Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»وزیرستان میں 3 جی 4 جی انٹرنیٹ سروس کی بحالی
    رواں تبصرے

    وزیرستان میں 3 جی 4 جی انٹرنیٹ سروس کی بحالی

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتجنوری 20, 2021کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    آج دوپہر کو جنوبی وزیرستان کے صدرمقام وانا میں وزیراعظم عمران خان نے ’کامیاب جوان پروگرام‘ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیرستان کے نوجوانوں کا یہ دیرینہ مطالبہ تھا کہ یہاں 3 جی اور 4 جی انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جائے جو آج سے بحال کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ خدشہ موجود تھا کہ انٹرنیٹ سروس کو عسکریت پسند کاروائیوں کے لیے بھی استعمال کرسکتے ہیں اس لیے اسے بحال کرنے میں پس وپیش سے کام لیا جا رہا تھا، تاہم اب سکیورٹی اداروں کے ساتھ مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اسے بحال کردینا چاہیے۔

    وزیرستان میں ضرب عضب کے بعد سے لوگوں کو جہاں دیگر کئی طرح کے انتظامی مسائل کا سامنا رہا ہے ان میں سے ایک انٹرنیٹ سروس کی فراہمی کا مسئلہ بھی نمایاں ہے۔ وہاں کے رہائشی 3 جی 4 جی کی سہولت کی بحالی کے لیے مسلسل احتجاج کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس بندش سے تعلیم اور کاروبار کے شعبے سخت متأثر ہوئے ہیں۔ بالخصوص جب سے آن لائن کلاسز کا سلسلہ شروع ہوا تو وہ اس کا حصہ نہیں بن سکے۔ نوجوانوں کو معلومات تک رسائی نہیں ہوپاتی اور نہ ملازمتوں کے لیے اشتہارات کا علم ہوپاتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپلائی نہیں کرسکتے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں آن لائن داخلوں کے لیے بھی انہیں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

    وزیرستان میں تقریباََ 86 ہزار طلبہ ہیں جن کا تعلیمی سلسلہ آپریشن ضرب عضب کے بعد سے کسی نہ کسی حوالے سے متأثر ہے۔ انٹرنیٹ کی بلاتعطل اور درست فراہمی سے انہیں یہ مواقع دستیاب ہوسکتے ہیں کہ وہ اپنے محصور ماحول سے باہر جھانک سکیں اور علم و معلومات تک رسائی حاصل کرسکیں۔ معلومات تک آزادانہ رسائی اور باہر کی دنیا کے ساتھ ربط سے شدت پسند ماحول اور ذہنیت میں تبدیلی ممکن ہوتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق وزیرستان کے 90 فیصد افراد کے لیے معلومات کا ذریعہ محض ریڈیو ہے۔ وہ علاقہ جو ایک عرصے سے شدت پسندوں کا گڑھ رہا ہے اسے اگر جدید ذرائع ابلاغ سے نہیں جوڑا جائے گا تو وہ ان عناصر کے لیے ہمیشہ آسان ہدف رہے گا۔

    وزیراعظم کا آج کا یہ اعلان خوش آئند ہے تاہم اس فیصلے پر صرف وقتی اور محدود عملدرآمد نہیں ہونا چاہیے۔ پہلے بھی کئی بار اس طرح کے فیصلے کیے گئے مگر چند دنوں کے بعد انٹرنیٹ کو واپس بند کردیا گیا۔

    انٹرنیٹ وزیرستان
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleچھوٹی عمر کے بچوں کو رسمی تعلیم دینے کا چلن
    Next Article چی گویرا کا دورہ پاکستان اور حقائق کی درست نشاندہی
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by