Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»وزیرستان میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات
    رواں تبصرے

    وزیرستان میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتفروری 23, 2021کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    گزشتہ روز پیر کی صبح خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلعے شمالی وزیرستان میں چار رضاکار خواتین کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا۔ خبروں کے مطابق ان خواتین کا تعلق ایک غیرسرکاری تنظیم سے تھا جو علاقے میں خواتین کو تربیت فراہم کرنے کے ایک منصوبے پر اپنی خدمات پیش کر رہی تھیں۔

    شمالی اور جنوبی وزیرستان میں کچھ عرصے سے یہ اطلاعات تسلسل کے کے موصول ہو رہی ہیں کہ وہاں عسکریت پسند ایک بار پھر سر اٹھا رہے ہیں اور ان کی کاروائیوں میں تیزی آئی ہے، بالخصوص ٹارگٹ کلنگ کے واقعات اضافہ ہو رہا ہے۔ ان مختلف کاروائیوں میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت عام لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان میں سے بعض کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی ہے۔

    وزیرستان کے لوگ سخت تشویش میں ہیں۔ قبائلی اضلاع میں امن کے قیام کی خاطر 2014ء میں شروع کیے گئے آپریشن ضرب عضب کے دوران ایک ملین سے زائد لوگ بے گھر ہوئے تھے۔ جب 2017ء میں ان کی واپسی شروع ہوئی تو انہیں اس بات کی امید تھی کہ یہاں شدت پسندی دوبارہ سر نہیں اٹھا سکے گی۔ تاہم ایک بار پھر تواتر کے ساتھ ایسے واقعات کے پیش آنے سے حکومت اور سکیورٹی اداروں پر تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے کہ اتنے قلیل عرصے میں حالات واپس بگاڑ کی جانب کیسے جا سکتے ہیں۔ موجودہ صورتحال اگرچہ آپریشن ضرب عضب سے پہلے والی حالت کے مقابلے میں تسلی بخش کہلائی جاسکتی ہے تاہم تواتر کے ساتھ بڑھتے شدت پسندانہ واقعات سے لوگوں میں بے چینی پھیل رہی ہے کہ شاید اب ایک بار پھر یہ علاقہ میدان جنگ نہ بن جائے۔

    ایک رپورٹ کے مطابق ان شدت پسندانہ واقعات کے نتیجے میں قبائلی اضلاع کے تعلیم یافتہ اور مڈل کلاس طبقات میں علاقے کو چھوڑنے کا رجحان پیدا ہو رہا ہے جس کا فائدہ عسکریت پسندوں کو ہوگا۔ قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد کیے گئے وعدوں کا عدم ایفا اور اس کے ساتھ شدت پسندانہ کاروائیوں میں اضافہ وہاں کے لوگوں میں حکومت اور سکیورٹی اداروں پر اعتماد کو کمزور کرتا جائے گا، لہذا اس ضمن میں مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    شدت پسندی عسکریت پسند قبائلی اضلاع وزیرستان
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپاکستان کی رُوح
    Next Article معدومی کے خطرے سے دوچار پاکستان کی مادری زبانیں
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by