Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»عربی بطور لازمی مضمون: تعلیم کی مزید اسلامائزیشن؟
    رواں تبصرے

    عربی بطور لازمی مضمون: تعلیم کی مزید اسلامائزیشن؟

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتفروری 2, 2021کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    گزشتہ روز سینٹ کے اجلاس کے دوران اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں عربی زبان کو بطور لازمی مضمون پڑھانے کے لیے بل پیش کیا گیا جسے منظور کرلیا گیا۔ اب پہلی سے پانچوں جماعت تک عربی زبان، جبکہ چھٹی سے گیارھویں جماعت تک بچوں کو عربی گرامر پڑھائی جائے گی۔ سینٹ کے ممبران نے عربی زبان پڑھانے کی وجوہات یہ بیان کیں کہ ملک میں مسائل اور بدامنی کی ایک وجہ مذہب اور اسلامی تعلیمات سے صحیح آشنائی نہ ہونا ہے، عربی زبان سیکھنے سے یہ کمی دور ہوگی۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ اگر ہمیں اپنی آخرت سدھارنی ہے تو اس زبان پر عبور حاصل کرنا ہوگا۔

    دنیا کی ہر زبان اپنی جگہ ایک اہمیت رکھتی ہے اور مختلف زبانوں کو سیکھنے سے علم اور معلومات کے حصول کے ذرائع میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ بلاشبہ عربی زبان بھی اسی طرح کا ایک وسیلہ بن سکتی ہے اور اسے بطور زبان سیکھنے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔

    مگر پاکستان کے تناظر میں اور اس زبان کو تعلیمی اداروں میں لازمی مضمون کا درجہ دینے کی وجوہات کے پس منظر میں کچھ اشکالات سامنے آتے ہیں۔ مثال کے طور پہ سینٹ میں گزشتہ روز یہ کہا گیا کہ عربی زبان سیکھنے سے مذہب کی صحیح و معتدل تعلیمات سے آشنائی ہوگی جس سے بدامنی اور شدت پسندی کی فکر میں کمی آئے گی۔ سوال یہ ہے کہ مدارس میں تو عربی زبان پڑھائی جاتی ہے پھر وہاں یہ مسئلہ اب تک کیوں موجود ہے، اور کیا خود عرب ممالک میں شدت پسندی اور بدامنی موجود نہیں ہے حالانکہ ان کی تو یہ مادری زبان ہے۔ محض عربی زبان جاننے یا پڑھنے پڑھانے سے ہی مذہب کی معتدل اور صحیح تعلیمات حاصل نہیں ہوجاتیں۔ اس کے علاوہ یہ چیز بھی ظاہر ہے کہ تعلیمی اداروں میں یہ زبان یا تو مدارس کے فارغ التحصیل افراد پڑھائیں گے یا وہ جو اسلامیات کا مضمون پڑھاتے ہیں، ایسے میں مذہبی تعلیمات کی تشریح کا پہلے سے کیا فرق متوقع ہوسکتا ہے؟ اور جیساکہ سینٹ ارکان کی باتوں سے واضح ہے اس کا نصاب بھی ممکنہ طور پہ مذہبی متون اور اسلامی ادب کے ضمن میں تیار کیا جائے گا، نہ کہ خالصتاََ لغت و ادب کے نقطہ نظر سے، یوں اس کا مطلب اسلامیات ہی کو دوسری مرتبہ عربی زبان میں پڑھانے کے سوا اور کیا ہے۔

    پاکستان میں عربی زبان کو مذہب کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جاتا ہے، اسے بطور زبان و لغت کے نہیں دیکھا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ مدارس میں اس پر بطور زبان مہارت و دسترس حاصل نہیں ہوپاتی اور اس کے تناظر میں سارا زور مذہبی متون و تعلیمات کی جزئیاتی تشریحات پر لگایا جاتاہے۔ یونیورسٹیز کے عربی ادب کے شعبہ جات میں بھی اسلامی ادب پر توجہ زیادہ مرکوز ہوتی ہے۔

    سینٹ ممبران کی بحث سے واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے اس فیصلے کی مختلف جہات پر کوئی غور نہیں کیا۔ پاکستان میں عربی زبان اجنبی تھی ہی نہیں۔ اسے ہزاروں مدارس میں اور یونیورسٹیز میں بھی پڑھایا جاتا ہے۔ مگر وہ ثمرات حاصل نہیں ہوئے جنہیں مقصد بتایا جاتا ہے۔ اب سکولوں میں اس زبان کی لازمی تعلیم سے کیا فائدہ ہوگا، سوائے اس کے کہ یہ فیصلہ تعلیم کی مزید اسلامائزیشن کی طرف ایک اور قدم ہے۔ جبکہ حالات کو مدنظر رکهتے ہوئے اس بات کی زیادہ ضرورت ہے کہ تعلیمی اداروں میں شہریت اور سماجیات کے مضامین لازمی بنائے جائیں.

    اسلامائزیشن تعلیم عربی زبان
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمطلق العنان اتھارٹی اور اخلاقی اقدار
    Next Article پُرتشدد انتہاپسندی کے انسداد کے لیے مہربان کردار
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by