Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»پولیو کے بڑھتے کیسز، کوئی ذمہ داری قبول کرے گا؟
    رواں تبصرے

    پولیو کے بڑھتے کیسز، کوئی ذمہ داری قبول کرے گا؟

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتفروری 4, 2020کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read0 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    دو دن قبل ملک میں پولیو کے چار نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد اس بیماری سے متأثرہ معذور بچوں کی تعداد 144 ہوگئی ہے۔ ان میں سے ستانوے کیسز صوبہ خیبرپختونخوا سے ہیں۔ واضح رہے کہ 2018ء میں اس مرض میں مبتلا بچوں کی کل تعداد 12 تھی جس میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

    خیبر پختونخوا میں پولیو مہم کامیاب نہ ہونے کی ایک وجہ پولیو ورکرز پر حملے بھی ہیں۔ 13 جنوری کو پولیو مہم کا دوبارہ آغاز کیا گیا تھا لیکن پچھلے ہفتے ہی ایک مسلح شخص نے پولیو کے قطرے پلانے والی دو خواتین ورکرز کو قتل کردیا تھا۔ اس کے علاوہ پروپیگنڈا بھی ایک وجہ ہے۔ پچھلے سال خیبر پختونخوا میں 68 لاکھ بچوں کو قطرے پلائے جانے تھے جن میں سے سولہ لاکھ کا تعلق پشاور سے تھا لیکن صرف پشاور شہر میں سرپرستوں نے چھ لاکھ بچوں کو ویکسین پلانے سے انکار کردیا۔ کچھ لوگ شدت پسندوں کے خوف سے بھی ویکسین پلوانے سے منع کردیتے ہیں۔

    پوری دنیا میں اس مرض کے رپورٹ ہونے والے کیسز میں سے 80 فیصد کا تعلق پاکستان سے ہوتا ہے۔ ملک میں اس کے پھیلاؤ کے کئی اسباب اور متعدد رکاوٹیں ہیں، لیکن بنیادی طور پہ مستحکم سیاسی عزم کا فقدان اس کی بڑی وجہ ہے۔ یہ بیماری ان علاقوں میں زیادہ ہے جہاں اس کے حوالے سے سماجی سطح پر غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں اور اس بنا پر ذمہ دار سیاسی طبقے پر اس کو ختم کرنے کا بہت زیادہ عوامی دباؤ نہیں ہوتا نہ ویکسین کی فراہمی کا مطالبہ کیا جاتا ہے، اس لیے یہ پروگرام سست روی کا شکار بھی رہتا ہے اور اسے تجربہ کار افراد کے ہاتھ سونپنے کی بجائے من پسند تعلق دار عناصر کے سپرد کردیا جاتا ہے۔ جب بھی نئی حکومت آتی ہے تو ناتجربہ کار افراد کی نئے سرے سے بھرتیوں کی وجہ سے پہلے سال اس کے کیسز میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ گزشتہ دسمبر میں بین الاقوامی مانیٹرنگ بورڈ کے دباؤ کے بعد حکومت نے انسدادپولیو پروگرام کے سابق سربراہ کو واپس لانے کا عندیہ دیا تھا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ذمہ دار سیاسی طبقہ اس مہلک مرض کے خاتمے کے لیے کتنا سنجیدہ ہے کہ اگر عالمی دباؤ نہ ہو تو مناسب وضروری اقدامات کرنے کا امکان ہی نہیں ہوتا۔ دسمبر میں راولپنڈی کے اندر انتظامی نااہلی کے سبب بعض بچوں کو زائدالمیعاد ویکسین پلا دی گئی تھی۔

    تاہم رکاوٹیں جو بھی ہوں پاکستان کے لیے اس مرض سے چھٹکارا حاصل کرنا ضروری ہے۔ انسداد پولیو پروگرام کا دعویٰ ہے کہ وہ تندہی سے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اگر یہ درست ہے تو پھر ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کیسز میں اضافہ کیوں ہوتا جارہا ہے؟

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمسلم سماج اور طبقاتی فکری حقوق
    Next Article کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by