ایک دن فیس بک پر ایک پاکستانی یہودی نوجوان نے ہمیں ایک طویل فہرست ارسال کی جس میں کراچی میں بسنے والے یہودیوں کے نام تھے اور وہ ان کی بابت جاننا چاہتے تھے، خصوصاً ان کی قبروں کے کتبوں کے حوالے سے۔ ہم نے اس سے صرفِ نظر کیا کیوں کہ ہمارا کام لکھنا ہے اور نشاندہی کرنا ہے،
پاکستان میں خود کو یہودی بتانا تقریباً ناممکن سا کام ہے۔ یہودی ہونا اور اس کا اظہار کرنا بہت ہی مشکل عمل ہے۔ہم گزشتہ سطروں میں یہودیوں کی تاریخ لکھ چُکے ہیں لیکن اس کے بعد ہمارے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کا ذکر قارئین کے ساتھ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ یہودی گو کہ پاکستان سے ہجرت کرگئے اور ان میں سے بیشتر اسرائیل میں آباد ہیں، لیکن اب بھی وہ پاکستان کو اپنا وطن سمجھتے ہیں اور یہاں کے گلی کوچوں، مارکیٹوں اور بازاروں کو، اس کے علاوہ اپنے ہم جماعت دوستوں، پڑوسیوں ،جاننے والوں اور خاص طور پر پاکستان میں مدفون اپنے آباواجدادکو نم آنکھوں سے یاد کرتے ہیں۔ اس کا کچھ ذکر ہم اپنے بلاگ کے پہلے حصے میں محمد حنیف کے دورہ اسرائیل کے حوالے سے کرچکے ہیں۔میں پاکستانی یہودیوں کے لیے کچھ نہیں کرسکتا، خصوصاً ان کے قبرستانوں کے لیے، ہاں مگر جس طرح سبھی مذہبی برادریوں اور قومیتیوں اور ان کے تاریخی مقامات کے بارے میں لکھتا رہتا ہوں۔ویسے ہی ان کے بارے میں بھی لکھ سکتا ہوں۔

ایک دن فیس بک پر ایک پاکستانی یہودی نوجوان نے ہمیں ایک طویل فہرست ارسال کی جس میں کراچی میں بسنے والے یہودیوں کے نام تھے اور وہ ان کی بابت جاننا چاہتے تھے، خصوصاً ان کی قبروں کے کتبوں کے حوالے سے۔ ہم نے اس سے صرفِ نظر کیا کیوں کہ ہمارا کام لکھنا ہے اور نشاندہی کرنا ہے، باقی کام ضروری نہیں کہ ہم ہی کریں۔ یہ ایک مذہبی، سماجی اور تاریخی ورثے کا معاملہ ہے اور ایسے ورثوں کی دیکھ بھال کے لیے ادارے موجود ہیں، لیکن یہ ایک الگ بات ہے کہ وہ یہودیوں کے قبرستان کو اس حوالے سے کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ خیر بات آئی گئی ہوگئی، لیکن ہماری حیرانگی کی اس وقت انتہا نہ رہی جب ہمیں ایک نامانوس نمبر سے ٹیلی فون کال موصول ہوئی۔ ہم ایک طویل عرصے سے پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق سے وابستہ ہیں اور انجان نمبرز سے آنے والی اکثر کالز موصول ہوتی ہیں۔ اس لیے ہم نے اپنا ایک اصول بنا لیا ہے کہ معلوم نمبر سے آنے والی کال وصول کریں یا نہ کریں ،لیکن نامعلوم نمبر سے آنے والی کال ضروروصول کرتے ہیں اور نہ کر پائیں تو جوابی کال ضرور کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ہمیں ایک کال موصول ہوئی۔ نمبر خاصا طویل تھا، لہٰذیہ سمجھ میں آنے والی بات تھی کہ یقیناً یہ پاکستان کا نمبر نہیں تھا۔ فون پر گفتگو یوں ہوئی۔
س: کیسے ہیں؟
ج: جی ٹھیک ہوں، مگرآپ کون؟
س: ارے اختر بھائی میں ’ع‘
ج: ع کون؟
س: حضور آپ کا یونیورسٹی میں جونیئر تھا۔
ج: ہاں یاد آیا… بولو خیر تو ہے؟
س: یار وہ آپ نے یہودیوں کے قبرستان اور مسجد پر کچھ لکھا ہے، جس میں بیان کیا گیا ہے کہ قبرستان کی صورت حال خاصی خراب ہے۔
ج: ہاں ہاں۔۔۔۔۔
س: تو کیا اس قبرستان میں جھاڑیوں اور کچرے وغیرہ کی صفائی ہو سکتی ہے؟
ج: کیوں نہیں۔
س: تو آپ یہ کروا سکتے ہیں؟
ج: (حیرانگی سے )میں کیسے کرواو
س: یار !اختر بھائی کوشش تو کریں، پیسے آپ کو مل جائیں گے،باقی کام آپ خود کروا لیں۔
ج: میں قبرستان کی نگران خاتون کے بیٹے کا نمبر بھیج دوں گا، تم خوداس سے بات کرو، وہ یہ کام کردے گا۔
س: کیا یہ کام آپ نہیں کریں گے؟
ج: یار سمجھا کرو، میں نہیں کرسکتا، ویسے ایک بات بتاو،اس قبرستان میں تمہاری دلچسپی کیاہے؟
س: (زوردار قہقہہ لگاتے ہوئے) اختر بھائی ویسے تو لوگ تمہیں بہت ہی ہوشیار مورخ سمجھتے ہیں، جو سندھ اور خصوصاً کراچی میں بسنے والے غیر مسلموں کے بارے میں نا صرف تحقیق کرتا ہے بلکہ لکھتا بھی ہے، اور آپ کو میرا پتہ ہی نہیں۔
ج: نہیں ،نہیں کچھ تو بتاو

س: بھائی میں اور میرا ننھیال یہودی ہیں۔ میری نانی اسرائیل منتقل ہونے سے قبل آخری یہودی خاتون تھیں جو اس قبرستان کا خیال رکھتی تھیں۔ اگر یقین نہ آئے تو قبرستان کی نگران خاتون سے پوچھ لینا اور ہاں ،ایک قبرستان اور بھی ہے یہودیوں کا کراچی میں، وہ بھی ڈھونڈ نکالو تو پھر مزا آئے گا۔
ج: یہ تو میں کر لوں گا لیکن یار بات ہضم نہیں ہو رہی۔
س: اختر بھائی! آپ تو ریسرچ کے آدمی ہو، ڈھونڈو گے تو مل ہی جائے گا۔ اچھا کم از کم اتنا تو کر دیں کہ کچھ قبروں کی تصویریں ہی بھیج دیں ،تاکہ وہ میں اپنی کمیونٹی کے ساتھ شیئر کر سکوں، شاید ان قبروں میں ان کے پیاروں کی قبریں بھی ہوں۔ اگر وہ پاکستان نہیں آسکتے تو کیا ہوا ،کم از کم ان کے کسی رشتے دار کے کتبے کی تصویر ان کے لیے ایک یادگار ہوگی جسے وہ محفوظ کر سکتے ہیں۔“
اس تمام گفتگو کے بعد ایک بار پھریہودی قبرستان جانے کا موقع ملا، چوں کہ وقت کم تھا اس لیے میں نے کچھ قبروں کے کتبوں کی تصویریں بنا لیں ،جو میں نے اپنے دوست کو بھیج دیں۔ ان کے کتبے آپ کی خدمت میں بھی حاضر ہیں۔ اور ہاں میں ایک اور یہودی قبرستان بھی گیا تھا ،لیکن اس میں قبروں کے کتبے نہیں ہیں۔ اس قبرستان کا ذکر پھر کسی بلاگ میں کریں گے۔ فی الحال یہودیوں کے قبرستان کی حالت ِ زار اور وہاں کی قبروں پر لگے کتبوں کی بات کرتے ہیں۔

