Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»مولانا ناصر مدنی کا اغوا: متشدد رویوں کا ایک اور مظہر
    رواں تبصرے

    مولانا ناصر مدنی کا اغوا: متشدد رویوں کا ایک اور مظہر

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتمارچ 18, 2020کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read5 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    مولانا ناصر مدنی پنجابی زبان کےغیر روایتی مگر معروف  واعظ ہیں جنہیں عمومی سطح پر خوب عوامی مقبولیت حاصل ہے۔ ان کے خطبات و بیانات سوشل میڈیا پہ وائرل ہوتے رہتے ہیں۔ وہ اپنے مخصوص دیہی انداز میں سماجی برائیوں اور حکمرانوں کی نااہلی پر طنز و چوٹ کرتے ہیں تاہم انہوں نے اپنی خطبات میں کبھی کسی کی  ذاتیات کو نشانہ نہیں بنایا اور کسی فرد یا گروپ کو گالم گلوچ نہیں کیا ۔

    پنجاب میں وعظ ونصیحت کی یہ روایت بہت پرانی ہے اور ہر عہد میں مختلف مسالک کے ہاں ایسے خطباء موجود رہے ہیں جنہوں نے ہنسی مذاق اور طنز یہ انداز میں عوام کو سماجی اخلاقیات کی تلقین کی اور برائیوں سے باز رکھنا چاہا۔ ایسے خطباء کو جہاں ایک جانب عوامی پذیرائی ملتی ہے وہیں ان کے مخالفین اور نکتہ چیں بھی بڑی تعداد میں ہوتے ہیں۔

    مولانا مدنی  کی شہرت کا گراف گزشتہ چند سالوں کے دوران خاص طور سوشل میڈیا ایپ "ٹک ٹاک” کے بعد بہت بلندیوں پر گیا ہے۔ ان کے خطبوں کے موضوعات اور ان کی گفتگو حیران کن حد تک سماجی حقائق اور نوجوانوں میں رائج نئے نت نئے رویوں سے متعلق ہوتی ہے جس میں وہ اصلاح کی کوشش کے لئے اپنے مخصوص دلچسپ پیرائے کو بروئے کار لاتے ہیں۔

    گزشتہ روز مولانا ناصر مدنی کو لاہور کے مضافات میں اغواء کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی برہنہ ویڈیوز بنائی گئیں۔ اس کا انکشاف خود مدنی صاحب نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ چونکہ انہوں نے گزشتہ ہفتے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر پیروں فقیروں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ عوام کو گمراہ نہ کریں تو کسی بااثر پیر کی جانب سے انہیں اغوا کرو ایا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا ۔ انہوں نے یہ بھی بتایاکہ اغواء کار انہیں یہ دھمکیاں دے رہے تھے کہ اگر انہوں نے پولیس کو یا میڈیا کو اس کی رپورٹ کی تو وہ ان کی برہنہ ویڈیوزپبلک کردیں گے۔

    یہ فعل جہاں ایک جانب بہیمانہ جرم ہے وہیں دوسری جانب سماج میں روز بروز بڑھتے ہوئی عدم برداشت اور نفرت کا عملی نمونہ ہے۔ مولانا ناصر مدنی جس روایت کے پیروکار ہیں وہ نہ تو نئی ہے اور نہ ہی اسے سماجی سطح پر انتشار کا نام دیا جاسکتا ہے لیکن ان کے مخالفین کا یہ اقدام بہر صورت قابل مذمت ہے۔ مولانا مدنی کے  یہ  الفاظ کہ "میں سچ بولتا ہوں اس لئے مجھ پر ظلم ہوا اور مجھے یہ سمجھ آگئی ہے کہ اس ملک میں جو سچ بولتا ہے وہ محفوظ نہیں ہے” ہمارے لئے بحیثیت قوم لمحہ فکریہ ہیں ۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleتعلیم کامقصد :تنقیدی شعور کی آبیاری اور آزادی اظہار رائے
    Next Article وبائیں اور توہم پرستی
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by