افغان امن عمل فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور پاکستان کے لیے بھی یہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ توقعات کے عین مطابق واشنگٹن میں پاکستان اور امریکا کی قیادت کے درمیان ہونے والی بات چیت میں یہی موضوع توجہ کا مرکز رہا۔ وزیراعظم عمران خان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ افغان طالبان کی قیادت کوافغان حکومت سے امن مذاکرات کا آغاز کرنے پر آمادہ کریں گے۔

وزیراعظم عمران خان  کےدورہ امریکا کے دوران امریکی قیادت اور عہدیداران نے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی پاکستانی کوششوں کو تسلیم کیا اور اس عمل کی تعریف کی۔ اس بار امریکی قیادت نے ’ڈو مور‘ کا راگ نہیں الاپا اور مہذب انداز میں پاکستان سے درخواست کی کہ وہ افغان امن مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے۔ پاکستان کی قیادت نے واضح طور پراس بات پہ رضا مندی کا اظہار کیا ہے۔ دوسری طرف طالبان نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ وزیراعظم عمران خان کی دعوت کو قبول کریں گے۔ اس ملاقات سے یہ اندازہ ہو جائے گا کہ پاکستان کا افغان طالبان پر اب بھی کتنا اثرورسوخ موجود ہے۔

ابھی تک افغان طالبان براہ راست اشرف غنی حکومت سے مذاکرات پر تیار نہیں ہیں اور اس حوالے سے وہ انتہائی سخت موقف اپنائے ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکا سے مذاکرات کامیاب ہوجاتے ہیں تو وہ افغان حکومت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے مذاکرات کی شروعات کریں گے۔ تاہم ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ وہ کابل حکومت کے ساتھ علیحدہ مذاکرات کے حوالے سے اپنے گذشتہ موقف میں لچک پیدا کریں گے یا نہیں۔ ایسی صورت میں اگر طالبان نے پاکستان کی درخواست سے پہلو تہی کی تو کیا پاکستان ان پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی اپنائے گا؟ اور اگر ایسا ہوا تو یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا کہ اس سے افغان طالبان اور پاکستان کے باہمی تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

پاکستان کے لیے امریکا کے ساتھ تعلقات کی بحالی نہ صرف ابتر معاشی صورت ِ حال سے نکلنے کے لیے بہت ضروری ہے بلکہ خطے میں اپنے تزویراتی کردار کوتوازن میں لانے کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ پاکستان کافی عرصہ سے افغان طالبان اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کے مابین امتیاز روا رکھنے کی بنا پر کافی مشکلات کا شکار رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان نے تزویراتی تعلقات میں تنوع لانے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان نے بتدریج اپنا رخ ماسکو اور بیجنگ کی طرف کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی استبول اور ریاض سے بھی قربت بڑھانے پر توجہ دی ہے۔ ان اقدامات سے پاکستان کو دفاعی شراکت داری کے میدان میں بھی قابلِ قدر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ تاہم پالیسی سازوں کو احساس ہے کہ یہ شراکت داری امریکا سے بڑھتی ہوئی دوری کی قیمت پر برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔ امریکا اور بھارت کی بڑھتی ہوئی تزویراتی شراکت نے بھی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے لیے پالیسی امکانات کو کم کیا ہے اور اس طرح پاکستان مجبور ہوا ہے کہ وہ افغانستان اور طالبان کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے۔

پاکستان کو دفاعی شراکت داری کے میدان میں بھی قابلِ قدر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ تاہم پالیسی سازوں کو احساس ہے کہ یہ شراکت داری امریکا سے بڑھتی ہوئی دوری کی قیمت پر برقرار نہیں رکھی جا سکتی

پاکستان کی سول اور فوجی قیادت افغانستان اور عسکریت پسند گروہوں کے حوالے سے متضاد نظریات رکھتی تھی جس سے دونوں کے مابین کشیدگی بڑھتی رہی۔ پاکستان نے اب کی بار جو کرنے کا عزم کیا ہے وہ ماضی کی سول حکومتیں ہمیشہ کرنے پر زور دیتی رہی ہیں۔ عمران خان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان ماضی میں افغانستان کے حوالے سے بہت کچھ کرسکتا تھا۔ اگر ایسا ہوجاتا تو پاکستان کی معیشت اور علاقائی تزویراتی صورتِ حال بہت بہتر ہو چکی ہوتی۔

تاہم پاکستان نے مزید نقصان سے بچنے کے لیے اپنی پالیسی پر نظر ثانی کی ہے۔ افغان امن عمل میں بھارت کے کوئی کردار ادا نہ کر سکنے کی بنا پر اس حوالے سے پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اس محاذ پراسے اپنی بہت بڑی کامیابی سمجھتی ہے۔ یہی نہیں مسئلہ کشمیر پر امریکی صدر کی جانب سے ثالثی کی پیش کش نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔ یہ سب ایک ایسے وقت میں ہوا جب ٹرمپ انتظامیہ بھارت اور روس کے مابین کئی بلین ڈالر کی حالیہ ڈیل سے خوش نہیں تھی اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حوالے سے بھی کشیدگی بڑھ رہی تھی۔

عمران خان کا دورہ امریکا ملک کو دوبارہ سفارتی راستے پر واپس لارہا ہے۔ اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستانی حکومت افغان مسئلے پر خاطر خواہ کردار ادا کرے۔ طالبان اور کابل حکومت کے درمیان براہ راست بات چیت کے امکانات پیدا کرنا اور طالبان کو سیز فائر پر آمادہ رکھنا دونوں کام انتہائی مشکل ہیں۔ اب تک طالبان لوہے کے چنے ثابت ہوئے ہیں۔ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں ان کی ساری توجہ اس وسیع تر نکتے پر مرکوز رہی کہ امریکا افغانستان سے انخلا کے لائحہِ عمل اور عبوری نظم  کےحوالے سے بات چیت کو حتمی شکل دے، تاہم طالبان قیادت کا مستقل بنیادوں پر سیز فائر کے لیے آمادہ ہونا انتہائی مشکل ہے۔ عملی میدان میں موجود کئی جنگی کماند اروں کا خیال ہے کہ وہ جنگ جیت رہے ہیں اور وہ تمام تر ملک پر اپنی عملداری سے کم پر راضی ہونے کے لیے بمشکل تیار ہوں گے۔ فتح کا یہ احساس اس درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ مذاکرات کرنے والی طالبان قیادت کے لیے اس صورتِ حال پر قابو پانامشکل ہوتا جا رہا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ جنگی کمانداروں کو اس بات پر راضی کرنا کہ دوسرے افغان اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شراکت داری کریں، کتنا کٹھن ہے۔ نچلی سطح پر طالبان قیادت کے خلاف بغاوت کے پہلو کو بھی  نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

طالبان کے لیے اس طرح کی بغاوت کو کچلنا کوئی مشکل کام نہیں ہے لیکن اس سے انہیں مذاکرات کے عمل کو مزید طول دینے کا بہانہ ضرور مل سکتا ہے۔ مصالحت کے دوسرے مرحلے میں اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پہلے مرحلے میں امریکا اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات ہو رہے ہیں، جن میں مشکلات بھی درپیش رہیں۔ اس مرحلے میں طالبان کو جیت کا احساس ہو رہا ہے مگر دوسرے مرحلے میں جب پاور شیئرنگ اور آئینی معاملات زیر بحث آئیں گے تو خاصی پیچیدگی پیدا ہو جائے گی۔

پاکستان کے لیے دونوں مرحلوں میں طالبان ایک چیلنج کے طورپر موجود رہیں گے۔ امریکا اور دوسری بڑی طاقتیں بشمول چین اور روس پاکستان پر انحصار کر رہی ہیں اور اگر طالبان نے پاکستان کی بات سننے سے انکار کر دیا تو یہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے لیے تباہ کن ہو گا۔ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ بہت سے طالبان جنگی کمانڈرز پاکستان سے خوش نہیں ہیں اور طالبان کی قیادت اس پہلو کی وجہ سے مذاکرات کے دوران پاکستانی دباؤ کی مزاحمت کرتی ہے۔ ایسی بدترین صورت ِحال میں پاکستان کیا کرسکتا ہے؟ طالبان سے ناراض عناصر کے پاکستان میں داخل ہونے کی صورت میں ان کی گرفتاری ایک لائحہِ عمل  کے طور پر کی جاسکتی ہے، ایسا ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے۔  بہت سے فیلڈ کمانداروں کے خاندان ابھی تک پاکستان میں رہائش پذیر ہیں اور پاکستانی حکومت اس عنصر کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتی ہے۔

پاکستان کے پاس طالبان کی قیادت کو دباؤ میں لانے کے دوسرے آپشنز بھی موجود ہوسکتے ہیں۔ طالبان کے فیصلہ سازی کے مرحلے میں حقانی گروپ موثر کردار ادا کر سکتا ہے تاہم وہ ایک حد تک ہی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ کیا کبھی پاکستان طالبان سے مکمل لا تعلقی اختیار کر سکتا ہے؟ یہ بہت مشکل سوال ہے تاہم طالبان بھی پاکستان کو ہمیشہ کے لیے خدا حافظ کہنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور فوجی قیادت کے لیے یہ ایک امتحان ہے کہ وہ طالبان اور افغان حکومت و دیگر شراکت داروں کے مابین نتیجہ خیز مذاکرات کی کامیابی کے حوالےسے بین الاقوامی برادری کی توقعات پر پورا اترتے ہیں کہ نہیں۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version