Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»گلگت بلتستان میں سیاحت کا شعبہ ہنگامی اقدامات کا متقاضی
    کالم

    گلگت بلتستان میں سیاحت کا شعبہ ہنگامی اقدامات کا متقاضی

    جاوید اقبالBy جاوید اقبالنومبر 9, 2018کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    گلگت بلتستان کا شمار دنیا کے ان خوبصورت ترین علاقوں میں ہوتا ہے جسے قدرت نے ہر قسم کی خوبصورتی سے نوازا ہے. جو سیاح پہلی بار یہاں آتے ہیں ان میں سے اکثر کا یہی کہنا ہوتا ہے کہ انھوں نے اس سے خوبصورت علاقہ اور کہیں نہیں دیکھا. سال کے چار موسم، بہتی آبشاریں، خوبصورت ندی نالے، سفید چادر میں لپٹے ہوئے پہاڑ، صاف و شفاف بہتا ہوا پانی، سرسبز وادیاں غرض یہاں قدرت کا ہر شاہکار دیکھنے کو ملے گا۔

    گلگت بلتستان حکومت کے ذرائع کے مطابق پچھلے سال پندرہ لاکھ سے زائد ملکی اور غیر ملکی سیاحوں نے گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں کی سیر کی جبکہ اس سال کی تعداد پچھلے سال سے زیادہ بتائی جا رہی ہے. اندازہ کیا جا رہا ہے کہ آنے والے سالوں میں سیاحوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔

    گلگت بلتستان میں جس حساب سے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اس حساب سے سیاحوں کو سہولیات بہم پہنچانے کے لیے اقدامات نہیں ٹھائے جا رہے. رہائش، انفراسٹرکچر اور ٹیلی کمیونیکشن کی صورتحال دگرگوں ہے۔ سڑکوں کی ناگفتبہ حالت کی وجہ سے اکثر سیاحوں کو خوبصورت مقامات تک پہنچنا محال ہو جاتا ہے۔

    گلگت بلتستان کی حکومتوں نے اس شعبے کی ترقی کی طرف اس حساب سے توجہ نہیں دی ہے جس کا یہ شعبہ متقاضی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس شعبے کی ترقی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جاتے اور پہلی فرصت میں کوئی جامع سیاحتی پالیسی کو سامنے لے آتے۔ مگر صد افسوس اب تک ایسا کوئی عملی اقدام اٹھایا نہیں گیا۔

    وزیراعلی گلگت بلتستان حفیظ الرحمان کے مطابق پچھلے سال پندرہ لاکھ سے زائد سیاح گلگت بلتستان آئے مگر ان کی آمد سے گلگت بلتستان کی حکومت کو بلواسطہ کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ مگر حکومت کو ان کی سیکورٹی اور دیگر اخراجات کی مد میں دس کروڑ خرچ کرنے پڑے۔ وزیراعلی بھی اس خواہش کا اظہار کر رہے ہیں کہ کوئی پالیسی وضع کی جائے مگر اس پر کوئی عملی طور کام ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔.

    گلگت بلتستان میں سیاحت کی ترقی اور زیادہ سے زیادہ ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو راغب کرنے کے لئے فوری کام کرنے کی ضرورت ہے اس ضمن میں دیامر، شندور اور ائیرپورٹ (گلگت، سکردو) میں ٹورازم پروموشن فیس کے نام پر مناسب پیسے لئے جائیں جو مکمل الیکٹرانک ہو جس سے نہ صرف سیاحوں کی تعداد کا صحیح اندازہ ہوگا بلکہ اس رقم کو سیاحت کی ترقی کے لئے خرچ کیا جائے۔ وزیراعظم عمران خان بھی سیاحت کی ترقی کے لیے پرعزم ہیں لہذا یہ موجودہ گلگت بلتستان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ وفاق کو ایک جامع پلان بنا کر پیش کرے اور وفاقی حکومت یقینا اس حوالے سے صوبائی حکومت کا ساتھ دے گی۔ ہو سکے تو سیاحت کی ترقی کے لئے خصوصی گرانٹ کا مطالبہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

    گلگت بلتستان میں سیاحت کی ترقی کے لیے گلگت چترال ایکسپریس وے کی تعمیر انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے۔ یہ روڈ سی پیک کے مجوزہ پلان میں تو شامل ہے مگر اسے فوری تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہ منصوبہ مکمل ہو جاتا ہے تو سیاحوں کے لیے گلگت بلتستان آنے اور جانے کے لیے ایک اور متبادل خوبصورت راستہ مل جائے گا اور یہ منصوبہ سیاحتی ترقی میں ایک انقلاب ہو سکتا ہے۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان نے وزیراعظم سے اپنی ملاقات میں اس روڈ کا خصوصی ذکر بھی کیا ہے اورانہوں  نے اس روڈ کی تعمیر میں خصوصی دلچسپی کا اظہاربھی کیا ہے۔

    گلگت سکردو روڈ کی تعمیر پر کام باقاعدہ شروع ہوچکا ہےامید ہےکہ اس روڈ کی تعمیر سے بلتستان کے دیگر علاقوں سے رابطے اور سمٹ جائیں گے اور سیاحوں کو بھی محفوظ سفری سہولیات میسر ہوں گی۔ جب سیاحوں کے لیے بہتر سفری سہولیات میسر ہوں گی تو سیاحت کا شعبہ بھی اسی رفتار سے ترقی کرے گا اور مقامی لوگوں کو روزگار کے نئے مواقع ملیں گے اور علاقہ ترقی کرے گا۔

    سیاحت کی ترقی کے لئے یہ بات بھی اہم ہے کہ تاریخی مقامات اور جگہوں کی از سر نو تعمیر و مرمت کی جائے۔ گلگت بلتستان میں ایسی کئی تاریخی قلعے، عبادت گاہیں، مزاریں موجود ہے جو تباہی کے دہانے پر موجود ہے۔ ان کی طرف آئندہ کچھ سالوں میں بھی توجہ نہیں دی گئی تو ان کا نام و نشان تک مٹ سکتا ہے۔

    محکمہ سیاحت کو چاہیے کہ وہ سیاحوں کی رہنمائی کے لیے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں ابتدائی طور پر ٹورسٹ رہنمائی ڈیسک قائم کرے جو سیاحت کے شوقین افراد کی بہتر رہنمائی کر سکیں۔ اپنی ویب سائٹ کو مکمل اپ ٹو ڈیٹ رکھے اور سیاحتی اور تاریخی مقامات کی تشہیر کے لئے لٹریچر نکالے۔ یہ لٹریچر بیرون ممالک میں پاکستانی سفارتخانوں کو بھی ارسال کرے تا کہ غیر ملکی سیاحوں کو بھی ان علاقوں کے بارے میں علم ہو اور بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح بھی ان علاقوں کی سیر کے لیے آ سکیں تاکہ ہمہ گیر ترقی کا عمل شروع ہو اور اہلیان گلگت بلتستان کی معاشی وسماجی تعمیر وترقی  ممکن ہوسکے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپاکستان افغان کشیدگی ، باہمی تجارت کیلئے نقصان دہ
    Next Article کیلوں کی ریڑھی اور مملکت خدا داد
    جاوید اقبال

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by