Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»مردم شماری اور لاہور کا گمشدہ جغرافیہ
    کالم

    مردم شماری اور لاہور کا گمشدہ جغرافیہ

    اعظم خانBy اعظم خانمئی 18, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    آج کے دور میں اس جغرافیہ کو گوگل اور ادارہ شماریات کی تائید بھی حاصل ہوتی- لیکن اچھا ہے کہ پطرس بخاری نیا مضمون نہیں لکھ رہے- پطرس کی قلم،بہتری کم اور بگاڑ کا باعث ذیادہ بنتی

    مردم شماری کا عمل آخری دورمیں داخل ہوچکا- پطرس بخاری زندہ ہوتے تولاہور پر ایک نیا مضمون لکھ رہے ہوتے- نصاب میں شامل اس مضمون کاعنوان بھی لاہور کاجغرافیہ ہی ہوتا۔ لیکن اس دفعہ وہ یہ ضرور تسلیم کر لیتے کہ اب ایسا بھی نہیں ہے کہ وہ خبروں کی دنیا میں اتنے بے خبر رہیں اوراتنا عرصہ بیت جانے پر وہ محض یہ بھی معلوم نہ کر سکیں کہ لاہور کہاں سے شروع ہوتا ہے اور کہاں ختم ہوتا ہے- مردم شماری نتائج کی روشنی میں وہ لاہور کا نیا جغرافیہ صاف صاف بتا دیتے- آج کے دور میں اس جغرافیہ کو گوگل اور ادارہ شماریات کی تائید بھی حاصل ہوتی- لیکن اچھا ہے کہ پطرس بخاری نیا مضمون نہیں لکھ رہے- پطرس کی قلم،بہتری کم اور بگاڑ کا باعث ذیادہ بنتی-

    پطرس کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئےملک کی آبادی کے شمار کےاس اہم کام کوسالہا سال تک مختلف وجوہات کی بنیاد پرمؤخر کیاجاتارہاہے- جس کابڑانقصان شایدیہ ہواکہ پوری قوم اندھیر نگری کاشکار رہی- حکمران طبقہ ترقی کے گھوڑے ایسےصحرامیں دوڑائے  آرہا تھا کہ جس میں سراب کے علاوہ کسی اور بات کا علم نہیں تھا- نتیجہ یہ نکلا کہ حکمرانوں کی خوشحالی اور توسیع پسندانہ عزائم کی طرح ہمارےشہر بھی بے ہنگم انداز میں توسیع پسندی کی ڈگر پرپھلتے پھولتے رہے اور عوام مشکلات کے گرداب میں پھسنتے رہے- دیکھتے ہی دیکھتے وہ اچھے تعلیمی اداروں، اسپتالوں، پارکوں، کھیل کے میدانوں اور دوسرے اہم تفریحی مواقع سے ہاتھ دھو بیٹھے- شہروں میں تعمیر ہونے والی کشادہ سڑکیں، بلین روپے کی لاگت سے تعمیر ہونےوالے پل، فلائی اورزاورانڈر پاسز بھی عوام کو مشکلات کے گرداب سے نکال باہر نہ کر سکے- بڑے شہرانسانوں کا سمندر بن گئے۔ ان کو دیکھ کرزیادہ جبکہ حقیقی سمندروں اور صحراؤں سے کم خوف آتا ہے۔ کچھ معلوم نہیں ہے کہ ان شہروں کی آبادی کتنی ہے؟ ان کا حدود اربعہ کیا ہے؟ ان کا نظام کون چلاتا ہے؟ کون ان کی نوک پلک سنوارتا ہے؟ ان میں کون کون سے لوگ بستے ہیں؟ کون کون سی تنظیمیں اور ادارےکام کررہے ہیں؟ شہروں کے امن کو کس طرح کے خطرات کا سامنا ہے؟ اور ان کا ممکنہ حل کیا ہے؟ یہ بات اہم ہےکہ مردم شماری سے لاہور سمیت ملک کی کل آبادی اور شہروں کی حدودوقیود کے بارے میں صحیح صحیح اندازہ لگایا جاسکے گا- لیکن اہم سوالات اب بھی حل طلب ہیں-

    اندرونی آباد کاریوں یا شہروں کی طرف ہجرت کے پیچھےعوامل کیا ہیں؟ شرح پیدائش کیا ہے؟ روزگاراورمعیاری تعلیم کے اعشاریے کیا ہیں جیسی بنیادی معلومات ابھی حاصل نہیں ہو سکیں گی- اس بارے میں معلومات بعد میں سرویز کے ذریئے حاصل کرنے کی کوشش کی جائےگی- مردم شماری کے اس عمل پر کوئی نگرانی کا نظام متعارف نہیں کرایا جا سکا-صوبوں اور مذہبی اقلیتوں کے خدشات کو دور نہ کیا جاسکا- سپریم کورٹ کے کہنے پر یہ عمل شروع ہوا- عدالت کے کہنے پر معذور افراد کو گننے کا فیصلہ کیا گیا- عدالت ہی کے کہنے پر خواجہ سراوں کےشمار کا عزم کیا گیا- مردم شماری کے فارم میں لفظ عیسائی کو وعدے کے مطابق لفظ مسیحی سے تبدیل نہیں کیا جاسکا جس وجہ سے مسیحی برادری میں اپنی صحیح شناخت کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے- غیر مسلموں کے نام کےغلط اندراج کی شکایات آرہی ہیں- عملے کو بہتر تربیت نہیں دی جاسکی- بہت سوالات بغیر پوچھے پُر کرنے کی شکایات بھی آئیں- اس اہم عمل میں  درست معلومات حاصل کرنے کے لئےخواتین شمار کنندگان کی مناسب موجودگی کو یقینی نہیں بنایا جا سکا- ملک کے بہت سے علاقے ایسے ہیں کہ جہاں خواتین ہی خواتین سے صحیح حقائق کے جانچ پڑتال کر سکتی تھیں- زبانوں اور مختلف مذاہب پر مردم شماری کے دروازے بند رکھے گئے- اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بے ہنگم انداز سے ہونے والی مردم شماری کیا بے ہنگم پالیسیوں کا قبلہ درست کر سکے گی؟ اگر کسی نے حکمرانوں کی بصیرت اور نیت کا عمل دخل دیکھنا ہوتو وہ اس مردم شماری کے عمل کو ہی دیکھ لے- اہل دانش کے لئے حکمرانوں کی نظر میں جتنی جگہ ہوتی ہے وہ سب کو معلوم ہے لیکن مردم شماری کا عملہ خراج تحسین کا مستحق ہےجو آج بھی پطرس بخاری کی لاج رکھے ہوےَ ہے-

    اس دفعہ کی ہونے والی مردم شماری میں بھی پطرس بخاری کے جغرافیہ سے مدد لیتے ہوئے لاہور کے چاروں طرف لاہور ہی کو شمار کیا گیا ہے- نتائج جلد ان کے کتبے پر بھی نئے قلم کے ساتھ چسپاں کر دئیے جائیں گے یا پہلے سے مٹے ہوئے الفاظ کو اجاگر کر کےبھی اس مقصد کی تکمیل ہوسکتی ہے–

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleنفرت کرنےکافن
    Next Article انتہا پسندی اور بیانئے کی بحث
    اعظم خان

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024
    Leave A Reply Cancel Reply

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by