Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کتابوں پر تبصرہ»ادارۂ اسلامی تعمیرِ نو: تعارف اور کارکردگی
    کتابوں پر تبصرہ

    ادارۂ اسلامی تعمیرِ نو: تعارف اور کارکردگی

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتجولائی 16, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ادارہِ اسلامی تعمیرِ نو (محکمہ احیاے ملتِ اسلامیہ)1947ء: تعارف اور کارکردگی سیکرٹری اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر انعام الحق یٰسین کی تالیف ہے۔ صاحبِ تالیف عربی زبان و ادب میں پنجاب یونی ورسٹی لاہور سے ڈاکٹریٹ کیے ہوئے ہیں۔ وہ اسلامی نظریاتی کونسل میں خدمات سرانجام دینے سے پیش تر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ادارے شریعہ اکیڈمی سے وابستہ رہے ہیں اور اس دوران وہ کئی کانفرنسز، سیمینارز اور کورسز میں بطور منتظم اور رابطہ کار کام کرتے رہے ہیں۔ وہ متعدد کتابوں کے مصنف اور مترجم ہیں اور انہوں نے زبان و ادب، سیرتِ نبویﷺ، شریعت و فقہ کو اپنی تحقیق و تالیف کا میدان بنایا ہے۔ ان کی علمی و تحقیقی کام کے اعتراف میں انہیں مملکتِ قطر کی جانب سے ’’جائزۃ الشیخ حمد للترجمہ و التفاہم لدولی‘‘ کے ایوارڈ سے نوازاگیا ہے۔ یہ امتیاز علم و ادب اور تحریر و تحقیق سے ان کی والہانہ وابستگی اور ان کے شوق و لگن کو واضح کرتا ہے۔

    زیرِ نظر کتاب بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی کے عالمی ادارہ اقبال براے تحقیق ومکالمہ اسلام آباد نے شایع کی ہے جو 1947ء میں قائم ہونے والی نوزائیدہ مملکت پاکستان کے لیے نظریاتی و انتظامی بنیادوں کی فراہمی یقینی بنانے کی غرض سے مختلف ادوار میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے قائم کیے گئے مختلف اداروں کے تعارف پر مبنی سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔ یہ کتاب بعد از تقسیم مغربی پنجاب کے پہلے وزیرِ اعلیٰ نواب افتخار حسین ممدوٹ کی تحریک پر علامہ محمد اسد کی سربراہی میں قائم کیے گئے ادارے محکمہ احیاے ملتِ اسلامیہ کے تعارف پر مبنی ہے جس میں اس ادارے کے قیام کا پسِ منظر، ادارے، اس کے بانی سربراہ علامہ محمد اسد اور ان کے رفقاے کار کاتعارف، انتظامی قواعد و ضوابط اور خدمات و کارکردگی انتہائی جان فشانی سے تحقیق و تدوین کے بعد قلم بند کیے گئے ہیں۔

    کتاب کو ضمیمہ جات اور تمہید کے علاوہ چھ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کتاب کا مقدمہ اور جسٹس (ر) محمد رضا خان کی تقریظ بجائے خود تاریخ کے اوراق دکھائی دیتے ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن جناب عبداللہ صاحب کی جانب سے لکھی تقریظ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے اور ایک طرح سے کتاب پر تنقیدی تبصرے کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ تمہیدی اوراق میں صاحبِ تالیف قاری کو برِ صغیر میں اسلامی تعمیرِ نو اوردورِ جدید کی تشکیل کے تاریخی پسِ منظر سے مختصر آگاہی فراہم کرتے ہیں۔ پہلا باب ’’اسلامی تعمیرِ نو:علامہ اقبال اور قائدِ اعطم کی نظر میں‘‘ کے عنوان سے ہے جس کی فصول بالترتیب علامہ اقبال اور قائدِ اعظم کے مختلف خطبات، خطوط اور کتب کے حوالوں کے ساتھ اسلامی تعمیرِ نو اور ایک  مسلم مملکت کے سیاسی و نظریاتی خدوخال کے بارے میں ان کے خیالات کی ترجمانی کرتی ہیں۔

    اس کتاب سے پاکستان کے سیاسی و نظری مسائل کی تفہیم اور ان سے متعلقہ مباحث کو تحقیق وتنقید اور مکالمہ کا موضوع بنانے کاعمدہ موقع میسر آتا ہے

    اس باب میں صاحبِ تالیف نہ صرف علامہ اقبال کی علمی آرا پیش کرتے ہیں بلکہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ علامہ اقبال نے اداراتی اجتہاد کی تجویز دے کر ایسے اداروں کی ضرورت پر زور دیا جو اسلامی تعلیمات کے فروغ  کے لیے کام کریں۔ مزیدیکہ ماقبل تقسیم ِ ہند انہوں نے اسلامی تعمیرِِ نو کے لیے اداروں کے قیام کی عملی کوششوں کا بھی آغاز کردیا تھا۔ قائدِ اعظم کے مختلف خطبات کے حوالوں کی روشنی میں وہ چند اقدامات کی نشاندہی بھی کرتے ہیں کہ کس طرح پاکستان کو ایک جدید اسلامی جمہوری ریاست بنایا جاسکتا ہے جو بلا تفریق رنگ، نسل، مذہب اور صنف تمام تر طبقات کے حقوق کی فراہمی کو یقینی بنائے اور اسلام کے سنہری اصولوں کی پاسدار اور نگہبان ہو۔

    دوسرے باب ’’محکمہ احیاے ملتِ اسلامیہ: تشکیل اور مقاصد‘‘ کی پہلی فصل میں ادارے کا تاسیسی پسِ منظر، منشور، مقاصد، ادارے کی ہئیتِ ترکیبی اور رفقاے کار کے بارے میں بیان کیا گیا ہے جبکہ دوسری فصل میں ادارے کے دائرہِ کار اور فعالیت میں توسع کی تاریخ لکھی گئی ہے۔ فصلِ سوم میں ادارے کے تسلسل اور ادارے کے بجٹ کا احوال ہے۔ باب سوم ادارے کے رفقاے کار کے تعارف اور ان کی مختصر سوانح پر مشتمل ہے۔ ان شخصیات کی تعداد بارہ ہے جن میں چنیدہ نام علامہ محمد اسد، مولانا محمد حنیف ندوی، مولانا جعفر پھلواری، سید نذیر نیازی اور ڈاکٹر حسین الہمدانی وغیرہ ہیں۔ باب سوم  کی دوسری فصل میں تفصیلاً ادارے کے سربراہ علامہ محمد اسد، جو پہلے یہودی تھے اور بعد ازاں اسلام قبول کیا تھا، ان کی شخصیت، ان کی علمی و عملی خدمات اور علامہ اقبال اور قائدِ اعظم سے ان کے تعلق کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ یہ باب اس حوالے سے انتہائی اہم ہے کہ اس سے ادارے کے بانی سربراہ سمیت اس ادارے سے وابستہ تمام تر شخصیات کے علمی و فقہی اور مسلکی پسِ منظر سے آگاہی ملتی ہے اور یوں ادارے کے علمی تنوع کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔

    باب چہارم میں ادارے کی کل مدت اور اس کی جانب سے پیش کردہ تجاویز و سفارشات اور ان کی بنا پرحکومت کے عملی اقدامات کا بیان ہے۔ باب پنجم میں انگریزی اداراتی دستاویزات اور علامہ محمد اسد کی مختلف تقاریر کا اردو ترجمہ پیش کیا گیا ہے۔ ان تراجم میں حکومتِ پاکستان کو ادارے کی جانب سے 1948ء پیش کی گئی نفاذِ شریعت کی یاد داشت بھی شامل ہے۔ باب ششم میں ادارے کے ترجمان مجلہ ‘عرفات‘  کا مکمل متن  شامل ہے۔ اس شمارے کے مضامین میں مجلہ کے اجرا کی غرض غایت، علامہ محمد اسد کا مفصل اور وقیع  مضمون ’اصول دستورِ اسلامی‘، ڈاکٹر حسین الہمدانی کا مضمون ’پاکستان مین ایک اسلامی دارالعلوم کا قیام‘ مظہر الدین صدیقی کا مضمون ’مذہب کا مارکسی نظریہ‘ اور مراسلات شامل ہیں۔ یہ تمام مضامین اپنے موضوعات کے حوالے سے انتہائی جاندار ہیں، پہلے دو مضامین کی خاصیت یہ ہے کہ ان میں صرف نظری خامہ فرسائی نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس ان مضامین میں زمینی حقائق اور عملی بنیادوں پر اداروں کی تشکیل کا ایک مفصل خاکہ سامنے آتا ہے۔

    اس تھکا دینے والے علمی و تحقیقی  کام کے لیے ڈاکٹر انعام الحق یٰسین اور ملک کے نظریاتی تشخص کی بقا کے علمبردار ریاستی اداروں کے تعارف پر مبنی سلسلے کی اشاعت کے محرک مولانا محمد خان شیرانی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے تاریخ و سیاست اور ادب و سماجیات کے طالب علموں کے لیے ایک گراں قد کارنامہ سرانجام دیا ہے جس سے اہلِ علم اور تحقیق و تدبر کا شغف رکھنے والے اصحاب ِ ذوق کو پاکستان کے سیاسی و نظری مسائل کی تفہیم اور ان سے متعلقہ مباحث کو تحقیق وتنقید اور مکالمہ کا موضوع بنانے کاعمدہ موقع میسر ہو گا۔

    تبصرہ نگار: حذیفہ مسعود

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleہم کتنا پلاسٹک کھا رہے ہیں؟
    Next Article پارا چنار کا گلزارحسین، عزم و ہمت کی جیتی جاگتی مثال
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 30, 2023

    جمہوریت کی موت، کیسے ؟

    اگست 23, 2023

    تبصرہ کُتب: اِن سرچ آف لاسٹ گلوری

    اگست 1, 2023

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by