دو روزہ کانفرنس کے آخری روزسیشن میں کانفرنس کی صدارت سابق مشیر قومی سلامتی جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے کی جبکہ ڈاکٹر یینگ پروفیسر ساؤتھ ایشیا یونیورسٹی ، ڈاکٹر شانتی ڈی سوزا اور پروفیسرڈاکٹر اشتیاق وائس چانسلر سرگودھا یونیورسٹی گفتگو میں مہمان خصوصی تھے ۔
جنرل جنجوعہ نے اپنی گفتگو میں شرکاء کی آمد پہ غیر ملکی مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کا عنوان اس وقت کی ضرورت ہے ۔ رابطہ اور تعاون اس خطے کے ممالک کے لئے لازمی ہے۔ سیکورٹی اور اکانومی ایک ہی سکے کے دورخ ہیں ۔ خطے میں استحکام کا حصول ان دونوں کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ جنوب ایشیاء تنہائی کا شکار نہیں ہے۔ایشیا میں دنیا کی کل آبادی کا 60 فیصد رہتا ہے ۔۔ لہذا دنیا کا مرکز ایشیا ہے ۔ پاکستان کا جغرافیہ دنیا کی 86 فیصد آبادی کو آپس میں جوڑتا ہے ۔ دنیا کی تجارت کے تمام راستے پاکستان سے جاتے ہیں ۔بھارت کو پاکستان کے ساتھ احترام کا رشتہ رکھنا ہوگا ۔ صرف پاکستان ہی بھارت کو یورپ اور وسط ایشیا سے جوڑ سکتا ہے۔ بھارت کے لئے سی پیک میں شامل ہوئے بغیر خطے میں آزادانہ تجار ت بہت مشکل ہے ۔افغانستان ایک پل ہے رکاوٹ نہیں ہے ۔ مسلم دنیا کے پاس تما م وسائل ہیں۔ پاکستان مسلم دنیا کے بھی دل میں واقع ہے ۔ پاکستان پوری دنیا کے لئے مستقبل میں تجارتی راہداری ہے۔
میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ہماری تہذیب میں تنوع اور رنگارنگی ہماری مشترکہ کامیابی کا ذریعہ بن سکتا ہے ۔ میری دعا ہے کہ بھارت ایک سیکولر ملک کے طور پر باقی رہے ۔ چین کی طرح میری دعا ہے کہ بھارت بھی دنیا کو جوڑنے کا ذریعہ بن سکے ۔ کوئی شک نہیں کہ بھارتی میڈیا سی پیک اور پاکستان کے بہت زیادہ خلاف ہے ۔ ہمیں پاک بھارت غلط فہمیوں اور مشترکہ معاشی مفادات کے لئے زیادہ کوشش کرنی ہوگی ۔ میں سی پیک کی کامیابی کے لئے دعا کرتا ہوں ۔ عبدالباسط صاحب سابق سفیر کا کہنا تھا کہ میں ایک اکیلا بھارتی ہوں جس نے عوام میں سی پیک کی کامیابی کے لئے دعا کی ہے ۔ میری دعا ہے میرے علاوہ بھی دیگر بھارتیوں کے یہی جذبات ہوں ۔
ڈاکٹر سید جعفر احمد ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان اسٹڈیز کراچی یونیورسٹی نے
پاک بھار ت معاشروں کے انتہاء پسند نفرت کے فروغ کے لئے دونوں طرف سرگرم ہیں ۔ سول سوسائٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ رابطے کی کوششوں کو مزید بڑھائے ۔ بھارت کو بڑے بھائی کا کردار ادا کرنا ہوگا ۔ پاکستان کو بھی بھارت کے ردعمل کی نفسیات سے نکلنا ہوگا ۔
بھارت سے آئی ہوئی مہمان ڈاکٹر شانتی ڈی سوزا نے کہا کہ رابطے کے فروغ ک
کانفرنس کے آخری روز کے اختتام پر مہمانوں میں اعزای شیلڈز تقسیم کئے گئے۔
