار کب تک مسلط رہے گی؟

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتفروری 26, 2021کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے سدباب کے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ’فنانشل ایکشن ٹاسک فورس‘ نے اپنے تین روزہ اجلاس کی تکمیل کے بعد یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستان جُون 2021ء تک بدستور گرے لسٹ میں رہے گا۔ اگرچہ تنظیم کے صدر کی جانب سے حکومت کے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا گیا، تاہم بریفنگ میں ان کا کہنا تھا کہ تنظیم کی جانب سے پیش کی گئیں 27 تجاویز میں سے 3 پر مزید بہتر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا کہ حکومت نے اب تک بھرپور اقدامات کیے ہیں لیکن اگر مزید کچھ چیزوں میں بہتری لانے کی ضرورت ہے تو ہم وہ بھی کریں گے۔

    پاکستان نے اب تک منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے معاشی اور بینکنگ کے نظام کے حوالے سے کئی مؤثر اقدامات کیے ہیں، تاہم ایف اے ٹی ایف کا موجودہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ حکومت اب بھی ان جرائم میں ملوث تنظیموں اور مشتبہ عسکریت پسندوں کو مکمل طور پہ قانونی گرفت میں نہیں لائی ہے اور ان کے سزایاب ہونے ہونے کا عمل تسلی بخش نہیں ہے۔ واضح رہے کہ حکومت نے پچھلے کچھ عرصے میں کئی تنظیموں پر پابندی عائد کی اور کئی عسکریت پسند رہنماؤں کو عدالتی کٹہرے میں بھی لائی ہے، لیکن اس ضمن میں کام کرنے والے بین الاقوامی اداروں کے لیے شاید یہ ناکافی ہے، جب تک ان کے خلاف عملی کاروائیاں نہیں کی جاتیں۔ جن تین نکات پر مزید کام کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے وہ مجموعی طور پہ اسی پہلو سے متعلق ہیں۔

    فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے فیصلے پر بعض حکومتی ذمہ داران کی طرف سے یہ تأثر بھی دیا گیا ہے کہ اس تنظیم کا فیصلہ سیاسی اور جانبدارانہ ہے۔ تاہم، باوجود اس کے کہ تنظیم کے فیصلے میں سیاسی عنصر کا عمل دخل ہوسکتا ہے، یہ بات نظرانداز نہیں کی جاسکتی ہے کہ جو مطالبات ایک عرصے سے کیے جارہے ہیں وہ پاکستان کے اپنے مفاد میں ہی ہیں۔ اور دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ شدت پسندی کے حوالے سے واقعات تسلسل کے ساتھ رونما ہورہے ہیں، اس لیے ہمارا نقطہ نظر جو بھی ہو بین الاقوامی سطح پر حالات ہمارے حق میں نہیں ہیں۔ قانونی حوالے سے ملک میں کافی پیش رفت موجود ہے مگر ان سب کو عملی جامہ پہنانا بھی ضروری ہے۔

    ایک طویل عرصے سے گرے لسٹ میں رہنے کی وجہ سے پاکستان کو معیشت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے شدید مسائل کا سامنا ہے۔ اس چیز کی ضرورت بڑھ گئی ہے کہ پاکستان اب تیزی کے ساتھ سنجیدہ اقدامات کرتے ہوئے ان پابندیوں سے باہر نکلے۔ ایف اے ٹی ایف کے فیصلے میں چاہے سیاسی پہلو موجود ہو ہمارے لیے مگر اس کی تجاویز پر عملدرآمد کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے، اور یہ پاکستان کے اپنے مفاد میں بھی ہے۔ آخر ہم کب تک ان پابندیوں میں جکڑے رہیں گے اور ان کی تاب لاسکیں گے؟

    ایف اے ٹی ایف فنانشل ایکشن ٹاسک فورس
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleسندھ کے سکھ
    Next Article حیرت تو حیرت ہے!
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by