Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»تبدیل ہوتا سیاسی کلچر
    کالم

    تبدیل ہوتا سیاسی کلچر

    اسلم اعوانBy اسلم اعوانجولائی 1, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔8 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    اب یہاں نئی سیاسی تہذیب جنم لینے والی ہے جس میں روایتی علاقائی دھڑے تحلیل ہو کر ملک گیر سیاسی جماعتوں کا جُز بن جائیں گے، تحریک انصاف پیپلز پارٹی کی جگہ لینے والی ہے اور جے یو آئی کا وجود مزید سمٹ جائے گا

    صوبائی وزیر مال علی امین گنڈہ پور نے اندرون شہر کے علاقوں میں ہوائی جہاز کے ذریعے عیدی نچھاور کرنے کا اعلان کر کے مقامی سیاست میں انوکھی روایت قائم کرنے کی کوشش کی تاہم حادثات اور ہنگامہ آرائی کے خدشہ کے پیش نظر انہوں نے فضا سے عیدی گرانے کا ارادہ تو ترک کردیا لیکن یہی جسارت شہر میں نئی سیاسی بحث کو مہمیز دینے اور سن دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخابات کی تیاریوں کا نقطہ آغاز  ثابت ہوئی،بہر حال،اس دل خراش حقیقت کو فراموش کرنا ممکن نہیں کہ یہاں کے روایتی سیاسی کلچر پر فرقہ وارانہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں نے ناقابل یقین اثرات مرتب کئے،اب بھی دہشتگردی کے مہیب سائے تہذیب کے خد وخال بدلنے کے علاوہ اس گداز خطہ کے سیاسی افق پہ لہراتے نظر آتے ہیں،بلاشبہ یہ تحریک انصاف ہی تھی جس نے خوف کے حصار کو توڑ کے محدود سیاسی سرگرمیوں کی بحالی ممکن بنائی لیکن پی ٹی آئی کی سیاسی فعالیت کے باوجود ہمارا ماحول ابھی خوف کے آسیب سے آزاد نہیں ہوا،سیکیورٹی حصار میں مقید منتخب سیاستدانوں کی پیش قدمی ایک ایسے سیاسی کلچر کی مظہر بن گئی،جس پر مصنوعی شان و شوکت کا خول چڑھا نظر آتاہے اور ہمارے سیاستدان خود اسی خوف کے اسیر ہیں جس سے وہ لوگوں کو نجات دلانا چاہتے ہیں۔ہرچند کہ ہمارے سماج میں سیاسی عمل کی بوقلمونی چھوٹے بڑے جلسے جلوسوں میں کارکنوں کی والہانہ شمولیت سے پروآن چڑھی تھی اور سماجی رواداری سے مزین انہی رویّوں نے رفتہ رفتہ اس گداز جمہوری عمل کو خوبصورت سیاسی روایات میں ڈھال کر اجتماعی حیات کو منظم کر لیا تھا لیکن 1990 ء کی دہائی میں ابھرنے والی دہشتگردی کی ہولناک لہروں نے معاشرے کے فطری نظام کو پراگندہ کر کے اس رضاکارانہ سیاسی عمل کو ایک ایسے کمرشلائز نظام میں بدل دیا،جس میں دولت کو حتمی حثیت حاصل ہو گئی،شاید  یہی رجحان صوبائی وزراء کو عوام پہ دولت نچھاور کرنے پہ مجبور کر رہا ہے۔

    ایک زمانہ تھا جب سیاسی جماعتوں کے غریب کارکن خود نوشتہ دیوار لکھتے،سڑکوں اور چوراہوں پر بینر آویزں کرنے کے علاوہ گلی محلوں میں چھوٹے چھوٹے سیاسی اجتماعات بھی خود منظم کرتے،جن کا سارا دار ومدار اہل محلہ کی مالی اعانت پہ منحصر رہتا تھا،حتی کہ مہمان خصوصی کی کرسی،استقبالی جھنڈیاں اور زمین پہ بچھانے کیلئے دریوں کا اہتمام بھی کارکن مانگے تانگے کے وسائل سے کیا کرتے تھے،لیکن اس ماحول میں عوام کو لیڈروں تک رسائی حاصل تھی اور فعال سیاسی کارکن قیادت سے مربوط رہتے تھے،ذولفقار علی بھٹو جیسا قومی لیڈر جب اس چھوٹے سے شہر کے عام کارکن کو نام لیکر پکارتا تو کارکنان کے دل وفا کے جذبوں سے لبریز ہو جاتے تھے،اس وقت  سیاسی اجتماعات کی سیکورٹی ہوتی تھی نہ سیاست دانوں کی حفاظت پہ مامور سکواڈ دیکھائی دیتے تھے لیکن اب مذہبی تشدد  نے پورے سماج اور سیاسی تمدن کو  بدل ڈالہ ہے،آج کے سیاستدان کارکنوں پہ تکیہ کرنے کی بجائے اپنی تشہیر کیلئے قد آدم تصاویر سے مزین پرکشش پینافلکس بنواتے ہیں،خاص کر انتخابات کے دنوں میں پینافلکس بنانے والی فیکٹریاں اور انہیں آویزاں کرنے والی ایڈورٹائزنگ کمپنیاں اربوں کا بزنس کر لیتی ہیں،کروڑوں کے اخراجات سے اخبارت اور ٹیلی وویژن کے ذریعے اشتہارات کا اجراء ایک نئے سیاسی تمدن کا نقطہ آغاز بن رہا ہے،موثر دھڑوں کی وفاداریاں اور ووٹوں کی خرید و فروخت سے، قطع نظر، اب چھوٹی موٹی کارنر میٹنگ کے لئے کرسیاں ،ساونڈ سسٹم، ڈیکوریشن کا سامان اور نجی  و سرکاری سیکیورٹی کا اہتمام  بھرپور مالی وسائل کا اظہار بن جاتا ہے،یہی طرز عمل ایک طرف خوف کا مظہر ہے تو دوسری جانب قوت و شکوہ کی علامت بھی بنتا جا رہا ہے۔لیکن عہد نو کی سیاست کے یہی تقاضے لیڈر شپ اور ووٹرز کے درمیان حائل ہوئے تو طبقاتی تفاوت بڑھنے لگا،منتخب قیادت اور ووٹرز کے مابین خلیج وسیع تر ہو گئی،اب یہی تفریق ایک نئی طبقاتی کشمکش کا زینہ بن رہی ہے کیونکہ ہمارے سیاستدانوں کی طاقت ان مظلوم لوگوں کیافلاس پہ مبنی ہے جو امیدون کے بھوکے ہیں۔

    1970ء کی دہائی اس شہر کی سیاست میں پیپلز پارٹی اور جے یو آئی جیسی جماعتوں کے عروج کی علامت بنی،گزشتہ 45 سالوں سے دونوں سیاسی جماعتیں مقامی سیاست پر غالب چلی آئی ہیں۔صرف1997ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ نواز نے قومی اسمبلی کی اکلوتی نشست (اس وقت یہ حلقہ این اے18 تھا) سمیت صوبائی اسمبلی کی تمام نشستیں جیت کر سیاسی جمود میں دڑار ڈالی مگر اکتوبر  1999ء کے فوجی انقلاب نے اس تبدیلی کے اثرات کو زائل کر کے جے یو آئی اور پی پی پی کی باریوں کا تسلسل پھر بحال کر دیا۔جے یو آئی، 2002 ء کے الیکشن سے صوبائی اسمبلی کی نشستوں حاصل کرنے کی طرف مائل ہوئی،اس سے قبل  وہ صوبائی نشستیں علاقائی وڈیروں  کے حوالے کر کے بدلے میں قومی اسمبلی کی نشست پانے پہ اکتفاکر لیا کرتی تھی،2002 ء کے الیکشن میں جنرل مشرف کے دست مشکل کشاء نے ایم ایم اے کو وجود بخشا تو  جے یو آئی کو خیبر پختونخوا میں صوبائی اقتدار کا ذائقہ چکھنے کا موقعہ نصیب ہوا،جس نے درویش منش علماء کے چودہ طبق روشن کر ڈالے چنانچہ اقتدار کا خمار مذہبی سیاست میں انتہائی خطرناک تبدیلیوں کا وسیلہ ثابت ہوا جس نے دینی سیاست کے منجمد تصورات کو  توڑ ڈالا،یہ ایک ہمہ جہت تغیر تھا جس نے ہمارے سماج کے مذہبی شعور کو بے پایاں فعالیت عطا کر کے اسے خانقاہوں اور مساجد کی چار دیواری سے نکال کر عالمی سیاست کے ایوانوں تک پہنچا دیا،اس پرزور اور پیچیدہ عہد میں اسے سیاسی محرکات پر پردہ ڈالنے کیلئے استعمال کیا گیا۔چنانچہ( یہ الگ بحث ہے کہ عالمی سیاست کا آلہ کار بنکر مذہبی جماعتوں نے کیا پایا اور ملک نے کھویا ؟)لیکن مولانا فضل الرحمٰن،جنہیں اپنے عہد کے تقاضوں کو بھرپور ادارک حاصل تھا،نے ایم ایم اے دور اقتدار میں دانستہ ڈیرہ اسماعیل خان کی ترقی کے لئے کچھ نہ کیا،اپنے دور اقتدار میں وہ ٹانک،کلاچی اور درابن تحصیلوں کے مکینوں کو پینے کے صاف پانی کی سہولت فراہم کر سکے نہ آبپاشی کے وسائل مہیا کئے،بھرپور اقتدار ملنے کے باوجود  مولانا بردران اپنی افتاد طبع کے باعث مقامی سیاست میں مستقل جگہ بنانے کا سنہری موقعہ گنوا بیٹھے،ان کے برعکس وزیراعلٰی اکرم درانی نے بنوں میں غیر معمولی ترقیاتی کام کرا کے اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم بنائی۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ہماری سیاست میں ہمیشہ بسیط اور دور رس منصوبوں کو فقدان رہا،شاید یہی وجہ تھی جو  ڈیرہ اسماعیل خان کو چشمہ رائٹ بنک کینال،دریاخان پل اور ریڈیو اسٹیشن جنرل ضیاء الحق کے دور میں ملے اور گومل زام ڈیم کو جنرل مشرف نے زور بازو سے بنایا،ٹانک ہائی وے اور دیگر رابطہ سڑکیں جنرل فضل حق کے عہد میں بنیں،ورنہ ہمارا روایتی سیاستدان سڑکوں،سکولوں اور آبی وسائل کی تخلیق کے خلاف مزاحمت کر کے ترقی کے عمل کی رخ گردانی کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا، اس لئے کمزور سول حکومتیں دیہی سماج کی ترقی میں کوئی خاص پیشقدمی نہیں کر سکیں۔سن دوہزار اٹھ میں اے این پی حکومت نے ایک غیرمری بندوبست کے تحت چار جنوبی اضلاع ، بنوں، لکی مروت،ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کو جے یو آئی کے سپردکر کے دانستہ نظر انداز کئے رکھا، 2012ء میں اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں جب پہاڑ پور سے آزاد ممبر صوبائی اسمبلی مخدوم زادہ مرید کاظم  شاہ نے عوامی نشنل پارٹی میں شمولیت کی تو پختون قوم پرستوں کی صوبائی حکومت نے ڈیرہ چشمہ  ہائی وے روڈکے علاوہ پہاڑ پور تحصیل کو دو بوائز اور دو گرلز کالجز گرلز دینے کے علاوہ کئی پرائمری سکولز،بی ایچ یوز اور آبنوشی کی سکمیں  دیکر سرائیکی خطہ میں جگہ بنانے کی کوشش کی،جس سے اے این پی کو تو کچھ نہ ملا لیکن مخدوم زادوں کی بدولت تحصیل پہاڑ پور میں ترقی کی راہیں کشادہ ضرور ہوگئیں۔مرکز میں پانچ سال تک حکمرانی کا ناقوس بجانے والی پیپلزپارٹی نے لیفٹ کینال دینے کا وعدہ پورا کیا نہ فیصل کنڈی اس شہر کے لئے کوئی میگا پراجیکٹ لا سکے چنانچہ  2013ء کے الیکشن میں یہاں سے پیپلزپارٹی کا مکمل صفایا ہو گیا۔اب یہاں نئی سیاسی تہذیب جنم لینے والی ہے جس میں روایتی علاقائی دھڑے تحلیل ہو کر ملک گیر سیاسی جماعتوں کا جُز بن جائیں گے، تحریک انصاف پیپلز پارٹی کی جگہ لینے والی ہے اور جے یو آئی کا وجود مزید سمٹ جائے گا۔آئندہ پانچ سالوں میں یہاں کے سیاسی نظام کے مطلقاً تبدیل ہو جانے کے امکانات روشن ہیں،بلاشبہ اس بے رحم  تشدد نے ان فرسودہ جاگیرداروں کی سماج پر سے گرفت کمزور کر دی،جنہوں نے صدیوں سے انسانوں کو غلام بنا رکھا تھا،اگر آئندہ الیکشن میں نواز شریف  خود کو جے یو آئی سے الگ رکھ پائے تو  پی ٹی آئی کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان میں نواز لیگ کیلئے وسیع گنجائش نکل آئے گی۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleنروان ۔۔ ایک تجربہ
    Next Article ریمنڈ ڈیوس لاہور میں کس مشن پر تھے ؟
    اسلم اعوان

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024
    Leave A Reply Cancel Reply

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by