Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»عصری جامعات کے فنڈز میں کٹوتی کا فیصلہ، حل کیا ہے؟
    کالم

    عصری جامعات کے فنڈز میں کٹوتی کا فیصلہ، حل کیا ہے؟

    ڈاکٹر عزیز الرحمنBy ڈاکٹر عزیز الرحمنمئی 3, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    حکومت نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے فنڈز میں کٹوتی کا فیصلہ کرلیا ہے اور ایچ ای سے نے ملک بھر کی جامعات کو اس حوالے سے تنبیہہ جاری کردی ہے۔ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو جس انداز میں پروان چڑھایا گیا ہے اور حکومتی فنڈنگ کو بطور پالیسی ایک ہتھیار کے طور پر جس انداز میں استعمال کیا جاتا رہا ہے وہ اپنی جگہ ایک مستقل موضوع ہے۔

    ملک بھر کی پبلک سیکٹر جامعات میں فنڈز کی اس کمی سے نپٹنے کے لیے کئی طرح کے اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں۔ سر دست ہمارے خیال میں جامعات کو حکومتی پالیسی کے تحت اس بات کی اجازت ملنی چاہیے کہ وہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت موثر انداز میں اپنے انڈوومنٹ اور پنشن فنڈز کو انویسٹ کرسکیں۔ اس وقت پورے ملک کی سرکاری جامعات کا یہ حال ہے کہ وہ پینشن سے وابستہ مالیاتی ذمہ داری کے بوجھ تلے ڈوبتی چلی جارہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پینشن فنڈز کو مستعد انداز میں نفع بخش سرمایہ کاری میں لگانے کی بجائے روٹین میں عام شرح سود پر بینکوں میں انویسٹ کردیا جاتا ہے۔ اس انویسٹمنٹ سے ملنے والا نفع اتنا کم ہوتا ہے کہ بڑے سائز کے ادارے اپنی پینشن سے متعلقہ ذمہ داری پوری کرنے سے ہی قاصر رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر سال پینشن کی  مد میں بھی بجٹ کے ذریعے حکومتی امداد حاصل کرنا پڑتی ہے۔

    پینشن فنڈز اور دیگر بچتوں کو بینکوں میں کم شرح منافع پر سرمایہ کاری میں لگانے کی وجہ محض یہ ہے کہ یہ محفوظ سرمایہ کاری ہے۔ اب کوئی پوچھے کہ کیا اسی طرح کی محفوظ سرمایہ کاری پرائیویٹ سیکٹر کے ادارے بھی کرتے ہیں تو اس کا جواب نفی میں ہوگا۔ ہماری دانست میں یہ محفوظ نہیں بلکہ غیر ذمہ دارانہ سرمایہ کاری ہے کہ مارکیٹ میں بہتر سرمایہ کاری کے ان آپشنز کو چھوڑ دیا جائے جن سے باقی سارا نجی سیکٹر مستفید ہوتا ہے۔ حکومت کو اس وقت پالیسی سازی کے ذریعے جامعات کے لیے فنڈز کے متبادل کے طور پر سرمایہ کاری کی لبرل گائیڈ لائنز کو پروموٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت فنڈز پر کٹوتی کرتی ہے اسے چاہیے کہ متبادل وسائل کے حصول میں جامعات کی مدد کی جائے۔ اس کی ایک مثال قائد اعظم یونیورسٹی کی وسیع و عریض اراضی ہے جس کے ایک مخصوص حصے (جی ہاں صرف اور صرف مخصوص حصے کو) کو کمرشل مقاصد کے لیے ڈیویلپ کرنے کی اجازت حکومتی پالیسی کے تحت اگر قائد اعظم یونیورسٹی کو مل جائے تو وہ اپنے انڈوومنٹ فنڈ/ پینشن فنڈز وغیرہ سے (اور نجی سیکٹر کے ساتھ اشتراک عمل سے بھی) ہائی رائز بلڈنگز، پٹرول پمپس، کمرشل ٹیکنالوجی پارکس وغیرہ کی تعمیر کی صورت میں مستقل آمدن کا ایک بہترین ذریعہ حاصل کرسکتی ہے ۔ جامعات کے پاس موجود فنڈز کا اس طریقے سے استعمال بینکوں میں کی گئی انویسٹمنٹ سے بدرجہا بہتر ہے۔ بدقسمتی سے اعلیٰ تعلیم کے سیکٹر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی اصطلاح کو کیمپس کھولنے کے نام پر جس طرح بدنام کردیا گیا ہے، اس کی وجہ سے اب کوئی بھی اس طرف جانے کو تیار نہیں۔

    حکومتی اداروں کو اس موقع پر لیڈرشپ کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ پیغام دینا چاہیے کہ ہم کیش کی صورت میں مزید پیسہ ہائیر ایجوکیشن سیکٹر میں ڈالنے کی بجائے پالیسی پر مبنی incentive دینے کی راہ پر گامزن ہیں جس سے اعلی تعلیم کے ادارے نہ صرف خود کفیل ہوں گے بلکہ خودمختاری کی منزل بھی حاصل کرسکیں گے۔ باقی رہا رسک کا سوال اور پالیسی کا غلط استعمال تو اس کے تدارک کی سوفیصد ضمانت تو اس وقت بھی دستیاب نہیں ہے۔ طرز کہن پر اڑنے کی بجائے نئے تجربات کرنے اور نجی سیکٹر میں کامیاب ہونے والی پالیسیوں کو اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleآزادیِ صحافت کا عالمی دن اور پاکستان میں صحافت پر بڑھتی ہوئی قدغن
    Next Article بلوچستان میں زچہ بچہ کی شرح اموات میں خطرناک حد تک اضافہ
    ڈاکٹر عزیز الرحمن

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by