Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»شیخ الازہر کی اقلیتوں کے لیے مذہبی لٹریچر سے لفظ ’ذمی‘ ترک کردینے کی تجویز
    رواں تبصرے

    شیخ الازہر کی اقلیتوں کے لیے مذہبی لٹریچر سے لفظ ’ذمی‘ ترک کردینے کی تجویز

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتجنوری 10, 2021کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    شیخ الازہر احمد الطیب نے جامعہ ازہر کے فقہی تحقیقی مجلے میں شائع شدہ اپنے حالیہ مضمون میں کہا ہے کہ مسلم دنیا کو چاہیے کہ وہ فقہ کی زبان سے اقلیتوں کے لیے ’ذمی‘ کی اصطلاح کے استعمال کو ختم کردے۔ ان کے مطابق علماء درس و تدریس میں بھی مذہبی اقلیت کے لیے برابر کے شہری ہونے کی فکر کو رائج کریں، اسے ذمی کی بجائے شہری کہا جائے۔

    معتدل مذہبی فکر کے حامل علماء نے شیخ الازہر کی رائے کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ مسلم ممالک کے اندر اب روزمرہ میں مذہبی اقلیتوں کے لیے ذمی کا لفظ استعمال نہیں کیا جاتا لیکن علماء و مذہبی تعلیمی اداروں کے ہاں اس لفظ کے استعمال اور اس اصطلاح کی تاریخی معنویت کے زیراثر لوگوں کے ذہنوں میں یہ احساس موجود ہے کہ مذہبی اقلیت برابر کی شہری نہیں ہوتی نہ اسے مساوی حقوق حاصل ہوتے ہیں، اس بنا پر ان کے خلاف منافرت پر مبنی اقدامات ممکن ہوجاتے ہیں۔ اس لیے اگر علماء اس لفظ کو ترک کرنے کا اعلان کریں اور اقلیتوں کو مساوی شہری کہا جائے تو وقت کے ساتھ ماضی کے تاریخی تعامل کا اثر زائل ہوجائے گا اور اقلیتوں کے خلاف پائے جانے والے حساسیت کے ماحول کی شدت میں کمی آئے گی۔

    اگرچہ آئین میں اقلیتوں کو برابر کا شہری قرار دیا گیا ہے لیکن عملاََ پاکستان مذہبی اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے دنیا کے خطرناک ممالک میں شامل ہے جس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد سخت گیر شعلہ نوا مذہبی شخصیات کی پرستار ہے جن کے ہاں دیگر مذاہب کے لیے نرمی کے رجحانات نظر نہیں آتے اس لیے منافرت پر مبنی تقاریر کے باعث وقتاََ فوقتاََ ملک میں ناپسندیدہ واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ ایسے اقدامات کے ممکن ہوجانے کا ایک سبب اقلیتوں کے حوالے سے مذہبی تشریحات کا لٹریچر ہے جس سے یہ ذہن بنتا ہے کہ مذہبی اقلیت کم درجہ اور مشکوک ہوتی ہے۔ اگر ریاست مدارس اصلاحات کے ضمن میں یہ یقینی بناسکے کہ پاکستان کے علماء و مدارس مذہبی لٹریچر میں دینی اقلیت کے لیے شہری کا لفظ استعمال کریں گے تو یہ بین المذاہب ہم آہنگی کی سمت میں ایک حقیقی و مؤثر پیش رفت ہوگی۔

    اقلیتیں مدارس
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleازدواجی زندگی کو متأثر نہ ہونے دیں
    Next Article کمزور طبقات کے ساتھ بات چیت اور مکالمہ
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by