Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»آئیڈیالوجیکل بیانیوں کی بجائے انسانی حقوق کی زبان کو فروغ دینے کی ضرورت
    رواں تبصرے

    آئیڈیالوجیکل بیانیوں کی بجائے انسانی حقوق کی زبان کو فروغ دینے کی ضرورت

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتدسمبر 10, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read0 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    آج 10 دسمبر کو دنیا میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ آج کے دن تمام ممالک میں سرکاری و نجی سطح پر حقوق کے حوالے سے آگہی کے فروغ کے لیے سیمینارز منعقد کیے جاتے ہیں اور انسانی خوشحالی، رواداری اور یکساں مواقع کی فراہمی کا عزم کیا جاتا ہے۔

    پاکستان کی تحریک آزادی کا بنیادی سبب انسانی حقوق کی پامالی تھی جس کا مسلم طبقے کو سامنا تھا، اس اساس پر ایک الگ ملک وجود میں آیا، لیکن جیسے جیسے ہم آگے کی جانب سفر کرتے گئے ہیں انسانی حقوق کا مسئلہ ملک کا سب سے بڑا بحران بن گیا ہے۔ ہمارا سماجی، سیاسی و مذہبی ڈھانچہ نہ صرف شکست وریخت کا شکار ہے بلکہ اس کا عملی کردار مثبت و تعمیری کی بجائے منفی ہے۔ تقسیم، جبر اور نفرت کا بیانیہ ملک کے اندر امن و رواداری کو متأثر کر رہا ہے اور خوشحالی وترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

    یہ درست ہے کہ انسانی حقوق کے بحران کے حوالے سے دنیا میں پاکستان کوئی استثنائی حیثیت نہیں رکھتا، تاہم ہمارے ہاں صرف یہ بحران ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس پر کنفیوژن کا ہونا اور غبارآلود صورتحال کا پیدا کیا جانا زیادہ سنگین معاملہ ہے۔ سماج کی اکثریت انسانی حقوق کے بارے میں واضح تصورات نہیں رکھتی۔ اس کنفیوژن کے ماحول کو جنم دینے کا ذمہ دار کوئی ایک حلقہ نہیں ہے بلکہ انتظامیہ، سیاستدان، عدالتیں، تعلیمی درسگاہیں، سب یہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ مخمصہ حقوق کی ہر آواز کو آسانی سے خاموش کرادینے میں معاونت کرتا ہے اور مجموعی طور پہ سماج کو اپنے حقوق سے دستبردار ہوجانے پر بھی آمادہ کرتا ہے۔ یہ تسلسل جس نوعیت کی معاشرتی، سیاسی و معاشی پیچیدگیاں پیدا کررہا ہے وہ بہت خطرناک ہے۔

    پاکستان میں حقوق کے حوالے سے اظہار رائے پر قدغن، معاشی عدم مساوات، مذہبی غیررواداری، خواتین کی مشکلات اور بچوں کے مسائل سرفہرست ہیں۔ بالخصوص پچھلے چند ماہ سے بچوں کے ساتھ زیادتی اور ان کے قتل کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جس پر کوئی ٹھوس اقدامات اب تک نہیں اٹھائے گئے۔ رواں سال یونیسف کے اشتراک سے حکومت کی طرف سے تیارکردہ رپورٹ کے مطابق ملک میں بچوں کی ایک بڑی تعداد کسی یقینی تحفظ کے بغیر زندگی گزارتی ہے۔ عسکری آپریشنز والے اور شورش زدہ علاقوں میں یتیمی، معذوری اور تنگدستی کا شکار بچوں کا ترجیحاََ ریاستی توجہ وسرپرستی کی ضرورت ہے۔

    اپنے تمام بنیادی مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ ہم معاشرے کو آئیڈیالوجیکل بیانیوں کے ماحول سے نکال کر کنفیوژن کا خاتمہ کریں اور انسانی حقوق کی زبان کو فروغ دے سکیں۔ اس فضا کی تبدیلی کے بغیر پرامن ترقی یافتہ معاشرے کا خواب ایک خواب رہے گا۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمساویانہ حقوق کے لیے دستوری و قانونی پیش رفت اور ثمرات سے محروم عوام
    Next Article بھارت سے جیتنے کا وقت آن پہنچا ہے
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by