Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»پولیس ٹارچر: پاکستان کے سیاسی استبداد کا چہرہ
    کالم

    پولیس ٹارچر: پاکستان کے سیاسی استبداد کا چہرہ

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتستمبر 20, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔12 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    تقریباََ ایک دہائی قبل، مارچ 2010 میں چنیوٹ میں ہونے والے ایک پولیس تشدد کے واقعے کے بعد اخبارات کئی دنوں تک مسلسل اس پر تبصروں سے بھرے ہوئے ہوتے تھے۔ کچھ ملزمان کو گرفتار کرنے کے بعد انہیں برہنہ کرکے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اور ان کی تذلیل کی گئی۔ یہ سب پولیس اسٹیشن کے سامنے سرعام ہوا۔

    اس واقعے کی ویڈیوز نے عوام میں بے چینی پیدا کی اور وہ سراپا احتجاج بن گئے۔ نتیجے میں سوموٹو ایکشن لیا گیا۔ سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو حکم جاری کیا کہ صوبے میں پولیس کے ماتحت چلنے والے تمام ٹارچر سیلز بند کیے جائیں۔ اس شعبے کے اہلکاروں کی تربیت کے حوالے سے مؤثر اصلاحات کی جائیں، سخت ضابطہ کار نافذ کیے جائیں اور انسپیکٹر جنرل سمیت سب پولیس افسروں کو ادارے میں میں ہونے والے ہر غیرقانونی عمل کا جوابدہ بنایا جائے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق صرف لاہور میں پولیس اسٹیشنوں کے احاطوں سے باہر ڈیڑھ سو کے قریب ٹاچرسیل موجود تھے جنہیں پنجاب پولیس کے اہلکار جلا رہے تھے، جہاں شہریوں پر تشدد کے پانچ مختلف طریقے آزمائے جاتے تھے۔ زدوکوب، صحت پر کوئی سخت منفی اثر ڈالنا، بے خوابی پر مجبور کرنا، نفسیاتی اذیت اور عزت نفس مجروح کرنے اور تذلیل کے ہتھکنڈے استعمال کرنا۔

    پولیس کے اخلاقی دیوالیے پر سوالات اٹھائے گئے اور بہت  تنقید کی گئی۔ اس وقت پنجاب پولیس کے انسپیکٹر جنرل نے اعتراف کیا تھا کہ لوگ بھارتی فوج سے زیادہ ہم سے نفرت کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے افسر موصوف کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ ’اپنی پولیس فورس کو ہدایات دیں کہ وہ کسی غیرقانونی حکم کی تعمیل نہ کرے‘۔ انہوں نے اپنے ماتحت عملے کو نوٹس جاری کیا کہ وہ تفتیش کے لیے سائنسی اور جدید طریقوں کا استعمال کریں۔ چنیوٹ واقعے میں ملوث اسٹیشن کے ہاؤس آفیسر سمیت نچلے درجے کے کچھ اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا تھا اور سپریٹینڈینٹ کو معطل کردیاگیا۔

    شاید یہ سب آپ کے لیے اب بھی نیا نہ ہو، کیونکہ سلسلہ تھما نہیں ہے۔

    چنیوٹ واقعے کے صرف ایک سال بعد اگست 2011 میں سیالکوٹ کی سڑکوں پر دوبھائیوں کو سرعام تشدد کرکے مار دیاگیا تھا۔ تماشائیوں میں پولیس والے بھی شامل تھے۔ اس کے چند ماہ بعد خبر آئی کہ لاہور کے کرائم انویسٹیگیشن ہیڈکوارٹر میں ایک ٹارچر سیل قائم کیاگیا ہے جہاں شہریوں پر تشدد ہوتا ہے۔ 2018 میں لاہور کے قریب واقع نجی ٹارچر سیل میں ایک نوجوان کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پولیس نے اس کی ویڈیو بھی بنائی۔

    ابھی اِسی ستمبر کے شرع میں پولیس تحویل میں صلاح الدین، امجد علی اور عامرمسیح کی اموات کی خبریں ہم سن اور دیکھ چکے ہیں۔

    گزشتہ برس ایڈوکیٹ جویریہ یونس نے پاکستان کے پانچ بڑے شہروں میں ٹارچر سے متأثرہ افراد سمیت وکلاء، سماجی کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے بعض اہلکاروں سے بات کرکے ایک سروے مرتب کیا تھا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ تشدد کو تفتیش کے دوران اعترافی بیان اگلوانے کے لیے تو استعمال کیا ہی جاتا ہے لیکن اس کو ریاست کی جانب سے بھی اس طور حوصلہ افزائی میسر ہے کہ وہ اسے اپنی رِٹ قائم کرنے کا ایک کارگر وسیلہ خیال کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس افسران اور عوام یہ شکایت کرتے پائے جاتے ہیں کہ اس شعبے میں اصلاحات اور اسے مہذب بنانے میں سیاسی اشرافیہ بڑی رکاوٹ ہے۔

    تفتیشی عمل کے دوران اعترافی بیان اگلوانے کا ذریعہ ہونے کے علاوہ پولیس ٹارچر کو ریاست اپنی رِٹ قائم کرنے کا کارگر وسیلہ بھی خیال کرتی ہے

    مددگار ہیلپ لائن کی 2008 کی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اس سال صرف چھ ماہ کے اندر پولیس تحویل میں ٹارچر کے 743 کیس سامنے آئے تھے جن میں سب سے زیادہ (406) پنجاب میں اور اس کے بعد (304) سندھ میں پیش آئے۔

    پاکستان کا پینل کوڈ تفتیشی عمل کے دوران اعترافی بیان کے حصول کی خاطر کسی شہری کو ’’تکلیف‘‘ دینے سے منع کرتا ہے(واضح رہے کہ اس میں تشدد اور ٹارچر کا لفظ استعمال نہیں ہوا)۔ آئین کا آرٹیکل 14(2) پولیس اور ریاستی تحویل کے دوران تشدد کے استعمال کی اجازت نہیں دیتا۔ آئین کا آرٹیکل 10بغیر کسی معقول و ٹھوس وجہ کے گرفتاری اور حراست میں رکھنے پر پابندی عائد کرتا ہے۔ کریمنل پروسیجر کوڈ کا سیکشن 176 مطالبہ کرتا ہے کہ اگر تحویل میں کسی کی موت واقع ہوجائے تو اس معاملے کی شفاف انکوائری کی جائے گی۔ لیکن پاکستان میں کتنی اور کس طرح کی انکوائری ہوتی ہے اس کا ہر شہری علم رکھتا ہے۔

    ’جسٹس پروجیکٹ پاکستان‘ کی ڈائریکٹر سارہ بلال اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ٹارچر کو باقاعدہ قومی اسمبلی سے جرم اور غیرقانونی قرار دلوایا جائے۔ 2014میں ایک بِل اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا لیکن ابھی تک پاس نہیں ہوا۔ 2015 میں تشدد، تحویل کے اندر موت یا جنسی زیادتی سے متعلقہ ایک قانون سینٹ سے منظور ہوا ہے۔

    جب پولیس ٹارچر کی بات ہوتی ہے تو کالونیل عہد کے ساتھ اس کا ربط بھی زیربحث آتا ہے۔ 1855میں ’مدراس ٹارچر کمیشن‘ نے چار سو صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ تیار کی تھی جس میں یہ بھی بیان کیاگیا تھا کہ متعلقہ ذمہ داران وافسران کس طرح محصول جمع کرنے کے دوران غریبوں کے ساتھ طاقت کا غلط اور بدترین استعمال کرتے ہیں۔ باوجودیکہ ٹارچر کمیشن نے اس معاملے میں انکوائری کی تھی اور اس کے ساتھ اصلاحات کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی تھیں، اس شعبے میں زیادتیوں کا تسلسل ختم نہیں ہوا۔

    انوپما راؤ نے اپنی تحقیق ’کالونیل عہد کے انڈیا میں ٹارچر کی روایت‘ میں اس پر بھی روشنی ڈالی ہے کہ کیسے اس مرحلے کے اختتام کے بعد جب زمام اقتدار یہاں کی اشرافیہ کو منتقل ہوئی تو اس نے استعماری افواج اور پولیس پر لگے الزامات اور اس حوالے سے تمام تحفظات کو یکسر نظرانداز کردیا اور اس نوع کے ٹارچر کو مقامی سزاؤں کی روایت کا جزو قرار دیا۔

    اس محکمے میں ہونے والی زیادتیوں کی ذمہ داری پولیس افسران اور سیاستدانوں پر نہیں آنے دی جاتی۔ اس کو کالونیل عہد سے جوڑ دیا جاتا ہے اور موجودہ سیاسی و ادارتی کوتاہیاں جن کی وجہ سے یہ تسلسل برقرار ہے اس پر سوال نہیں اٹھایا جاتا۔

    ہمیں آزادی حاصل کیے ہوئے سات دہائیاں بیت گئی ہیں لیکن استعماری انتظامی ڈھانچہ نہیں بدلا جاسکا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کالونیل عہد کے قوانین موجودہ سیاسی، سماجی اور عسکری اسٹیبلشمنٹ کے ڈھانچے سے مطابقت رکھتے ہیں؟ شاید اِن کے مفادات کا تحفظ اسی پرانے نظام کو باقی رکھنے میں ہو۔ ادارہ جاتی اصلاحات میں اتنے بڑے خلا چھوڑنے، موجود قوانین کی تنفیذ سے انحراف اور نظام انصاف کو ایک صحت مند و مرتب قاعدے کے تحت نہ چلانے کی کوئی اور توجیہہ اس کے علاوہ ممکن ہے؟

    اس محکمے میں طاقت کا بے قابو اور مہلک استعمال کئی اور سوالات بھی پیدا کرتا ہے۔  نوے کی دہائی میں اس وقت کے وزیرداخلہ جنرل (ر) نصیراللہ بابر نے پروپیگنڈے کے ذریعے یہ تصور مقبول بنادیا تھا کہ ’’تشدد کا مقابلہ تشدد سے کیا جانا چاہیے‘‘۔ اس تصور میں نہ صرف یہ کہ نصیراللہ بابر کے ملٹری پس منظر کی جھلک نظر آتی ہے، بلکہ اس سے پولیس تشدد کے حوالے سے استعماری دور اور آزادی کے بعد کے مرحلے کے مابین مماثلت بھی محسوس ہوتی ہے۔

    تشدد کا مقابلہ تشدد سے کرنے کا نظریہ ہماری انتظامی پالیسی کا جزو ہے۔ نوے کی دہائی میں متحدہ قومی موومنٹ اور سندھ پولیس ایک دوسرے کے مخالفین کو قید کرکے معلومات حاصل کرنے کے لیے بدترین ٹارچر کا اسعمال کرتے تھے۔ تب کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کے ٹارچر سیلز میں جو سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے بنائے گئے تھے، ’چیرے‘ کی اصطلاح مشہور ہوئی تھی۔ یہ مخصوص پولیس اہلکاروں کے ذریعے کسی کو انتہائی اذہیت دینے کا طریقہ تھا۔ دو آدمی ایک جھٹکے سے یا آہستہ آہستہ اس کی ٹانگوں کو مخالف سمت میں کھینچ کر دھڑ کے دو ٹکڑے کردیتے۔ اس کے مقابلے میں ایم کیو ایم نے بھی اپنے نجی ٹارچر سیل بنا رکھے تھے جن میں پولیس اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے مشتبہ جاسوسوں کو اپنے طریقے سے سزائیں دی جاتی تھیں۔ ’بوری بند لاش‘ اس کی دہشت کا ایک نمونہ تھا۔

    کراچی میں انسانی حقوق کا بحران جس نے ٹارچر، تحویل میں اموات، جبری گمشدگیوں اور سیاسی مخالفین کو دہشت گرد قرار دے کر قتل کرنے سے جنم لیا تھا وہ 2013 میں شروع ہونے والے آپریشن میں بھی کاؤنٹر ٹیررزم کے نام پر باقی نظر آیا۔ انسانی حقوق کے اس بحران کو پروٹیکشن آف پاکستان ایکٹ 2014 اور 1997 کے اینٹی ٹیررزم ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے جزوی طور پہ قانونی بھی بنا دیاگیا ہے۔

    کراچی میں انسانی حقوق کا بحران جس نے ٹارچر، تحویل میں اموات، جبری گمشدگیوں اور سیاسی مخالفین کو دہشت گرد قرار دے کر قتل کرنے سے جنم لیا تھا وہ 2013 میں شروع ہونے والے آپریشن میں بھی کاؤنٹر ٹیررزم کے نام پر باقی نظر آیا۔ انسانی حقوق کے اس بحران کو پروٹیکشن آف پاکستان ایکٹ 2014 اور 1997 کے اینٹی ٹیررزم ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے جزوی طور پہ قانونی بھی بنا دیاگیا ہے

    پولیس تشدد اور اس کے اسباب کے حوالے سے متعدد تحقیقاتی صحافیوں نے رپورٹس تیار کی ہیں۔ دو ہزار دس کے چنیوٹ واقعے کے بعد پنجاب پولیس کے ایک ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ نے ایک صحافی کو انٹرویو میں بتایا، عوامی مقامات پر تشدد کرنے سے لوگوں میں محکمے کی دھاک بیٹھتی ہے اور آپ میرا یقین کریں کہ 80 فیصد جرائم اسی طرح کنٹرول ہوجاتے ہیں۔ نچلے درجے ایسے اہلکار جو ٹارچر کے بہت گھٹیا طریقے استعمال کرنے میں مشہور ہوتے ہیں وہ اعلیٰ افسران کی نظروں میں مقبول ہوتے ہیں۔ انہیں اکثر مجرموں اور جرائم کو کنٹرول کرنے کے لیے انویسٹی گیشن آفیسر تعینات کردیا جاتا ہے۔

    اسی طرح وہ پولیس اہلکار و افسران بھی سیاستدانوں کے قریب ہوتے ہیں جو ان کے سیاسی ایجنڈے کے تحت تشدد کے استعمال کے لیے راضی ہوتے ہیں۔ تحقیقاتی مواد سے نہ صرف پولیس افسران کے تشدد کی فضا پیدا کرنے میں ملوث ہونے کا پتہ چلتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جرم، سیاست اور پولیس کے مابین مضبوط گٹھ جوڑ قائم ہے۔

    ابھی حال ہی میں لیاری گینگ وار کیس میں شواہد سے ثابت ہوا تھا کہ ان کی سیاسی جماعتوں سے وابستگی ہوتی ہے۔ گینگ لیڈرز یہ تک طے کرنے کے مجاز تھے کہ لیاری کے تھانوں میں کونسے پولیس آفیسر تعینات ہوں گے۔ حریف گینگ کے ارکان کو ٹارچر کرنے یا انہیں قتل کرنے کے لیے اہلکاروں کا انتخاب بھی وہی کرتے تھے۔

    2015 میں سندھ کے ایک سینیئر پولیس افسر نے سرعام ’ہاف فرائی اور فُل فرائی‘ کی تھانہ جاتی اصطلاح استعمال کی تھی۔ یہ محکمے کے اذیت ناک پہلو کو واضح کرتی ہے۔ ہاف فرائی کا مطلب پولیس تحویل میں ٹارچر اور فُل فرائی سے مراد ماورا عدالتی قتل ہے۔ ماورا عدالتی قتل جواز کی حیثیت رکھتا ہے۔ مذکورہ افسر کے الفاظ میں ’’اگرچہ ماورا عدالتی قتل قانونی طور پہ ٹھیک نہیں لیکن کیا کریں جرائم کی روک تھام اور گلی محلوں کو محفوظ بنانے کے لیے معاشرہ اسی طرح کی زبان کو سمجھتا ہے۔۔۔آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پولیس نے اسی طریقے کو استعمال میں لاتے ہوئے شہر کے امن کو بحال کردیا ہے‘‘۔ یہ بیان کراچی کے حالیہ اور ماضی میں نوے کی دہائی میں ہونے والے آپریشن کے دوران ہونے والی ماورائے قانون زیادتیوں کا جواز گھڑنے والی ذہنیت کا عکاس ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پولیس آفیسرز اور معاشرے کے کئی دیگر افراد ایسی زیادتیوں کا نہ یہ کہ جائز، بلکہ ضروی خیال کرتے ہیں۔ ان کے ہاں قانونی نہیں تو کم ازکم اخلاقی حیثت یہی ہے۔ چوہدری اسلم اور راؤ انوار اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔

    پاکستان میں اس قضیے پر ہونے والی تحقیق سے پولیس تشدد کے حجم کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ 2008 کی ایک ریسرچ میں سامنے آیا کہ لاہور شہر میں سرجن میڈیکو لیگل میں پولیس ٹارچر سے متأثرہ 1800 شہری زیرعلاج ہیں۔ ان میں زیادہ تر تعداد (91.5فیصد) مردوں کی ہے۔ ان کی اکثریت غریب طبقے سے تعلق رکھنے والی دیہاتوں قصبوں کے مزدور وغیرہ سے تھی۔ انہوں نے اپنے اوپر ہونے والے تشدد کی وضاحت میں جو لکھا تھا وہ کئی مختلف طریقوں کا تھا، جیسے بھاری ڈنڈوں سے زدوکوب، جسم پر وزنی راڈ پھیرنا، برف کے بلاکوں پر لٹانا، ہوا میں لٹکائے رکھنا، وغیرہ۔

    2006 سے 2018 کے درمیان فیصل آباد میں پولیس تھانوں میں اختیار کیے جانے والے رویوں پر تحقیق کی گئی، جس میں 1,867 متأثرہ افراد کی میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹس، سرجنوں کے انٹرویوز اور متأثرہ افراد کے بیانات کو بنیاد بنایاگیا تھا۔ اس کے مطابق اس تعداد میں سے 1,424 افراد کو جسمانی ٹارچر کیاگیا تھا۔ پولیس تھانوں میں پھنسنے والے اکثر افراد کو تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    پولیس کے تعاون کے بغیر الیکشن نہیں ہتھیائے جاسکتے، زمینوں پر قبضہ نہیں کیا جاسکتا، مخالفین کو دبایا نہیں جاسکتا۔ غیرقانونی کاموں کے لیے مخصوص پولیس افسروں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ ریاست کے کئی ادارے غیرمجاز مقاصد کی تکمیل کے لیے اس محکمے کا سہارا لیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پولیس کا ادارہ سیاسی اثرورسوخ کے ماتحت ہوتا ہے۔ اسے اسٹیٹس کو کو برقرار رکھنے اور اپوزیشن کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ سیاست میں ذاتی مفادات کے لیے قتل کا ایک آلہ بھی ہے۔

    پولیس افسران آئے روز کہتے ہیں کہ ان پر بہت دباؤ ہے۔ جبری اعترافی بیانات کے حصول اور ماورائے عدالت قتل کی شکلوں میں پولیس کا بننے والا تشخص کچھ اہم سوالات کھڑے کرتا ہے۔ ایسے اقدامات اور کارکردگی کی پشت پناہی کون کرتا ہے؟ سماج تو اس کی حمایت نہیں کرتا۔ یہ پریشر اور دباؤ کہاں سے آتا ہے؟

    مترجم: شفیق منصور، بشکریہ: روزنامہ ڈان

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleدینی مدارس کا نیا عہد، ایک روشن باب
    Next Article وزیراعظم کا طورخم بارڈر کھولنے کا فیصلہ، ایک شاندار اقدام
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by