Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»کورونا وائرس کی تصدیق: ایک بڑا چیلنج سامنے ہے
    رواں تبصرے

    کورونا وائرس کی تصدیق: ایک بڑا چیلنج سامنے ہے

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتفروری 27, 2020کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read0 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    وزیراعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے گزشتہ رات پاکستان میں کورونا وائرس کے دو مریضوں کی موجودگی کی تصدیق کی ہے جن میں میں سے ایک کا تعلق کراچی سے جبکہ دوسرے کیس کی تشخیص اسلام آباد سے ہوئی ہے۔ ان کے مطابق وائرس ایران سے پاکستان پہنچا۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم نے ایک ماہ سے اس مرض سے نمٹنے کے لیے تیاری کر رکھی ہے اس لیے امید ہے کہ وائرس کا پھیلاؤ کا زیادہ نہیں ہوگا۔

    واضح رہے کہ ایران میں وائرس سے متأثرہ افراد کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے جس کے بعد پاکستان سے تفتان بارڈر کو عارضی طور پہ بند کیا گیا تھا اور حکومت کے مطابق زائرین کی آمدورفت اور سکریننگ کو مانیٹر کیا جارہا ہے۔ وہاں طبی خیموں کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف وہاں موجود بعض لوگوں نے یہ شکایت کی ہے کہ ابھی تک ٹیسٹ اور دیکھ بھال کی مناسب سہولیات کی فراہمی نہیں ہوئی ہے۔ حالانکہ چند دن پہلے سے ایران و افغانستان میں اس بیماری کی موجودگی کا اعلان کیا جا چکا ہے لیکن بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی سہولت اب تک موجود نہیں ہے۔ مشیر برائے صحت نے کہا کہ شہر میں چند روز کے اندر چیک اپ کی سہولت کے لیے انتظامات کرلیے جائیں گے۔

    اسلام آباد میں جس مریض کے اندر وائرس کی تشخیص ہوئی ہے وہ ایک ماہ پہلے ایران سے واپس آیا تھا، ایسے میں یہ خدشہ موجود ہے کہ ملک میں اس بیماری سے متأثرہ افراد کی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ بڑے پیمانے پر اس کے ٹیسٹ کے لیے انتظامات کرے اور بہتر یہ ہے کہ اس کے لیے عام ہسپتالوں سے الگ عارضی طبی مراکز قائم کیے جائیں تاکہ وبا کے پھیلنے کا خطرہ کم سے کم ہو۔ حکومت نے دعویٰ تو کیا ہے کہ وائرس سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہیں لیکن اگر اس سے مراد ملک کے چند بڑے ہسپتالوں میں اس کے چیک اپ کی سہولت ہے تو یہ کافی نہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں قرنطینہ کی سہولت کے انتظامات ہر جگہ تسلی بخش نہیں ہیں، قرنطینہ کا مطلب صرف الگ تھلگ کمرہ نہیں ہے بلکہ یہ پورا پیکج ہے جس میں خاص تربیت یافتہ ڈاکٹرز و نرسز کی موجودگی سمیت کئی اہم احتیاطی تقاضوں کو پوا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس سے قبل رواں سال ڈینگی بخار کو ہی ٹھیک طرح سے کنٹرول نہیں کیا جاسکا تھا جس کے باعث اموات میں اضافہ ہوا تھا۔ موجود چیلنج اس سے کہیں بڑا ہے جس کے لیے حقیقی سنجیدگی دکھانے کی ضرورت ہے۔ حکومت کی جانب سے میڈیا پر بھی احتیاط و اقدامات کے حوالے سے پروگرام ہونے چاہیں اور شہریوں کو معلومات دینے کے ساتھ اعتماد میں لیا جائے۔ تاکہ اگر یہ خطرے کا تناسب ملک میں بڑا نہیں ہے تو زیادہ بے چینی نہ پھیلے اور لوگ ضروری احتیاط برتیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمسلم دنیا کا فیمینزم
    Next Article طالبان امریکہ امن ڈیل: پاکستان کے لیے پالیسی آپشنز
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by