پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے زیر اہتمام جنوب ایشیائی خطے میں رابطوں کے مواقع اور جیو اکنامکس کے امکانات کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز 27 جون 2018 کو اسلام آباد میں واقع سرینا ہوٹل میں 10 بجے پاکستان کے قومی ترانے سے ہوا۔
ابتدائی سیشن کے معزز مہمانوں میں اعزازی چینی سفیر ، امتیاز فیروز گوندل ڈی جی ساؤتھ ایسٹ ایشیا ڈیسک وزارت خارجہ اور ڈائریکٹر پاک انسٹی ٹیوٹ فار پاکستان محمد عامر رانا شامل تھے ۔
مہمان خصوصی لی جیانگ جاؤ معزز سفیر عوامی جمہوریہ چین نے شرکاء کی آمد پہ ان کا شکریہ ادا کیا ۔انہوں نے کہا کہ کانفرنس کا عنوان اس وقت کی ضرورت ہے ۔ رابطہ اور تعاون اس خطے کے ممالک کے لئے لازمی ہے۔ ان کا خواب ہے کہ وہ ایک دن اسلام آباد سے کراچی پانچ گھنٹے بلٹ ٹرین پہ سفر کرکے پہنچیں ، وہ چاہتے ہیں کہ ان کا خواب ہے کہ ایک مسافر اگر ناشتہ اسلام آباد میں کرتا ہے تو وہ پانچ گھنٹے بلٹ ٹرین سے سفر کرکے دوپہر کا کھانا کراچی میں کھا سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ میرا خواب پورا ہونا کوئی مشکل نہیں ہے ۔
اس دوران انہوں نے نے چین میں بلٹ ٹرین منصوبوں کی کامیابی کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سال 2013 میں صدر شی نے سلک روڈ کا منصوبہ پیش کیا تھا ۔ ساؤتھ ایشیا اس منصوبے کا اہم رکن تھا ۔ چین پاک اکنامک راہداری اور دیگر ملحقہ منصوبے اس کا حصہ ہیں ۔ پانچ سال بعد آج یہ وژن حقیقت میں بدل رہا ہے ۔ اور جنوبی ایشیا اس کا گواہ ہے ۔
اس منصوبے کے ذریعے خطے کے ممالک کی ترقی ممکن ہوگی ۔ اس منصوبے کے ذریعے پاکستان ایشیاء کا اکنامک ٹائیگر بننا ممکن ہوسکے گا ۔
سی پیک اور اس کی کامیابی و اہمیت کے متعلق بات کرتے ہوئے وہ کہہ رہے تھے کہ ایک چینی کہاو ت ہے ۔ اگر تمہیں امیر ہونا ہے تو سڑک بناؤ، بہت امیر ہونا ہے تو ریل بناؤ بہت ہی زیادہ امیر ہونا ہے تو بلٹ ریل بناؤ۔
جب گوادر پورٹ پانچ سال کے لئے سنگا پور کے پاس تھی تو گروتھ کی رفتار آہستہ تھی ، جب اس کا انتظام چین کے پاس گیا ہے تو ترقی کی رفتار تیز ہوگئی ہے۔سی پیک سے 70 ہزار نوکریاں پیدا ہورہی ہیں ۔ توانائی کے شعبے میں 13 بلین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری ہوئی ہے ، پچھلے 4 سال سے چین کی ایف ڈی آئی پاکستان میں سب سے زیادہ ہے ۔ سی پیک سے پہلے چین کی ایف ڈی آئی پاکستان میں تیرہویں نمبر پہ تھی ۔ آج یہ پہلے نمبر پہ ہے ۔ سپیشل سلک روٹ سکالر شپ ، سیاحت ،فلم اینڈ ٹی وی ،سیمینار ، تھنک ٹینکس میں اضافہ اس کے علاوہ ہے ۔
سی پیک سے نہ صرف ٹریڈ اینڈ انویسمنٹ میں اضافہ ہوا ہے ۔ 2010 میں 2 ہزار پاکستانی طالبعلم موجود تھے ۔ 2016 میں یہ تعداد 22 ہزار تک پہنچ چکی تھی ۔ جبکہ یو ایس میں پاکستانی طلبہ کی تعداد 5 ہزار ہے۔ یوکے میں پاکستانی طلبہ کی تعداد 14 ہزار ہے۔ چین پاکستان کو تعلیمی اسکالر شپ دینے والا سب سے بڑا ملک ہے ۔
انہوں نے چین کا دیگر ممالک سے تقابل کرتے ہوئے بیان کیا کہ چینی سیاحت کی تعداد ، چینی سرمایہ کاری کی رقم جنوب ایشیائی ممالک میں دیگر ممالک کی نسبت کہیں زیادہ ہے ۔
انہوں نے اپنی گفتگو کے اختتام میں یہ توقع ظاہر کی کہ اس کانفرنس سے شرکاء کو بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا ۔
ابتدائی سیشن کے اختتام پر ڈائریکٹر پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز عامر رانا نے مہمانوں میں اعزای شیلڈز تقسیم کئے اور اس سیشن کے اختتام پہ گروپ فوٹو بھی بنایا گیا ۔
ڈاکٹر قبلہ ایاز ( چیئر مین اسلامی نظریاتی کونسل ) اور ایمبیسیڈر (ر) جناب علی سرور نقوی (ایگزیکٹو ڈائرایکٹر سنٹر فار انٹر نیشنل اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد )بھی شرکاء میں شامل تھے۔
ایمبیسڈر(ر) عزیز احمد خان نے دوسرے سیشن کا آغاز کیا ۔ انہوں نے کانفرنس کے موضوع کی اہمیت کے متعلق بیان کیا ۔ انہوں نے جنوب ایشیاء کی اس موضوع پہ کمزوری کا اظہار کیا ۔ انہوں کہا کہ جنوب ایشیاء ایک فطری علاقائی خطہ ہے جس کا کالونیئیل ماضی ایک جیسا ہے ۔ انہوں نے سارک کا ذکر کیا ۔ اور اس کی ایک علاقائی تنظیم کے طور پر ناکامی پہ افسوس کا اظہار کیا۔
پروفیسر ڈاکٹر خالدہ غوث (کراچی یونیورسٹی) نے اس موقع پر کہا کہ سرحدوں کو پُل جیسا ہونا چاہیئے ۔ اس دوران
جناب یوبراج سندھرولا ( ڈائریکٹر کھٹمنڈو سکول آف لاء) نے جنوب ایشیائی ممالک کے مابین فضائی رابطوں کی مشکلات کا ذکر کیا ۔
بھارت سے آئے ہوئے مہمان جناب سدھیرگلکرنی (ایڈوائزر فورم فار نیوساؤتھ ایشیاء چین کوآپریشن)نے اپنی گفتگو میں کہا کہ میں یہاں بھارت سے تمام محبت کرنے والوں کا سلام لے کر آیا ہوں ۔ شکر ہے کہ ہم دلی سے لاہور تک ہفتہ وار دو پروازیں رکھتے ہیں ۔ پاک بھارت تعلقات میں اعتماد کی کمی ہے ۔ خراسان سے اراکان کو جوڑنے کے لئے چین کی اہمیت بہت زیادہ ہے ۔ پاک بھارت جیو
جنوبی ایشیاء دنیا کا سب سے گنجان آباد علاقہ ہے ۔ سی پیک ایک گیم چینجر ہے۔ ترقی یافتہ پاکستان بھارت کے مفاد میں ہے ۔ اسی طرح ترقی یافتہ بھارت پاکستان کے مفاد میں ہے۔ سی پیک کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ اگر بھارت اس میں شامل نہ ہو۔ اس کا نام بدلا جا سکتا ہے اس میں افغانستان کو بھی شامل کیا جانا چاہیئے ۔ اس منصوبے کی کامیابی سے کشمیر کا مسئلہ بھی حل کیا جاسکتا ہے ۔
سلک روٹ بنگال ٹو کابل جی ٹی روڈ کو دوبارہ احیاء کی ضرورت ہے ۔ سی پیک میں دیگر ممالک کوشامل کیا جائے اور اس منصوبے کو وسعت دی جائے ۔
جب ٹماٹر لاہور میں 300 روپے کلو تھے تب امرتسر میں یہ 40 روپے کلو مل رہے تھے ۔ صرف 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ، تجارتی تعلقات کی کمی کے سبب سرحد کے دونوں جانب ایسے مسائل موجود ہیں ۔ ہمیں باہمی تجارت کو فروغ دینا ہوگا ۔
سیشن کے بعد سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوا ۔
شرکاء کے تمام سوالات مسٹر کلکرنی سے تھے ۔ جس میں سی پیک پر بھارت کے سیاستدانوں کے منفی بیانات کے متعلق شرکاء نے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی ۔
وقفہ سوالات کے اختتام پر ایمبیسیڈر عزیز احمد خان نے شرکاءمیں اعزازی شیلڈز تقسیم کیں۔
دوسرے سیشن میں مہمانوں میں جناب انعام الحق سابق وزیر خارجہ ، بیرسٹر شہزاد اکبر سابقہ سپیشل پراسیکیوٹر نیب پروفیسر فضل الرحمن اسٹریٹیجک اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی ، افراسیاب خٹک سابقہ سینیٹر شامل تھے ۔
بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا کہ سی پیک کی کامیابی کے لئے پاکستانیوں کو اپنے کام کاج کی اخلاقیات کو بہتر بنانا ہوگا ۔ اس منصوبے کی کامیابی میں
چین کے علاوہ بھارت بھی ایسا ایک منصوبہ جاپان تک شروع کرنا چاہتا ہے ۔
پاکستان سال 2006 سے علاقائی رابطے کے ایسے منصوبے کا منتظر تھا ۔
چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی پیک میں متنازعہ امور بھی ہیں ۔ سب سے اہم مسئلہ روٹس کا تھا ۔ چین نے کہا کہ جو روٹ پہلے سے آپریشنل ہےاس سے ہی کام شروع کرلیا جائے ۔ تاہم اب اس مسئلے پر قابو پالیا گیا ہے ۔ (اگرچہ پروفیسر صاحب کے اس جملے پر بعد ازاں سینیٹر تاج حیدر نے اختلاف کیا )۔
ان کی گفتگو کا اختتام اس جملے پر تھا کہ ہم نے مواقع اور مسائل تلاش تو کرلئے ہیں مگر ہمیں ابھی یہ علم نہیں کہ ان مسائل کا حل کس طرح کرنا ہے ۔
ہم نے سرحد پر باڑوں کے لئے جتنا خرچ کیا ہے اس کی بجائے سرحد پہ سڑکوں کے لئے خرچ کرتے تو شائد خطے میں رابطہ اتنا مشکل نہ ہوتا ۔ جیواسٹریٹیجک کی بجائے جیو اکنامکس کو پالیسی بنانا اس وقت کی اہم ضرورت ہے ۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ تجارت کی کامیابی کے لئے امن کی بحالی بہت ضروری ہے۔ امن کی بحالی کے لئے ہمیں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا ۔
انہوں نے اندورن ملک رابطے کی بابت بات کرتے ہوئے سوالیہ انداز میں پوچھا کہ کیا انہی علاقوں کو دوبارہ سڑکوں سے جوڑا جائے جو پہلے ہی بڑی تجارتی سڑکوں سے جڑے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ منصوبے کے تحت اسی موٹر وے کو اہمیت دی گئی تھی جو کے پی اور بلوچستان سے گزرے گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک میں بڑی سرمایہ کاری توانائی کے منصوبوں میں ہونی ہے لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ ٹرانسمیشن لائنز میں سرمایہ کاری کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا اب ہمیں یہ بھی فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہماری جغرافیائی حیثیت محض ایک راہداری ملک کی ہے یہاں ہم خود بھی پیداواری حیثیت میں آئیں گے ؟
آخر میں انہوں نے کہا کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کا شکریہ کہ انہوں نے ہمیں سمجھایا کہ امپریلسٹ اکنامک منصوبوں سے کس طرح اپنے ملک کو بچایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ سی پیک پہ باہمی اعتماد کے لئے پاک چین ملاقاتوں کے 9 راؤنڈز مکمل ہوئے ہیں ۔
پاک بھارت حکومتیں دونوں طرف کے انتہاء پسندوں کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہیں ۔ انتخابات کے دوران یہ معاملہ مزید ابھر کر سامنے آتا ہے ۔ افغانستان کے حالیہ تنازعے میں بھارت کا کردار بھی پاکستان کے لئے باعث تشویش ہے ۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ اس کی مغربی سرحد پر بھارت کی عسکری موجودگی اس کی قومی سلامتی کے لئے بڑا خطرہ ہوگی ۔
افغانستان میں امن سی پیک کی کامیابی کے لئے لازمی ہے ۔
کشمیر کے مسئلے کے متعلق ماہرین کہتے ہیں کہ سی پیک کے دوران اس کی حیثیت ثانوی ہے ۔ پاک بھارت حکومتوں کو چاہیئے وہ کہ انتہاء پسند عناصر کے ہاتھوں یرغمال نہ بنیں ۔
برطانوی راج کے دوران تعمیر کیا گیا ریل کا نظام قیام پاکستان کے بعد بجائے ترقی کرنے کے بگاڑ کا شکار ہوا ہے۔ ہندوستان میں ریل کے شعبے میں خاطر خواہ ترقی ہوئی ہے ۔
بھارت کا بحیثیت ریاست سیکو لر تشخص مودی حکومت کے دوران خراب ہوا ہے ۔ موجودہ بھارتی حکومت کا کشمیر بیانیہ پاک بھارت تعلقات کی بحالی میں بنیادی رکاوٹ ہے ۔
بڑھتے ہوئے امریکہ بھارت تعلقات اور بھارت امریکہ نیوکلیئر ڈیل نیز امریکہ کا بھارت کے لئے نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں شمولیت کے لئے گرین سگنل پاکستان کے مطابق اس کی سیکورٹی کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے ۔
تعلقات کی یہی خرابی علاقائی ربط میں مشکل کا باعث ہے ۔
بھارت کی جانب سے سی پیک میں مثبت شمولیت کے بغیر اس منصوبے کی حقیقی کامیابی مشکل ہوگی ۔ تاپی اور آئی پی آئی گیس پائپ لائنز اس خطے کو معاشی طور پر جوڑنے میں اہم منصوبے ہیں ۔
پاک بھارت تعلقات میں بحالی میں مشکل کی ایک وجہ دونوں ممالک کا بیوروکریٹک کلچر بھی ہے ۔
پاکستان نے شائد چین میں پاکستان کے متعلق نقطہ نظر سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی ۔ ممکن ہے کہ یہ لسانی یا ثقافتی تفاوت کی وجہ سے ہو۔ چین سے ہماری اجنبیت کا رویہ میڈیا اور عوام کی سطح پر اب کھل کر سامنے آرہا ہے ۔
بطور صحافی اور اکیڈیمیا ہمیں ان رویوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی ۔ ہمیں اپنے بیانیئے پر ازسر نو سوچنا ہوگا ۔ ہمیں ہمارے ہمسائیوں کے ساتھ اچھے تعلقات کی ضرورت ہے ۔ ہمارے توہمات نے ہمیں خطے میں بہتر تعلقات سے روک رکھا ہے ۔
بہت سے عالمی ادارے پاکستانی عوام کے متعلق بیان کر چکے ہیں کہ ہم لوگ اپنے ہمسائیوں کے متعلق منفی جذبات رکھتے ہیں ۔ اگرچہ ہمارے ہمسائیوں سے ہمارے تہذیبی ، ثقافتی ، لسانی اور مذہبی مشترکات جڑے ہوئے ہیں۔ یہ
دور تنہائی کا دور نہیں ہے ۔ ہم عالمگیر دنیا میں اپنے خطے سے کٹ کر نہیں رہ سکتے ۔ ہمیں ماضی کے تعصب اور توہمات سے نکلنا ہوگا ۔ سی پیک اگرچہ ایک معاشی منصوبہ ہے مگر اس کی وجہ سے ہماری ریاست اور سماج میں ساختیاتی تبدیلیاں متوقع ہیں ۔ یہ منصوبہ ہمارے سماج او ر ریاست کے درمیان آپس کا تعلق مزید مضبوط کرسکتا ہے ۔ اگر ہم نے اس کو مثبت سوچ کے ساتھ نافذ نہ کیا تو نتائج اس کے برعکس بھی ہوسکتے ہیں ۔
اس پر عامر رانا نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب تک ہمارا اکیڈیمیا خاص طور پر پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے مغرب کے تجزیئے پر انحصار کرتا رہے گا ہمارے تعلقات ہمارے خطے میں بہتر ہونا آسان نہیں ہے ۔ پینل میں شریک ایک ماہر کا کہنا تھا کہ اٹلی میں ایک سال کے دوران گیارہ حکومتیں تبدیل ہوئیں مگر ان کی معاشی پالیسی ایک ہی رہی ۔ تجارت اور سیاست کو الگ کئے بغیر کوئی ملک خطے میں پائیدار تعلقات قائم نہیں کرسکتا ۔
شوذب عسکری
سب ایڈیٹر سہ ماہی تجزیات و تجزیات ڈاٹ کام اسلام آباد
