Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»قاضی نے موقف بدل لیا
    کالم

    قاضی نے موقف بدل لیا

    اعظم خانBy اعظم خانجون 6, 2018کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث گذشتہ روز  عدالت میں پیش نہیں  ہوئے۔ ایک دن پہلے وہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیرکے ساتھ ایک تلخ مکالمے کے بعد شدید غصے کی حالت میں کمرہ عدالت سے نکلے تھے۔ وکیل صفائی کے مطابق برتی جانے والی ناانصافیوں کے باوجود وہ ان ریفرنسز کو منطقی انجام تک ضرور پہنچائیں گے۔ استغاثہ اس مقدمے میں سابق وزیر اعظم کو جیل میں دیکھنا چاہتا ہے جبکہ دفاع کے مطابق عدالت نے یہ وعدہ کیا تھا کہ تینوں ریفرنسز کا فیصلہ ایک ساتھ آئے گا تاکہ یکساں  نوعیت کے مقدمات میں ایک ساتھ بحث ہوسکے۔ جج محمد بشیر نے اس حوالے سے یقین دہانی بھی کرا رکھی تھی۔ اب جج کے ہنستے مسکراتے چہرے پر سنجیدگی، تھکاوٹ اور اکتاہٹ زیادہ نظر آتی ہے۔ ان ریفرنسز پر روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہورہی ہے، اس اعتبار سے یہ کیس اپنی نوعیت کا ایک منفرد مقدمہ ہے۔ وکیل صفائی نے جج کو یہ تجویز بھی دے ڈالی کہ ایک مقدمے پر فیصلہ کرنے کے بعد دیگر دو مقدمات سے علیحدہ ہو جائیں۔ خود وکیل صفائی نے بھی سابق وزیر اعظم کے کیس سے کئی بار علیحدہ ہونے پر غور کیا ہے لیکن وہ یہ مقدمہ آج کے لیے نہیں بلکہ کل کے لیے لڑ رہے ہیں۔ یہ بات انہوں نے اپنے موکل کو پہلے دن بتادی تھی کہ چیزیں ریکارڈ پر لے کر آنا ضروری ہے تاکہ کیس کی حقیقت کے بارے میں سب کو معلوم ہوسکے۔ آج اگر نہیں تو کل ضرور میرٹ پر فیصلہ ہوگا۔ اس مقدمے سے اگر نام نکال کر کوئی اور نام ڈال دیں تو باقی کیسز میں کچھ نہیں بچتا۔

    قانونی ماہرین کے مطابق نواز شریف اس حقیقت سے خود بھی بخوبی واقف ہیں۔ اپنے بیانیے کے اظہار کے بعد نواز شریف اب عدالت میں زیادہ وقت خاموش رہتے ہیں۔ ان کے ریفرنسز کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے ساتھ ان کی frankness زیادہ ہے۔ کمرہ عدالت کے اندر صحافی انہیں کچھ نہ کچھ کہنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ ان حالات میں بھی وہ بات کرنے میں ازحد محتاط نظر آتے ہیں۔ بات کرنے سے پہلے نوٹس لے لیتے ہیں اور سوال کا جواب بھی خوب سوچ سمجھ کر دیتے ہیں۔ فوجی ترجمان کی پریس کانفرنس پر کسی قسم کا ردعمل یہ کہہ کر ظاہر نہیں کیا کہ انہوں نے مکمل کانفرنس نہیں سنی۔ اس سے قبل سابق ڈی جی آئی ایس آئی  ظہیرالاسلام کے نگران حکومت سے متعلق ایک تجویز پر بھی یہ کہہ کر جواب نہیں دیا کہ انہوں نے مکمل بات نہیں سنی۔ البتہ یہ رعایت کسی سیاسی حریف کو حاصل نہیں ہے۔ آصف زرداری کے خلاف ردعمل میڈیا میں ان سے منسوب ایک بیان پر دیا۔ عمران خان کا نام لے کر کہتے ہیں کہ ان کی کسی بات کا جواب دینا بھی پسند نہیں کرتے۔ ملک کی تباہی کا بڑا ذمہ دار پرویز مشرف کو قرار دیتے ہیں۔ جب وہ مشرف کا نام لیتے ہیں تو لہجے میں مزید تلخی بڑھ جاتی ہے۔

    وہ پرویز مشرف سے وابستہ تلخ یادوں کو بھولانے کو تیار نہیں۔ نواز شریف یہ سمجھتے ہیں کہ جب ملک کا انتظام ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے تو نظام بہتر رہتا ہے لیکن اگر ان کی جگہ ان کا بھائی یا کوئی اور پارٹی رہنما حکومت میں ہو تو پھر انہیں شکایات رہتی ہیں۔ نواز شریف شریف سمجھتے ہیں کہ ان کے دور میں سب ٹھیک رہتا ہے۔ جب بات سول ملٹری تعلقات پر ہو تو شکایات کا انبار لگا دیتے ہیں کہ کیسے بہت سارے کاموں میں رکاوٹ ڈال دی جاتی ہے اور اپنا گھر سنوارنے میں مشکلات رہتی ہیں۔ جہاں نواز شریف اپنی کارکردگی سے مطمئن نظر آتے ہیں، وہیں ملک میں سیاسی ہلچل، مظاہروں اور دھرنوں کو بے چینی کی وجہ قرار دیتے ہیں جس کی وجہ سے بہت سارے منصوبے ادھورے رہ جاتے ہیں۔

    سیاستدان اور ملزم میں ایک قدر مشترک ہوتی ہے کہ وہ اپنے موقف میں تبدیلی لاتے رہتے ہیں لیکن قاضی کا موقف بدلنا غیرمعمولی بات ہے۔ شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز  بہت تیزی سے چلائے جارہے ہیں۔ ان ریفرنسز کے دوران کسی کو نیند پوری کرنی بھی بمشکل نصیب ہورہی ہے۔ جج، وکلاء، ملزمان، صحافی، عدالتی اور سیکورٹی اہلکار اس کی زد میں آئے ہوئے ہیں۔ وکلاء  تیاری کے لیے مناسب وقت نہ ملنے کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیں تو جج وکیل صفائی کو مقدمے میں جلدی کرنے کا مشورہ دیتے نظر آتے ہیں۔ یہ سب جلدی میں کیوں ہورہا ہے ، عدالتی کمٹمنٹ میں روڑے کون اٹکا رہا ہے اور کون انصاف کے نظام پر سوالیہ نشان بن رہا ہے؟ بہت کچھ معلوم ہونے کے باوجود ان سوالات کے جوابات پھر بھی حل طلب  ہیں۔ یہ مقدمہ ایک ایسا مقدمہ بن چکا ہے جو  مستقبل میں کسی کو سکون نہیں لینے دے گا اور آنے والے منصفوں کا بھی پیچھا کرتا رہے گا۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپی ٹی آئی کی پانچ سالہ کارکردگی اورالیکشن2018
    Next Article جج نے نواز شریف کو روک دیا
    اعظم خان

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by