Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»احساس بھی سارے نم ہیں
    کالم

    احساس بھی سارے نم ہیں

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتجنوری 27, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read4 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    خوشاب خوبصورت پہاڑوں،حسیں آبشاروں کے دلکش نظاروں،اور نظروں کو خیرہ کردینے والی وادیوں کی سر زمین ہے۔ شیر شاہ سوری کا گزر یہاں سے ہوا تو چشمے کا ٹھنڈا پانی پی کر بے ساختہ اس کے لبوں سے خوش آب جیسے الفاظ نکلے تب سے اس کا نام خوشاب ہے۔

    برس گزرے گنجیال کے سید پیر اصغر علی شاہ ؒکی محبت خوشاب لے گئی، تب وہ درویش بقید حیات تھے۔ سید اصغر علی شاہ گیلانی ؒ کے ساتھ اس ملاقات میں یہ بھی عجیب اتفاق تھا کہ اس روز سرائیکی وسیب کے عوام کے دلوں پر راج کرنے والے عطااللہ عیسیٰ خیلوی کی زوجہ محترمہ بھابھی بازغہ بھی اس اللہ والے درویش کے آستانہ پر آئی ہوئی تھیں۔ملکی صورت حال پر سیر حاصل بحث ہوئی مگر میں رات کے ایک افسوس ناک واقعہ پر اُس دن اس قدر افسردہ تھا کہ دن کو باتوں کا مزہ تو کیا گفتگو کا مطلب تک سماعت میں اُتارنے اور ذہن میں بٹھانے سے قاصر رہا۔

    کچھ واقعات یوں رونما ہوتے ہیں کہ کھرچتے کھرچتے عمریں گزر جائیں ذہن کی تختی سے مٹ نہیں پاتے۔ ”چوآ“ جو خوبصورت،اونچے میناروں والی مسجدوں،زمانہ قدیم کے فنی طرز تعمیرپر استوار عمارتوں اورصدیوں سے امن و آگہی کا فیض بانٹنے والے اللہ کے برگزیدہ ولیوں کے مزاروں سے مزین حد درجہ حسیں ایک گاؤں ہے بڑی بڑی محل نما کوٹھیاں اس گاؤں کی خوبصورتی اور رونق کو دوبالا کرتی ہیں اس دلکش گاؤں میں جاکر کسی صورت یہ گماں نہیں گزرتا کہ یہاں کاکوئی باسی غریب اور مفلس بھی ہوگا مگر میں اُس وقت دنگ رہ گیا جب میں ایک دوست کے ہمراہ ایک ایسے گھر میں پہنچا جو اُن لوگوں کا اپنا گھر نہیں تھا جس میں وہ مکیں تھے میرے دوست نے ”فتح خاتوں“نامی عورت سے میرا تعارف کرایا جسے سب گاؤں والے ”پَھتی“کے نام سے بلاتے ہیں۔

    جب ہم ”پَھتی“کے گھر پہنچے تو وہ بہت خوش ہوئی ہمارے لئے قہوہ بنا لائی پھر وہ زمیں کے کچے فرش پر سوئی ہوئی بچی کو نیند سے بیدار کرنے میں مصروف ہو گئی، جب کچے فرش پر سوئی اُس کی بچی آنکھوں کو اپنے معصوم ہاتھوں سے ملتی ہوئی نیند سے بیدار ہوئی تو اُس نے اپنی ماں فتح خاتوں سے روٹی مانگی ”پَھتی“رونے لگی اور میرے دوست سے گویا ہوئی کل کا آٹا ختم ہے مکان والے گھر چھوڑنے کا کہہ رہے ہیں آج ایک زمیندار نے ہمیں لینے آنا تھا وہ ابھی تک نہیں آیا اُس کی آنکھو ں سے آنسوؤں کا سیلاب جاری تھا جسے روکنا ہمارے بس سے باہر تھا ہم گویا بے بسی سے اُس کی درد بھری داستان ِ الم سن رہے تھے، وہ بار بار اپنی نم پلکوں کو اپنے پرانے اور پھٹے ہوئے دوپٹے سے صاف کرتی اور پھر سسکیاں لے لے کر بات کرتی۔ یہ معصوم بچے بھوک سے بلکتے رہتے ہیں نہ میرا کوئی وارث تھا اور نہ ہی ان کا کوئی ولی وارث ہے، اس دھرتی پر کوئی اپنا نہیں جسے میں اپنا دکھ بتاسکوں ،عمر گزر گئی مگر در بدر کی ٹھوکروں کا سلسلہ ابھی ناتمام ہے۔

    ابھی اُس کی گفتگو جاری تھی ایک ٹرک اُس کے دروازے پر آکر رکا، ہم سمجھ گئے یہ ٹرک اُسی زمیندار نے بھیجا ہوگا جس کا پھتی ذکر کر رہی تھی لاوارث پھتی اپنے تین بچوں اور دو بکریوں کے ساتھ اس ٹرک پر سوار ہو گئی وہ اب زمیندار کے گھر کا کام کرے گی، اُس کے مال مویشی سنبھالے گی اور اُس کی گندم کی کٹائی بھی کرے گی۔ ”پَھتی“جس گھر کو چھوڑ کر جارہی تھی وہ اُس کے سگے بھائیوں کا تھا مگر اُس کے بھائی اُس کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے تھے، اپنے گھر سے نکل جانے کا کہتے تھے ”پَھتی“چلی گئی ہم واپس اپنے دوست کے گھر کی طرف لوٹے تو اُس گاؤں میں موجود مسجدوں ،اونچے میناروں اور مزاروں کے بلند گنبدوں سے ”خدا“ کہیں زیادہ اونچا محسوس ہوا اور صحرا کا وہ مرحوم شاعر عدیم صراطی یاد آیا۔

    کیا بتاؤں ساقی تیرے میخانے میں کیا دیکھا ہے

    خون ِ جمہور    صراحی   میں   بھرا  دیکھا   ہے

    یہاں ایک فرعون کا رونا تو نہیں میرے لئے

    میں نے ہر شخص کے تیور میں خدا دیکھا ہے

    امن کے مذہب اسلام نے تو ہمیں بھوکے ہمسائے کے متعلق بہت کچھ بتایا،دنیا کے جھمیلوں میں الجھ کر ہم انسان اور انسانیت کو بھول گئے۔مفلسی کے گرداب میں گرفتار ”پھتی“جیسے کرداروں کی نظر اندازی کیا جرم نہیں؟

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمکالمہ پاکستان 2019 کا کامیاب انعقاد
    Next Article پاکستان میں مکالمے کی ثقافت
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by