Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»بلوچستان سے ہجرت کرتی اقلیتیں
    کالم

    بلوچستان سے ہجرت کرتی اقلیتیں

    گہرام اسلم بلوچBy گہرام اسلم بلوچستمبر 24, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    بلوچستان ملک کا وہ صوبہ بن چکا ہے کہ یہاں سے اقلیتی برادری کی ہجرت کرنے کی تعداد شاید باقی صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔1990 تک حالات کافی اچھے تھے۔ ایک ہی خاندان کے اندر مختلف مذہبی وفکری رجحان رکھنے والے افراد ساتھ میں رہتے تھے۔ لیکن اس کے بعد معاملات بدل گئے۔ شاید اس لیے کہ پچھلے دس سالوں کے اندر ایک ایسی فضا کی تیاری کی گئی تھی جس کے نتائج غیرمتوقع نہیں تھے۔

    اب صورتحال یہ ہے کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے پیش کیے گئے اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ دس برسوں کے اندر بلوچستان سے مذہبی اور لسانی حوالے سے اقلیت شمار کیے جانے والے 3 لاکھ افراد ہجرت کر گئے ہیں۔ اسے یوں بھی کہہ لیں کہ وہ ہم سے رُوٹھ گئے ہیں۔ ذمہ دار کون ہے؟ شاید ہم سب ہوں، اور شاید کہ ہمارا اتنا قصور نہ بھی ہو کہ اس ماحول میں جو نسل پروان چڑھی ہے اور جو تعلیم وتربیت اس نے پائی ہے اس کے مطابق کسی کی طرف انگلی اٹھانا اور اس کا گریبان پکڑنا بھی عجیب لگتا ہے۔ ہم جس سانچے میں ڈھالے گئے ہیں اس میں محبت اور رواداری کی جگہ تھی ہی نہیں۔

    صوبے کے حکومتی ذمہ داران کہتے ہیں کہ یہاں سے اقلیتی برادری نے ہجرت تو کی ہے لیکن اس کی تعداد اتنی نہیں جتنی بیان کی جارہی ہے۔ اعدادوشمار کا کیا ہے۔ کیا فرق پڑتا ہے کہ صدیوں کے باسی اپنی زمین، گھر اور کاروبار چھوڑ کر جانے والے ایک لاکھ ہیں تین لاکھ۔ یہ تو مگر واضح ہے کہ ہم نے کچھ اپنوں کو غیر قرار دیدیا۔ بلوچستان کی حالت تو اب ایسی ہے کہ یہاں بلوچ بھی مشکل میں ہیں۔ کون کس کا دشمن ہے اور کب سے بن گیا ہے کچھ پتہ نہیں چلتا۔ 90 ہزار پنجابی اور اُرو بولنے والے بھی پچھلے دس سالوں میں یہاں سے ہجرت کرگئے۔ دس ہزار ہندو برادری کے لوگ اغوا اور قتل کے حادثوں سے ڈر کر بھاگ گئے۔ 4 ہزار ذِکری اور 3 سو پارسی خاندان کراچی اور ملک کے دیگر صوبوں کے شہروں میں منتقل ہوگئے۔

    اقلیتی طبقے کے بہت سارے نوجوان اچھے کھلاڑی ہیں لیکن کسی ٹیم میں ان کی کوئی جگہ نہیں

    کوئٹہ میں مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن انیل غوری سے اس مسئلے پر بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں ہمارے قبرستان پر بااثر افراد نے قبضہ جما رکھا ہے۔ کیا آپ اس تکلیف کا اندزہ لگا سکتے ہیں کہ کسی طبقے کو مردے دفنانے کے لیے بھی روک کا سامنا ہو۔ انتظامیہ ہمارے ساتھ جانبدارانہ رویہ رکھتی ہے۔ ہمیں ڈومیسائل بنوانے کے لیے سخت دشواری جھیلنی پڑتی ہے۔ اپنی زمین سے اپنا صدیوں پرانا تعلق ثابت کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ ہم کس کے پاس شکایت لے کر جائیں۔ ہمارے پاس مسائل کا ایک انبار ہے لیکن پورے ملک میں ایک ایسا پلیٹ فارم بھی میسر نہیں جہاں ہماری شنوائی ہوسکے۔ ہمارے نوجوانوں کو تعلیم صحت اور کھیل کے شعبوں میں سب سے زیادہ امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ بہت سارے اقلیتی طبقے کے نوجوان اچھے کھلاڑی ہیں لیکن کسی ٹیم میں ان کی کوئی جگہ نہیں۔

    مذہبی اقلیت میں سے سب سے زیادہ ہجرت کرنے والا طبقہ ہندو برادری کا ہے۔ ماضی قریب میں میں ان میں اغوا برائے تاوان کا رجحان بکثرت دیکھنے کو ملا ہے۔ متعدد ہندو وکلا، ڈاکٹر اور کاروباری شخصیات کو جبری غائب کیا گیا اور بدلے میں بڑی رقم کا مطالبہ ہوتا۔ اگرچہ اس رجحان میں کمی آئی ہے لیکن یہ سلسلہ اب بھی مکمل ختم نہیں ہوا۔ اس مشکل سے تنگ آکر وہ صوبہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ ہزارہ برادری پر مسلسل حملوں نے اس کے کئی خاندانوں کو ملک سے باہر نکلنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں چھوڑا۔ بجائے اس کے کہ اقلیت کو سیاست اور ملازمتوں میں تجوز کیے گئے کوٹے کے مطابق سہولیات فراہم کی جاتیں، اُلٹا ان کی روزمرہ کی عام زندگی کا سکون بھی متأثر ہو رہا ہے اور وہ غیر محفوظ ہوگئے ہیں۔

    چند روز قبل چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اخترحسین  کہہ رہے تھے کہ ہم بلوچستان کی اقلیتی برادری کی فلاح وبہبود کے لیے کام کریں گے۔ انہوں نے کوئٹہ کی کرسچن کالونی میں بات کرتے ہوئے عہد کیا کہ وہ ان کی پراپرٹی اور جان کی حفاظت کے لیے اقدامات اٹھانے کے لیے حکومت سے درخواست کریں گے۔ اقلیتی برادری بلوچستان کے سیاسی و قبائلی نظام کا اٹوٹ حصہ ہے، ہم قانونی و آئینی طور پر ان کی ترقی، تحفظ اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے پابند ہیں۔ اسی طرح کی باتیں وزیراعلیٰ نے ہندو پنچایت میں بھی کہیں۔ ایسے وعدوں معاہدوں سے اقلیتی برادری کو خوش تو کردیا جاتا ہے کہ ممکن ہے حالات میں تبدیلی آئے لیکن اگر نہ آئی تو وعدہ خلافیوں کا سیلاب ان کی امیدوں اور اعتماد کو ہمیشہ کی طرح بہا نہیں لے جائے گا؟

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleشدت پسندی کے خلیوں کو نظرانداز کرنے کی روِش
    Next Article تقسیم ہند کے فسادات اور بھیشم ساہنی کا ناول تمس
    گہرام اسلم بلوچ

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by