Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»کراچی کے یہودی -(حصہ دوم)
    کالم

    کراچی کے یہودی -(حصہ دوم)

    اختر بلوچBy اختر بلوچمارچ 23, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ایک دن فیس بک پر ایک پاکستانی یہودی نوجوان نے ہمیں ایک طویل فہرست ارسال کی جس میں کراچی میں بسنے والے یہودیوں کے نام تھے اور وہ ان کی بابت جاننا چاہتے تھے، خصوصاً ان کی قبروں کے کتبوں کے حوالے سے۔ ہم نے اس سے صرفِ نظر کیا کیوں کہ ہمارا کام لکھنا ہے اور نشاندہی کرنا ہے،

    پاکستان میں خود کو یہودی بتانا تقریباً ناممکن سا کام ہے۔ یہودی ہونا اور اس کا اظہار کرنا بہت ہی مشکل عمل ہے۔ہم گزشتہ سطروں میں یہودیوں کی تاریخ لکھ چُکے ہیں لیکن اس کے بعد ہمارے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کا ذکر قارئین کے ساتھ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ یہودی گو کہ پاکستان سے ہجرت کرگئے اور ان میں سے بیشتر اسرائیل میں آباد ہیں، لیکن اب بھی وہ پاکستان کو اپنا وطن سمجھتے ہیں اور یہاں کے گلی کوچوں، مارکیٹوں اور بازاروں کو، اس کے علاوہ اپنے ہم جماعت دوستوں، پڑوسیوں ،جاننے والوں اور خاص طور پر پاکستان میں مدفون اپنے آباواجدادکو نم آنکھوں سے یاد کرتے ہیں۔ اس کا کچھ ذکر ہم اپنے بلاگ کے پہلے حصے میں محمد حنیف کے دورہ اسرائیل کے حوالے سے کرچکے ہیں۔میں پاکستانی یہودیوں کے لیے کچھ نہیں کرسکتا، خصوصاً ان کے قبرستانوں کے لیے، ہاں مگر جس طرح سبھی مذہبی برادریوں اور قومیتیوں اور ان کے تاریخی مقامات کے بارے میں لکھتا رہتا ہوں۔ویسے ہی ان کے بارے میں بھی لکھ سکتا ہوں۔

    ایک دن فیس بک پر ایک پاکستانی یہودی نوجوان نے ہمیں ایک طویل فہرست ارسال کی جس میں کراچی میں بسنے والے یہودیوں کے نام تھے اور وہ ان کی بابت جاننا چاہتے تھے، خصوصاً ان کی قبروں کے کتبوں کے حوالے سے۔ ہم نے اس سے صرفِ نظر کیا کیوں کہ ہمارا کام لکھنا ہے اور نشاندہی کرنا ہے، باقی کام ضروری نہیں کہ ہم ہی کریں۔ یہ ایک مذہبی، سماجی اور تاریخی ورثے کا معاملہ ہے اور ایسے ورثوں کی دیکھ بھال کے لیے ادارے موجود ہیں، لیکن یہ ایک الگ بات ہے کہ وہ یہودیوں کے قبرستان کو اس حوالے سے کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ خیر بات آئی گئی ہوگئی، لیکن ہماری حیرانگی کی اس وقت انتہا نہ رہی جب ہمیں ایک نامانوس نمبر سے ٹیلی فون کال موصول ہوئی۔ ہم ایک طویل عرصے سے پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق سے وابستہ ہیں اور انجان نمبرز سے آنے والی اکثر کالز موصول ہوتی ہیں۔ اس لیے ہم نے اپنا ایک اصول بنا لیا ہے کہ معلوم نمبر سے آنے والی کال وصول کریں یا نہ کریں ،لیکن نامعلوم نمبر سے آنے والی کال ضروروصول کرتے ہیں اور نہ کر پائیں تو جوابی کال ضرور کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ہمیں ایک کال موصول ہوئی۔ نمبر خاصا طویل تھا، لہٰذیہ سمجھ میں آنے والی بات تھی کہ یقیناً یہ پاکستان کا نمبر نہیں تھا۔ فون پر گفتگو یوں ہوئی۔
    س: کیسے ہیں؟
    ج: جی ٹھیک ہوں، مگرآپ کون؟
    س: ارے اختر بھائی میں ’ع‘
    ج: ع کون؟
    س: حضور آپ کا یونیورسٹی میں جونیئر تھا۔
    ج: ہاں یاد آیا… بولو خیر تو ہے؟
    س: یار وہ آپ نے یہودیوں کے قبرستان اور مسجد پر کچھ لکھا ہے، جس میں بیان کیا گیا ہے کہ قبرستان کی صورت حال خاصی خراب ہے۔
    ج: ہاں ہاں۔۔۔۔۔
    س: تو کیا اس قبرستان میں جھاڑیوں اور کچرے وغیرہ کی صفائی ہو سکتی ہے؟
    ج: کیوں نہیں۔
    س: تو آپ یہ کروا سکتے ہیں؟
    ج: (حیرانگی سے )میں کیسے کرواو
    س: یار !اختر بھائی کوشش تو کریں، پیسے آپ کو مل جائیں گے،باقی کام آپ خود کروا لیں۔
    ج: میں قبرستان کی نگران خاتون کے بیٹے کا نمبر بھیج دوں گا، تم خوداس سے بات کرو، وہ یہ کام کردے گا۔
    س: کیا یہ کام آپ نہیں کریں گے؟
    ج: یار سمجھا کرو، میں نہیں کرسکتا، ویسے ایک بات بتاو،اس قبرستان میں تمہاری دلچسپی کیاہے؟
    س: (زوردار قہقہہ لگاتے ہوئے) اختر بھائی ویسے تو لوگ تمہیں بہت ہی ہوشیار مورخ سمجھتے ہیں، جو سندھ اور خصوصاً کراچی میں بسنے والے غیر مسلموں کے بارے میں نا صرف تحقیق کرتا ہے بلکہ لکھتا بھی ہے، اور آپ کو میرا پتہ ہی نہیں۔
    ج: نہیں ،نہیں کچھ تو بتاو

    س: بھائی میں اور میرا ننھیال یہودی ہیں۔ میری نانی اسرائیل منتقل ہونے سے قبل آخری یہودی خاتون تھیں جو اس قبرستان کا خیال رکھتی تھیں۔ اگر یقین نہ آئے تو قبرستان کی نگران خاتون سے پوچھ لینا اور ہاں ،ایک قبرستان اور بھی ہے یہودیوں کا کراچی میں، وہ بھی ڈھونڈ نکالو تو پھر مزا آئے گا۔
    ج: یہ تو میں کر لوں گا لیکن یار بات ہضم نہیں ہو رہی۔
    س: اختر بھائی! آپ تو ریسرچ کے آدمی ہو، ڈھونڈو گے تو مل ہی جائے گا۔ اچھا کم از کم اتنا تو کر دیں کہ کچھ قبروں کی تصویریں ہی بھیج دیں ،تاکہ وہ میں اپنی کمیونٹی کے ساتھ شیئر کر سکوں، شاید ان قبروں میں ان کے پیاروں کی قبریں بھی ہوں۔ اگر وہ پاکستان نہیں آسکتے تو کیا ہوا ،کم از کم ان کے کسی رشتے دار کے کتبے کی تصویر ان کے لیے ایک یادگار ہوگی جسے وہ محفوظ کر سکتے ہیں۔“
    اس تمام گفتگو کے بعد ایک بار پھریہودی قبرستان جانے کا موقع ملا، چوں کہ وقت کم تھا اس لیے میں نے کچھ قبروں کے کتبوں کی تصویریں بنا لیں ،جو میں نے اپنے دوست کو بھیج دیں۔ ان کے کتبے آپ کی خدمت میں بھی حاضر ہیں۔ اور ہاں میں ایک اور یہودی قبرستان بھی گیا تھا ،لیکن اس میں قبروں کے کتبے نہیں ہیں۔ اس قبرستان کا ذکر پھر کسی بلاگ میں کریں گے۔ فی الحال یہودیوں کے قبرستان کی حالت ِ زار اور وہاں کی قبروں پر لگے کتبوں کی بات کرتے ہیں۔

    یہودیوں کی قبروں پر لگے ہوئے کتبوں کے بارے میں ایک دلچسپ بات ہمیں اپنے بھتیجے محسن سومرو نے بتائی کہ ان کتبوں پر صرف عمر نہیں لکھی ہوتی بلکہ مہینے اور دن بھی لکھے ہوتے ہیں۔ یہ ایک اور دلچسپ چیز تھی۔ مثلاً ایک کتبے پر تحریر ہے کہ:
    موزس سولومن میدھیکر
    سنِ پیدائش 12 نومبر 1855
    عمر 70 سال 11 مہینے 5 دن
    انتقال 17 اکتوبر 1926
    یہودیوں کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ وہ صرف کراچی تک محدود تھے، لیکن یہودی قبرستان کے ایک کتبے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر شہروں میں بھی خدمات انجام دیتے تھے۔ ایک قبر حیدرآباد کے سول اسپتال میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر ایلیزر جیکب بھوراپکر کی بھی ہے، جن کا سالِ پیدائش 1850 اور وفات 1922 کی ہے ۔اسی طرح ایک قبر کراچی کی یہودی برادری کے نائب صدر ابراہام ریوبن کمار لیکر کی بھی ہے۔ پاکستان میں یہودیوں کی موجودگی اور پھر اچانک پراسرار طور پر غائب ہوجانے کے حوالے سے بہت سی کہانیاں گردش میں ہیں۔ ان میں سے کچھ اس طرح ہیں کہ یہودی اب بھی کراچی میں آباد ہیں لیکن، انھوں نے اپنے تحفظ کی خاطر مذہب تبدیل کر لیا ہے، چوں کہ کراچی کا میوہ شاہ قبرستان سب سے بڑا قبرستان ہے، اس قبرستان میں بوہری، سلیمانی بوہری، کچھی، بلوچ اور دیگر برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے جدا ،جدا قبرستان ہیں اور وہ خواتین جو ان قبرستانوں میں فاتحہ کے لیے آتی ہیں وہ بہانے بہانے سے یہودی قبرستان میں داخل ہو جاتی ہیں اور اپنے پیاروں کی قبروں کا دیدار کرتی ہیں۔
    ہمیں اس موقعے پر اردو کے مشہور شاعر ندا فاضلی کا ایک شعر یاد آرہا ہے۔
    مرنے والوں سے رابطہ رکھنا
    دوستو رسمِ فاتحہ رکھنا

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleکیا اقبال اجتہاد کو امت کے لئے خطرہ سمجھتے تھے ؟
    Next Article کراچی کے یہودی(حصہ اوّل)
    اختر بلوچ

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by