عام انتخابات کی آمد سے قبل دہشتگردی سے متاثرہ خیبر پختون خوا کے تین جنوبی اضلاع کے سرکاری اداروں کی بحالی کے لئے ڈھائی ارب روپے کی خصوصی گرانٹ نے کئی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں،جن کے جوابات پی ٹی آئی کی قیادت کے علاوہ ڈونر ادارے ورلڈ بنک کی انتظامیہ کے ذمہ ہیں۔
سدرن ایریا ڈیویلپمنٹ پراجیکٹ(SADP) خیبرپختونخوا کے 2 ارب 50 کروڑ روپے کے یوتھ انٹرن شپ پروگرام میں مبینہ بے قاعدگیوں کے انکشافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری قومی سیاست کا ابھی غیر ملکی وسائل پر انحصار ختم نہیں ہوا،شاید یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف والے سن دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات کی تیاریوں کیلئے ورلڈ بنک کے تراشیدہ منصوبوں کے ذریعے سیاسی قوت بڑھانے میں سرگرداں نظر آتے ہیں،سن دو ہزار چودہ کے دھرنوں سے قبل بھی دہشتگردی سے متاثرہ تاجروں کی مالی امداد کے لئے ورلڈ بنک کی جانب سے فراہم کئے گئی،تقریباً 2 ارب روپے کی گرانٹ پراسرار طور پر بدعنوانی کی نذر ہو گئی تھی لیکن صوبائی حکومت نے اس خرد برد کی انکوائری کرنے والے سیکریٹری انڈسٹریز محمد علی شہزادہ کو او ایس ڈی بنا کر معاملہ کو زیادہ مشکوک بنا دیا تھا۔دون قبل وزیر اعلی پرویز خٹک نے اب پھر یو این ڈی پی سے خیبر پختون خوا کی مثالی پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لئے مالی معاونت مانگی ہے۔حیرت انگیز طور پہ عام انتخابات کی آمد سے قبل ایک بار پھر ورلڈ بنک نے دہشتگردی سے متاثرہ خیبر پختون خوا کے تین جنوبی اضلاع میں سوشل سیکٹر کی ڈیولپمنٹ اور نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافہ کے لئے 2 ارب50 کروڑ کی خطیر گرانٹ ریلیزکی ہے،جسے ایس اے ڈی پی کی پراجیکٹ انتظامیہ صوبائی حکومت کی آشیرواد سے اعلانیہ مقاصد کی بجائے مبینہ سیاسی مفادات کے حصول کیلئے بروکار لانا چاہتی ہے،ڈونر ادارے کے اہداف کے تحت مذکوہ فنڈ کو (CBO)کیمونٹی کی شراکت سے سوشل سیکٹر کی ڈیولپمنٹ اور یونیورسٹیز سے فارغ ہونے والے نوخیز طلبہ کی مہارتیں بڑھانے میں بروئےکار لانا تھا لیکن تاحال سدرن ایریا ڈیولپمنٹ پراجیکٹ(SADP) کی انتظامیہ ان مقاصد کے حصول کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب نہیں سکی،اب تک کی اطلاعات کے مطابق صحت، تعلیم ،واٹرسپلائی سکمیوں،سڑکوں کی تعمیر ،جانوروں کے تالاب اور نوجوانوں کی مہارتیں بڑھانے کی عملی کوششوں کا وجود کہیں دیکھائی نہیں دیتا،وگرنہ اربوں روپے کی خطیر رقم سے ہونے والی مادی ترقی کے کچھ آثار تو بہرحال شہریوں کو ضرور نظر آتے،تینوں جنوبی اضلاع کی پسماندگی دور ہوئی نہ سرکاری محکموں کی استعداد کار میں اضافہ کیا جا سکا،بلکہ سن دو ہزار دس کے سیلاب میں تباہ ہونے والے سکولوں کی عمارتوں اور سڑکوں کی بحالی ابھی تک ممکن بنائی نہیں جا سکی،جس کی بڑی مثال فقیر آباد میں خواتین کا سرکاری ووکیشنل سنٹر ہے جو آٹھ سال سے اپنی عمارت کی بحالی کے انتظار میں دربدر کی ٹھکریں کھاتا پھرتا ہے۔پراجیکٹ انتظامیہ نے ابھی حال ہی میں میرٹ پہ آنے والے نوجوانوں انٹرنیز کی بجائے سیاسی پشت پناہی کے حامل پختہ کار افراد کو منتخب کر کے منصوبہ کے اعلانیہ مقاصد سے انحراف کیا۔سدرن ایریا ڈیولپمنٹ پراجیکٹ کے کمیونیکشن اسپیشلسٹ بدر فاروق مغل نے بتایا کہ سن دوہزار تیرہ میں پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ معاہدہ کے بعد پراجیکٹ کے پہلے مرحلے کیلئے ورلڈ بنک نے خیبر پختون خوا کے دہشتگردی سے متاثرہ تین اضلاع ڈی آئی خان، ٹانک اور لکی مروت کی25 یونین کونسلوں میں ہیومین اینڈ سکِل ڈیولپمنٹ ،صحت و ایجوکیشن،رابطہ سڑکیں اورپبلک ہیلتھ انجنئرنگ کے شعبوں میں بہتری لانے کے لئے2 ارب 30کروڑ کی گرانٹ ریلیز کی،سدرن ایریا ڈیولپمنٹ پراجیکٹ نے گزشتہ تین سالوں میں 1 ارب 10کروڑ روپے کی لاگت سے 308 سکیمیں مکمل کر لی ہیں،لیکن پہلی ریلیز سے 1 ارب10 کروڑ بچ گئے،30 مارچ 2017 ء کو ورلڈ بنک نے 40 کروڑ کی ایڈشنل گرانٹ جاری کی اب 1ارب 70 کروڑ کی لاگت سے 2018 ء تک منصوبہ کو مکمل کر لیا جائے گا۔ حالانکہ ایس اے ڈی پی کے پاس اتنی قلیل مدت میں اتنے پیچیدہ منصوبہ کو پایا تکمیل تک پہچانے کی استعداد کار دیکھائی نہیں دیتی۔منصوبہ کے تحت ورلڈ بنک کے تعاون سے سوشل سیکٹر کے علاوہ جدید تعلیم سے بہرہ ور، 25 سال سے کم عمر کے 15مرد اور 7 خواتین پہ مشتمل 22 نوجوانوں کی تکنیکی مہارت بڑھانے کا کام ہونا ہے،اس سوال کے جواب میں کہ دوران تربیت ان منتخب انٹرنیز کو بھاری معاوضہ اور غیر معمولی سہولیات فراہم کی جائیں گی؟ اور یہ کہ پراجیکٹ انتظامیہ نے اعلانیہ پالیسی سے انحراف کر کے ایک تو نوجوانوں کی بجائے ادھیڑ عمر اور دوسرے 22 کی بجائے ایسے 45 انٹرنیز بھرتی کر لئے،جن میں بنوں ڈسٹرک کی ڈومیسائل کا حامل ایک ایسا انٹرنی بھی شامل ہے جس کی تاریخ پیدائش 1967 ء بتائی جاتی ہے اور اسے پشاور کے لائی زان آفس میں تعینات کیا گیا ہے؟کمیونکیشن آفیسر نے ان الزمات کی جزوی تصدیق کی،ان سے پوچھا گیا کہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایس اے ڈی پی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر نے 67 فیصد فنڈز لکی مروت منتقل کر دیئے ہیں تو انہوں نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ لکی مروت آبادی کے لحاظ سے چھوٹااور دیہی سماج پہ مشتمل پسماندہ ضلع ہے۔ 1998 ء کی مردم شماری کے مطابق ڈسٹرک ڈیرہ اسماعیل خان کی آبادی 12 لاکھ سے زیادہ جبکہ لکی مروت کی چار لاکھ نوے ہزار تھی،ٹانک کی آبادی دو لاکھ نوے ہزار سے زیادہ نہیں ہو گی لیکن اب بھی ان دونوں اضلاع کی 80فیصد آبادی پینے کے صاف پانی کی سہولت سے محروم ہے،پانی کے حصول کی خاطر ٹانک کے شہریوں کو حالیہ رمضان میں تین بار احتجاجی مظاہرے کرنا پڑے۔ قبائیلی علاقوں سے وسیع پیمانے پہ نقل مکانی اور شرح افزائش میں2.06 فیصد اضافہ سے عیاں ہے کہ حالیہ مردم شماری میں ڈیرہ اسماعیل خان کی آبادی 20 لاکھ سے تجاوز کر جائے گی لیکن آج بھی ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی اور درابن کی 60 فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی نہیں ملتا یہ وہی علاقے ہیں جہاں اکیسویں صدی میں بھی انسان اور جانور ایک ہی جوہڑ سے پانی پینے پہ مجبور ہیں،ان علاقوں میں بجلی کی ترسیل محدود اور رابطہ سڑکیں مخدوش ہیں۔ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ سیاسی پشت پناہی کے حامل انٹرنیز کو طریقہ کار کے ہتھکنڈوں کے ذریعے عنقریب SADP میں مستقل طورپہ ایڈجسٹ کر لیا جائے گا،جس سے پراجیکٹ کے پرانے ملازمین کا مستقبل بے یقینی کا شکار ہو جائے گا۔حیرت انگیز امر یہ ہے کہ سن دوہزار چودہ کے دھرنوں سے قبل ورلڈ بنک نے خیبر پختون خوا حکومت کو دہشتگردی سے متاثرہ پبلک اور نجی سیکٹر کے تاجروں کی بحالی کے لئے 2.050 ارب روپے کی جو خصوصی گرانٹ دی تھی، اس کا درست استعمال ممکن نہیں بنایا گیا لیکن حیرت ہے اربوں کے وسائل کے زیاں پر ورلڈ بنک انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی،31 اکتوبر2014 ء کو معاصر انگریزی روزنامہ ،ڈان، کی رپوٹ کے مطابق خیبر پختون خوا کے سیکریٹری انڈسٹریز،کامرس اینڈ ٹیکنکل ایجوکیشن محمدعلی شہزادہ نے امدادی رقوم کی تقسیم کے عمل کی فزیکل ویریفیکشن کے دوران کئی چشم کشا حقائق کو طشت از بام کیا،مفصل انکوائری کے بعد انہوں نے رپوٹ دی کہ امدادی رقوم حقداروں تک نہیں پہنچیں،رپوٹ میں کہا گیا کہ 21 ستمبر 2013 ء کو پشاور کے قصہ خانی بازار میں ہونے والے دھماکہ کے متاثرین کے نام پہ جن دکانداروں کو بھاری مالی معاوضہ ملا ان میں مشتاق پرنٹنگ پریس،رائل فوٹو سٹوڈیو اور شمع فوٹو سٹوڈیو جیسے کاروباری ادارے شامل تھے،جن میں کا کوئی دکاندار بھی قصہ خوانی کے بم دھماکوں سے متاثر نہیں ہوا تھا،محمدعلی شہزادہ نے اپنی معائنہ رپوٹ میں مبینہ متاثرین کی تصدیق اور ادائیگیوں کے عمل میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی سفارش کے ساتھ اس معاملہ کو مزید تحقیق کے لئے نیب کو بھیجوا دیا تھا ،جس پر برہم ہو کے وزیراعلی پرویز خٹک نے اگلے ہی روز متذکرہ سیکریٹری انڈسٹریز کو او ایس ڈی بنا کر معاملہ کو زیادہ مشکوک بنا دیا،جس کے بعد یہ ایشو ہمیشہ کیلئے دفن ہو گیا لیکن تجزیہ کاروں نے ورلڈ بنک کی جانب سے کے پی حکومت کو دی گئی گرانٹ کے 14 اگست2014 ء کے دھرنوں میں استعمال ہونے کے خدشات ظاہر کئے تھے تاہم کسی نے بھی معاملہ کو اس زاویہ سے دیکھنے کی زحمت گوارا نہ کی،انگریزی روزنامہ میں بے قاعدگیوں کی خبروں اشاعت کے باوجود پراجیکٹ کے ڈونر ،ورلڈ بینک کی مقامی انتظامیہ نے ہر مرحلہ پر معنی خیز خاموشی اختیار کئے رکھی۔اب پھر عام انتخابات کی آمد سے قبل دہشتگردی سے متاثرہ خیبر پختون خوا کے تین جنوبی اضلاع کے سرکاری اداروں کی بحالی کے لئے ڈھائی ارب روپے کی خصوصی گرانٹ نے کئی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں،جن کے جوابات پی ٹی آئی کی قیادت کے علاوہ ڈونر ادارے ورلڈ بنک کی انتظامیہ کے ذمہ ہیں۔
