Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»16 دسمبر کا قرض
    رواں تبصرے

    16 دسمبر کا قرض

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتدسمبر 16, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    آج آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کے پانچ سال پورے ہوگئے ہیں جس میں 150 کے قریب بچے نہایت سفاکی کے ساتھ شہید کردیے گئے تھے۔

    پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ نقصان اُٹھایا اور اس عفریت نے ہزاروں شہریوں کی جانیں بھی نگلیں لیکن 2014ء کا حملہ ایسا سیاہ دن ہے جس کے گھاؤ کبھی مندمل نہیں ہوپائیں گے۔ یہ ملک کے ہر باسی کو گہرے دکھ کے احساس میں مبتلا رکھتا ہے اور ڈیڑھ سو خاندانوں پر ہر صبح سکول کا وقت ایک قیامت بن کر گزرتا ہے۔

    اس سانحے کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نیا موڑ شروع ہوا، شدت پسندی کے حوالے سے سماج میں موجود تقسیم ختم ہوئی اور پوری قوم اس کے خلاف متحد ہوئی۔ سکیورٹی و سول اداروں نے مل کر کچھ بڑے اقدامات اٹھائے جس کے نتیجے میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی۔ اس کا خطرہ تو ختم نہیں ہوا لیکن اس عنصر کا دائرہ محدود کردیا گیا ہے جس کے نتیجے میں قدرے استحکام آیا۔

    اے پی سی کا واقعہ ریاست پر اور ہم سب شہریوں پر بطور قوم ایک قرض رکھتا ہے۔ یہ ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ اس سرزمین سے تشدد کے تمام بیج ختم ہوں اور یہ امن کی مثال بنے۔ ملک سے مسلح دہشت گردی کا خطرہ تو محدود کردیا گیا ہے لیکن شدت پسندی کی فکر ابھی تک مضبوطی سے قائم ہے۔ فرقہ واریت آزاد ہے، اقلیتوں سے زیادتی ہو رہی ہے، سماج میں ایک دوسرے کے خلاف عدم برداشت بڑھ رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جس طرح سکول سانحے کے بعد دہشت گردی کے خلاف دوٹوک موقف اپنایا گیا اسی طرح تشدد کی ہر قسم کے خلاف صف آراء ہوا جائے۔

    یہ سانحہ اس بات کا تقاضا بھی کرتا ہے کہ ریاست وہ غلطیاں دوبارہ نہ دہرائے جس کا انجام اس طرح کے گھاؤ کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ ہم سب شہریوں کی ذمہ داری بھی ہے کہ ہم ہر صبح یہ عہد کریں کہ تشدد کی کسی شکل کا حصہ نہیں بنیں گے اور اپنے آس پاس کو پرامن بنانے کے لیے کوشش بروئے کار لاتے رہیں گے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleلبرل آرٹس کی تعلیم ناگزیر ہے
    Next Article پاکستان کیسے ٹوٹا؟ میر غوث بخش بزنجو کی آپ بیتی
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by