مشرقی اور مغربی روٹوں پر کام کی صورتحال کیا ہے ؟ حکومت کی ممکنہ تبدیلی اس منصوبے کو متاثر کرے گی یا نہیں ؟
پاکستان میں تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال نے پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑے ترقیاتی منصوبہ ’’چین پاکستان اقتصادی راہداری ‘‘ کے بارے میں سوالیہ نشان پیدا کر دیا ہے ۔ یعنی اگر پاکستان میں حکومتی سطح پر کوئی تبدیلی رونما ہو تی ہے تو اس کا اس میگا پراجیکٹ پر کیا اثر پڑے گا ؟ یہ صورتحال صرف پاکستان کے لئے نہیں بلکہ برادر ملک چین کے لئے بھی باعث ِ تشویش ہے کیونکہ یہ نہ صرف چین کے تاریخی منصوبے ’’ون بیلٹ ون روڈ ‘‘ کا پائلٹ پراجیکٹ ہے بلکہ چین اسے اپنے جغرافیائی مفادات میں بھی ایک سنگ ِ میل کی حیثیت سے دیکھ رہا ہے ۔
پاکستان کے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے نواز حکومت کو کمزور کرنے کی کوششوں کو سی پیک کے خلاف سازش قرار دیا تو اس کے بعد ہی چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ کوئی بھی رکاوٹ آئے سی پیک کامیاب بنائیں گے ،دراصل آرمی چیف کا اشارہ بھی سیاسی بحران ہی کی جانب تھا ۔ سی پیک کے تحت اگرچہ پاکستان میں پچاس ارب ڈالر سے زائد کے منصوبوں پر کام جاری ہے ۔تاہم اصل سوال یہ ہے کہ یہ راہداری کب فعال ہو جائے گی ؟ کب چین سے تجارتی قافلے قطار اندر قطار گوادر پہنچنا شروع ہوں گے ؟ مشرقی روٹ کی عملی صورتحال کیا ہے ؟ مغربی روٹ کتنا مکمل ہو چکا ہے اور کتنا کام باقی ہے ؟ ان سوالوں کا جواب نیشنل ہائی وے اتھارٹی ہی دے سکتی ہے کیونکہ وہی اس عظیم قومی منصوبے کی تکمیل میں مصروف ہے ۔’’ تجزیات آن لائن ‘‘ نے اتھارٹی کے ترجمان کاشف زمان سے جو تفصیلات معلوم کی ہیں ان سے منصوبے سے وابستہ دونوں روٹوں کی صورتحال معلوم ہوئی کہ اس وقت کتنے فیصد کام ہو چکا ہے اور کتنا باقی ہے ۔ یہ تفصیلات ذیل میں رقم کی جاتی ہیں ۔
خنجراب رائے کوٹ :اس کی لمبائی 335کلومیٹر ہے ۔اس پر 500ملین ڈالر یعنی تقریباً52ارب روپے لاگت آئی ہے ۔یہ منصوبہ مکمل ہو چکا ہے ۔
رائے کوٹ تھاکوٹ :اس کی لمبائی 144کلومیٹر ہے ۔اسے بھی چین کی مدد سے مکمل کیا جا رہا ہے اور توقع ہے کہ یہ سیکشن2019تک مکمل کر لیا جائے گا ۔
تھاہ کوٹ سے حویلیاں :یہ 120کلومیٹر کا سب سے اہم سیکشن ہے جو کئی سرنگوں اور پلوں پر مشتمل ہے ۔یہ منصوبہ 2016میں شروع ہوا جو2019تک مکمل ہونے کی امید ہے ۔اسےچین کی روڈ اینڈ برجز کنسٹریکشن کمپنی بنا رہی ہے اور اس پر لاگت کا تخمینہ 136ارب روپے ہے ۔یہ سیکشن تمام موسمی حالات سے مطابقت رکھ سکے گا ۔
ہزارہ موٹر وے (ای 35-):چھ لین پر مشتمل اس کی مجموعی لمبائی 59کلومیٹر ہے ۔اس پر کل لاگت کا تخمینہ 33ارب روپے ہے اور اسے ایشیائی ترقیاتی بنک کے تعاون سے مکمل کیا جا رہا ہے ۔ اس کے دو سیکشن اس سال دسمبر تک مکمل کر لئے جائیں گے۔دسمبر2017تک یہ پورا منصوبہ مکمل کر لیا جائے گا ۔
ہزارہ موٹر وے ایم ون پشاور اسلام آباد موٹر وے سے منسلک ہو جاتی ہے ۔اور یہاں سے دو روٹ نکلتے ہیں ایک مشرقی روٹ جو لاہور سے گوادر براستہ کراچی جائے گا اور دوسرا مغربی روٹ جو کہ اسلام آباد کے نزدیک ایم ون موٹر وے ، ہکلہ کے مقام سے ڈیرہ اسماعیل خان سے ہوتا ہوا براستہ کوئٹہ ،گوادر جائے گا ۔
مغربی روٹ :
ہکلہ ڈیرہ اسماعیل خان : اس کی کل لمبائی 285 کلومیٹر ہے ۔چار لائینوں پر مشتمل اس روٹ پر لاگت کا تخمینہ 129ارب روپے ہے اور اسے پاکستان اپنے وسائل سے تعمیر کر رہا ہے ۔اس پر تیس سے چالیس فیصد کام ہو چکا ہے اور توقع ہے کہ یہ اگست2018تک مکمل کر لیا جائے ۔اس کے پانچ سیکشن ہیں جن میں سے چار پر کام جاری ہے جبکہ تراب میانوالی سیکشن جس پر دریائے سندھ پر ایک پل کی تعمیر بھی شامل ہے ا س پر کام ابھی شروع نہیں ہو سکا ۔
ڈیرہ اساعیل خان ژوب:اس کی مجموعی لمبائی 210کلومیٹر ہے ۔یہ منصوبہ ابھی فزیبیلٹی سٹڈی کے مراحل میں ہے ۔چین نے اس منصوبے کے لئے مالی مدد دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے ۔
ژوب کوئٹہ :مجموعی لمبائی230 کلومیٹر ہے ۔دو سال پہلے مکمل کر لیا گیا ہے تاہم اس کو مزید چوڑا کرنے کا کام ہو رہا ہے ۔ژوب سے مغل کوٹ سیکشن کی لمبائی 81کلومیٹر ہے اور اس پر کام جاری ہے ۔
کوئٹہ سے سہراب : منصوبہ مکمل ہے
سہراب سے ہوشاب :منصوبہ مکمل ہے
ہوشاب سے گوادر : منصوبہ مکمل ہے
یہ مغربی روٹ ہے جس کی کل لمبائی 1153کلو میٹر ہے ۔جو ایم ون میں ہکلہ سے شروع ہو کر براستہ ڈیرہ اسماعیل خان اور کوئٹہ گوادر تک جاتا ہے ۔نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو امید ہے کہ یہ 2019 تک مکمل کر لیا جائے گا ۔تاہم اس کا سب سے مشکل مرحلہ ڈیرہ اسماعیل خان ژوب ہے جس پر ابھی کام شروع نہیں ہوا ۔ ابھی یہ منصوبہ ایک لحاظ سے کاغذوں میں ہی ہے ۔
مشرقی روٹ :
لاہور ملتان : اس کی لمبائی 230کلومیٹر ہے اور اس پر 159ارب روپے کی لاگت آ رہی ہے ۔کام زوروشور سے جاری ہے چالیس سے پچاس فیصد تک کام مکمل ہو چکا ہے ۔توقع ہے کہ اگست 2018تک اسے مکمل کر لیا جائے گا ۔
ملتان سکھر :392کلومیٹر پر محیط اس طویل ترین سیکشن پر لاگت کا تخمینہ296 ارب روپے ہے اسے چین کی سٹیٹ کنسٹریکشن کمپنی مکمل کر رہی ہے ۔اپریل 2018تک 250کلومیٹر مکمل ہونے کی امید ہے اور2019تک یہ منصوبہ مکمل کر لیا جائے گا ۔
سکھر حیدر آباد :مجموعی لمبائی 296کلومیٹر ،لاگت کا تخمینہ 163رب روپے ،لیکن اسے بی او ٹی کے تحت بنایا جائے گا ،یعنی کمپنی اپنے خرچے سے بنا کر رقم ٹول سے وصول کرے گی ۔یہ پراسیس ہو رہا ہے اور اگلے ایک دو ماہ میں اس پر کام شروع ہو جائے گا ۔ستمبر2020اس کی مکمل ہونے کی تاریخ ہے ۔
حیدر آباد کراچی :چھ لین پر مشتمل اس موٹر وے کی لمبائی 136کلومیٹر ہے ۔اسے ایف ڈبلیو او BOTکے تحت بنا رہی ہے ۔36روپے کی مجموعی لاگت کو پورا کرنے کے لئے ایف ڈبلیو او یہاں سے 25سال تک ٹول وصول کرنے کی مجاز ہو گی ۔یہاں سروس ایرایاز بنیں گے ۔80کلومیٹر سیکشن مکمل ہو چکا ہے اس کے مکمل ہونے کی تاریخ مارچ2018ہے تاہم اسے چھ ماہ پہلے مکمل کر لیا جائے گا ۔
کراچی گوادر :653کلومیٹر کا کوسٹل ہائی وے پہلے ہی مکمل ہے ۔
لواری ٹنل پچھلے چالیس سال سے زیر تعمیر ہے ۔جو 22ارب روپے کی لاگت سے اس سال مکمل ہو جائے گی ۔ یہاں سے سی پیک کو براستہ افغانستان (واخان ) ترکمانستان سے منسلک کرنے کا پروگرام ہے جس کے لئے تینوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے ۔
مندرجہ بالا معلومات سے سی پیک کی اصل صورتحال واضح ہوتی ہے کہ کون سے منصوبہ کتنا مکمل ہو چکا ہے اور کتنا کام جاری ہے اور کون سا منصوبہ ایسا ہے جو ابھی شروع ہی نہیں ہوا ۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا مؤقف ہے کہ مغربی روٹ 2019میں اور مشرقی روٹ 2020میں مکمل ہو جائے گا ۔
