Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»سندھ میں کاروکاری کے بڑھتے واقعات: کیا یہ ظلم میں شمار نہیں ہوتے؟
    رواں تبصرے

    سندھ میں کاروکاری کے بڑھتے واقعات: کیا یہ ظلم میں شمار نہیں ہوتے؟

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتدسمبر 1, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    گزشتہ روز سندھ کے ضلع دادو میں علاقے کے بااثر افراد نے جرگے کے فیصلے میں 14 سالہ گل سما کو کاری قرار دے کر سنگسار کرادیا اور اسے ایک حادثہ قرار دے کر تدفین کردی۔

    سندھ میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں ہرسال اضافہ ہورہا ہے۔ سماجی کارکن عائشہ دھریجو کے مطابق رواں سال جنوری سے اب تک کاروکاری سے اور رشتے داروں کے ہاتھوں صوبے میں ایک سو اُنتالیس مرد و خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا جاچکا ہے۔ ان میں سے کاروکاری کے ذریعے قتل کیے جانے والوں کی تعداد 79 ہے۔ جن میں پچاس خواتین اور اُنتیس مرد شامل ہیں۔ ان واقعات میں سے اکثر کی پولیس کو رپورٹ درج کرائی گئی ہے لیکن زیادہ تر کے مقدمات کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچے۔

    قومی اسمبلی سے غیرت کے نام پر قتل کے خلاف بِل منظور کیا جاچکا ہے اور سندھ ہائی کورٹ بھی جرگوں میں ہونے والے فیصلوں کو غیرقانونی قرار دے چکی ہے اس کے باوجود سندھ میں بالخصوص یہ رسم اب تک جاری ہے۔ اس کی وجہ ان قوانین پر عملدآمد نہ ہونا اور خواتین کو سرکاری سرپرستی نہ ملنا ہے۔ سندھ کے سماجی کارکنان کہتے ہیں کہ یہ رسم اب دیہی علاقوں میں سماجی روایت کے بطور ناقابل قبول سمجھی جاتی ہے، اس کے پیچھے دراصل دشمنی اور بااثر افراد کا جبر ہوتا ہے جن کے باعث ایسے واقعات رُونما ہوتے ہیں۔ ان واقعات میں درج کردہ مقدمات میں پیش رفت نہ ہونے کی وجہ جہاں جرگے کی بااثر شخصیات کا انتظامیہ پر دباؤ ہوتا ہے وہیں اس کے ساتھ بعض اہل خانہ کا قتل کو معاف کردینا اور خواتین کے  تحفظ کے لیے معتمد و معاون شیلٹر ہاؤسز کا نہ ہونا بھی ہے۔

    اس طرح کے غیرانسانی واقعات کی روک تھام حکومت اور عدلیہ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اس کے لیے دیہی علاقوں میں سنجیدہ آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل بھی غیرت کے نام پر قتل کے خلاف فتویٰ دے چکی ہے، متأثرہ علاقوں کے علما کی تربیت کرکے ان کے ذریعے بھی اس ناروا عمل کی روک تھام میں مدد لی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ مددگار ہیلپ لائن نے سپریم کورٹ میں یہ درخواست دائر کی تھی کہ وہ ازخود نوٹس لے کر پولیس سے کاروکاری کے مقدمات میں پیش رفت کی رپورٹ طلب کرے، اور یہ کہ اس طرح کے مقدمات کودہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کیا جانا چاہیے، لیکن عدالت اب تک خاموش ہے۔ عدالتوں کو چاہیے کہ وہ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ہونے والے ظلم پر بھی ترجیحی سطح پر یکساں توجہ دیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleآج کا استشراق ماضی سے کیسے مختلف ہے؟
    Next Article نوجوانوں کا مسئلہ اور مقتدر اشرافیہ کے مفادات
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by