گلگت بلتستان نے مسئلہ کشمیر کے لئے ستر سال قربانیاں دی ہیں جبکہ خود کشمیری مکمل جمہوری سیٹ آپ سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اب یہاں سے آگے بھی صرف گلگت بلتستان والوں سے ہی قربانی کا تقاضا کرنا انصاف کے اُصولوں کے منافی ہے جو گلگت بلتستان کے لوگوں کو کسی صورت قابلِ قبول نہیں
امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر عبدالرشید ترابی نے گلگت بلتستان کے حالیہ تنظیمی دورے کے دوران جہاں اُنھوں نے دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں وہاں سکردو میں میڈیا کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی۔اس دوران خاص طور پر مسئلہ کشمیر کے تناظر میں گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے حوالے سے سیر حاصل بحث ہوئی ۔یوں تو مختلف موضوعات پرگفتگو رہی لیکن بحث کا محور گلگت بلتستان کی آئینی وقانونی حیثیت کی روشنی میں اس کے مستقبل کے تعین کا معاملہ ہی رہا۔عبدالرشید ترابی صاحب کا موقف تھا کہ گلگت بلتستان متنازعہ ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے لہذا اس خطے کو پاکستان کا صوبہ نہیں بنایا جانا چاہیے ۔ہم گلگت بلتستان کو ملک کے آئینی صوبہ بنائے جانے کے علاوہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو حقوق دینے کے لئے اُٹھائے جانے والے ہر اقدام کی تائید کریں گے۔اُنھوں نے سرتاج عزیز کی سربراہی میں قائم کمیٹی کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا کہ یہ کمیٹی اب تک کی پیش رفت کو خُفیہ رکھ رہی ہے جو معاملے کو اور زیادہ مشکوک بنادیتا ہے۔اگر یہ کمیٹی گلگت بلتستان کو ملک کا آئینی صوبہ بناتی ہے تو اس کی مخالفت کی جائے گی لہذا رپورٹ کو حتمی شکل دینے سے پہلے تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جانا ضروری ہے اس طرح کئے بنا کوئی فیصلہ تھوپنے کی کوشش کرئے تو سخت مزاحمت کی جائے گی۔ اُنھوں نے تجویز دی کہ گلگت بلتستان کو بھی آزاد کشمیر کی طرز پہ حکمرانی کا حق دیا جانا چاہیے اور گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کا صدر ، کونسل اور سپریم کورٹ مشترکہ ہونا چاہیے۔ راقم نے ان کی خدمت میں گلگت بلتستان کی تاریخی حقایق کی روشنی میں خطے کے عوام کا موقف پیش کیا ۔
محترم عبدالرشید ترابی کی ذات اور شخصیت ہم سب کے لئے بہت ہی محترم ہیں ۔ان کی رائے کا بھی مکمل احترام کرتے ہوئے ان کی خدمت میں اس اہم ایشو کے حوالے سے گلگت بلتستان کا مو قف بھی پیش ضروری سمجھتا ہوں اگرچہ اُن سے ملاقات کے دوران بھی مختصراً اس تناظر میں گفتگو کرنے کی کوشش کی تھی مگر ان کے گلگت بلتستان کے دوسرے اضلاع کے دوروں کی مناسبت سے بھی گلگت بلتستان اور گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق میڈیا میں رپورٹس شائع ہوتی رہیں۔ یوں تو ہر کسی کو انپے نکتہ نظر کو پیش کرنے کا مکمل حق حاصل ہے لیکن کیونکہ یہ معاملہ گلگت بلتستان کے تاریخی تناظر میں اُٹھایا گیا ۔ لہذا ریکارڈکی درستگی ضروری ہے ۔
گلگت بلتستان کی جب سے تاریخ دستاب ہے یہاں آزاد اور خود مختار حکومتوں کا ذکر ملتا ہے۔1840میں طاقت کی بنیاد پر فوجی جارحیت کے نتیجے میں یہاں جموں کی ڈوگرہ حکومت کے جرنیل زور آور سنگھ کی قیادت میں آنے والی فوج نے یہاں مداخلت کی اور مقامی اپنے ہم خیال راجاؤں کی حکومت بحال کر کے اُن کو بدستور حکومت کرنے دی گئی ۔ بعد ِآزاں یہاں کشمیر کے مہاراجہ کو بھی تسلط قائم کرنے کو موقع میسرآیا ۔ لیکن دو سال بعد ہی ڈوگروں کو یہاں کے عوام کی جانب سے مسلح بغاوت کا سامنا کرنا پڑا جس میں ڈوگروں کو ذلت آمیز شکست ہوئی ۔ پھر جموں سے فوجی کمک آنے کے بعد بھی ڈوگرے صحیح معنوں میں سنبھل نہیں پائے تھے کہ ڈوگروں نے لالچ دے کر کچھ پہرہ داروں کو ساتھ ملا لیا اور سکردو قلعہ کھرپوچو میں گھسنے میں کامیاب ہوئے۔ اب کی بار ڈوگروں نے ظلم و بربریت اور تشدد کے زریعے یہاں قدم جمالئے اور1948 تک یہاں ان کی عملداری رہی۔قابلِ غور بات یہ ہے کہ برصغیر میں گلگت بلتستان وہ واحد خطہ ہے جو باقاعدہ جنگ آزادی کے نتیجے میں آزاد ہوا ۔گلگت بلتستان کے غیرت مند سر فروشوں نے ڈیڑھ سال سے بھی زیادہ عرصہ تک ڈوگروں اور مہارجہ کشمیر کی فوجوں کے ساتھ جنگ کو جاری رکھا ، سینکڑوں شہید دئے تب جا کر گلگت بلتستان مہاراجہ اور ڈوگروں کے تسلط سے آزاد ہوا۔یہاں کے اکابرین اور عبوری طور بننے والی حکومت نے متفقہ فیصلے کے تحت اس آزاد شُدہ خطے کا الحاق پاکستان کے ساتھ کردیا۔ یوں گلگت بلتستان سولہ نومبر1947 سے پاکستان کے زیر انتظام چلا آرہا ہے ۔ جہاں تک ریاست جموں و کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردوں کا تعلق ہے تو ان کا اطلاق گلگت بلتستان پر سرے سے ہوتا ہی نہیں ہے یہ بات اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطالعے سے ہی معلوم ہوجاتی ہے ۔اقوام متحدہ کی کشمیر متعلق جتنی بھی قردادیں اُن میں سے کسی ایک قرار داد میں بھی گلگت بلتستان کا ذکر تک موجود نہیں ہے۔اقوام متحدہ کی کشمیر سے متعلق سب سے جامع قرارداد جس میں ریاست جموں وکشمیر میں استصواب ِراے کرانے کا تفصیلی ذکر موجود ہے وہ اقوام متحدہ کی کمیشن براے ہندوستان و پاکستان نے 5 جنوری1949 ءکو منظور کی۔ اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں استصوابِ راے کرائی جائے گی۔اس مرحلے پر جموں و کشمیر میں جو خطے شامل تھے اُن میں گلگت بلتستان شامل ہی نہیں تھے۔ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ گلگت یکم نومبر 1947 ءکو ریاست جموں و کشمیر کے تسلط سے آزاد ہوا اور سولہ نومبر کو یہ خطہ پاکستان میں شامل ہوا ۔ریاست ہنزہ و نگر کے والیان نے تحریری دستاویزات ِ الحاق مرتب کئے جس کی بنیاد پر ریاست ہنزہ و نگر نومبر 1947 ءمیں پاکستان میں شامل ہوئے جبکہ بلتستان ایک طویل جنگِ آزادی کے نتیجے میں اگست 1947 ءمیں آزاد ہوئے اور پاکستان مین شامل ہوئے۔گویا اگست 1947ءتک گلگت بلتستان کے تمام بڑے علاقے آزاد ہو کر پاکستان کے زیرِانتظام آچُکے تھے ۔ اب جنوری 1949 ءمیں جموں و کشمیر میں استصواب ِراے کرانے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس میں گلگت بلتستان کو کیسے شامل قرار دیا جاسکتا ہے۔یہ قرارداد تو جنوری 1949 ءکی ہے اگر گلگت کی آزادی کے فوری بعد یعنی نومبر 1947 ءکے حالات کا جائزہ لیا جائے تو گلگت بلتستان کے حوالے سے جموں و کشمیر کا کھاتہ اُسی مرحلے پر ہی صاف نظر آتا ہے جب یکم نومبر 1947 ءکو گلگت کو آزاد کرالیا گیا اور مہاراجہ کشمیر کے متعین کردہ گورنر کھنسار سنگھ کو گرفتار کرلیاگیا ۔اس مرحلے پر آزاد اس ریاست کے معاملات کو چلانے کے لئے ایک عبوری حکومت تشکیل دی گئی یہ عبوری حکومت خالصتاً گلگت بلتستان کے نمائندوں پر مشتمل تھی ۔اس میں ریاست جموں و کشمیر کا کوئی نمائندہ شامل نہ تھا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب گلگت کو ڈوگروں اور ریاست جموں و کشمیر سے آزاد کرالیا گیا تو گلگت بلتستان کا ریاست جموں و کشمیر سے کسی قسم کا تعلق باقی نہیں رہاتھا۔بلکہ اس حقیقت کوحکومت پاکستان نے بھی تسلیم کیا اور گلگت بلتستان اور آزاد کشمیرکو علحیدہ علحیدہ پوزیشن میں رکھا ۔ آزاد کشمیر کو متنازعہ ریاست جموں و کشمیر کا حصّہ قرار دیتے ہوئے حکومت پاکستان کی عملداری سے باہر رکھا ، آزاد کشمیر کو الگ پرچم ، علیحدہ عبوری آئین ، صدر ، وزیراعظم کے عہدے دئے ۔اس کے برعکس گلگت بلتستان کو آزادی کے فوری بعد سے ہی حکومت پاکستان کے زیر انتظام رکھا ۔ یہاں ملک کے دیگر چاروں صوبوں کی طرح پاکستان کا سیٹزن شب ایکٹ کو نافذ کیا اور یہاں کے لوگوں کو ملک کے شہریوں کی حیثیت دیتے ہوئے اسی سٹیزن شب ایکٹ کے تحت قومی شاختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کئے۔جہاں تک اس امر کا تعلق ہے کہ مسئلہ کشمیر کو تقویت پہنچانے کے لئے گلگت بلتستان کو فی الحال آئینی حقوق نہ دیے جائیں۔ اس ضمن میں گزارش ہے یہ مسئلہ کشمیر کو تقویت پہنچانے کے لئے گلگت بلتستان کے باسیوں کے بے مثال قربانی ہی تو ہے کہ مذکورہ بالا تمام حقایق کے باوجود جب گلگت بلتستان کے معاملے کو جب 1948 ءمیں حکومت پاکستان نے قومی ضرورت اور مصلحت کے تحت کشمیر ایشو کے فائل میں ڈال دیا تو یہاں کے عوام نے اس فیصلے کے خلاف کوئی احتجاج نہیں کیابلکہ گزشتہ 70 سالوں سے اپنے جمہوری اور بنیادی حقوق کی قربانی دے کر مسئلہ کشمیر کو تقویت پہنچانے کے لئے عملی کردار ادا کر رہے ہیں ۔ اس مخصوص پوزیشن میں رہتے ہوئے گلگت بلتستان کو بڑی قربانیاں بھی دینی پڑی ہیں۔ پاکستان سے الحاق کے بعد چوبیس سال تک یہاں ایف سی آر کا کالا قانوں نافذ رہا اور یہاں کے لوگوں کے تمام بنیادی انسانی حقوق سلب رہے۔1970- ءمیں ملک کے چاروں صوبوں کی طرح گلگت بلتستان میں بھی مارشل لا نافذ کیا گیا ۔ایف سی آر کے بعد یہاں کے لوگ مارشل لا کی سختیوں کو جھیلتے رہے۔ یہ سب کچھ آزاد کشمیر میں نہیں تھا۔ تو اس مرحلے پر آکر گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر دونوں کو ایک نظر سے کیسے دیکھا جا سکتا ہے۔ گلگت بلتستان نے مسئلہ کشمیر کے لئے ستر سال قربانیاں دی ہیں جبکہ خود کشمیری مکمل جمہوری سیٹ آپ سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اب یہاں سے آگے بھی صرف گلگت بلتستان والوں سے ہی قربانی کا تقاضا کرنا انصاف کے اُصولوں کے منافی ہے جو گلگت بلتستان کے لوگوں کو کسی صورت قابلِ قبول نہیں ۔اس صورتِ حال میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لئے مشترکہ صدر ، سپریم کورٹ اور کونسل کا مطالبہ بھی انتہائی مضحکہ خیز ہے۔
