Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»اپنے کام سے کام رکھیے صاحب!
    کالم

    اپنے کام سے کام رکھیے صاحب!

    صاحبزادہ محمد امانت رسولBy صاحبزادہ محمد امانت رسولجنوری 30, 2018کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    نان پروفیشنلزم (Non Professionalism)کا مطلب یہی ہے کہ انسان اپنےشعبے یا کام سے ا نصاف نہ کرے اور اپنے سے غیر متعلقہ شعبو ں میں رائے زنی کے ساتھ ،ان میں مداخلت بھی کرے۔یورپ نے دیگر شعبوں کی طرح اسے بھی اک انڈسٹری کا درجہ دے دیا ہے ۔وہاں باقاعدہ طور پر اس کی تربیت اور ٹریننگ دی جاتی ہے کہ آپ نے اپنے شعبے کے ساتھ کیسے انصاف کر نا ہے اور اسے ہر پہلو سے کیسے کا میاب بنانا ہے اور اپنی کار کر دگی کیسے بہتر سے بہتر دکھانی ہے؟ ۔اسے Professionalism کہیئے یا اسے بزنس کے Etiquette کا نام دیجئے ۔

    ہمارے ہاں اسے خوبی خیال کہا جا تا ہے کہ آپ اپنے شعبے سے انصاف کریں یا نہ کریں لیکن دوسرےکے شعبے میں اپنے اختیارات کا (ناجائز) استعمال کر تے ضروردکھائی دیں۔ایسے رویّے پہ عوام کی طرف سے پذیرائی اور داد تحسین بھی سمیٹی جاتی ہے ۔اس داد و پذیرائی کی وجہ یا تو عوام کو اس کاشعور  نہ ہونا ہے کہ ان صاحب کا اصل کام اور فرض کیا ہے ؟یا پھر لوگ کسی کی مخالفت و عداوت میں غلط فعل کو غلط نہیں کہتے۔یہ ایسے ہی ہے جیسے زینب کے والد نے چیف آف آرمی سٹاف اور چیف جسٹس سے انصاف کی اپیل کی اور حکومت پنجاب کا ذکر نہ کیا ،جب کہ یہ ذمہ داری حکومت پنجاب کی ہے۔ حکومت پنجاب نے ہی دیگر اداروں کے ساتھ مل  کر زینب کے قاتل کو گرفتارکیا ہے۔

    ہمارے ہاں اس کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے کہ ہر شخص اپنے کام سے کام رکھے اور اپنی خدمات کا مر کز و محور اپنے شعبے کو بنائے۔آرمی چیف یا  چیف جسٹس کیلئے اپنے شعبے اور برادری میں بہت سے کام کر نے والے  ہیں جو ابھی تک ہو نا باقی ہیں۔اس ملک میں ہزاروں نہیں لاکھوں لوگ ہیں جو اپنے مقدمات میں انصاف کے منتظر ہیں ۔چیف جسٹس عوام کیلئے سستا انصاف نہیں بلکہ مفت انصاف کا نظام لانے کی کوشش کریں۔عدالتوں میں رشوت کا بازار گرم ہے ۔جس کا مشاہد ہ آئے روز ہم عدالتوں اور کچہریوں میں کر تے رہتے ہیں اس کا خاتمہ کریں ۔ ایک نہیں کئی ایسی شریف فیملیوں کو میں ذاتی طور پر جا نتا ہوں جن کی دولت اور شرافت کو دیکھ کر وکلاء نے  اپنے چنگل میں انہیں ایسا پھنسایا کہ سال ہا سال بیت گئے وہ  جھوٹے مقدمات سے رہائی نہ پا سکے ۔وکلا گردی کی اصطلاح ہمارے معاشرے میں ایسے ہی مشہور ہے جیسے دہشت گردی کی اصطلاح۔ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے وکلاء کو نا جائز مقدمات کی دھمکی دیتے دیکھا  اور سنا ہے ۔چیف جسٹس صاحب اپنے ہی شعبے میں اصلاحات کر دیں تو یہ بھی پوری قوم پہ احسان ہو گا کیو نکہ ہم میں سے ہر دوسرا شخص قانونی معاملات میں کچہری اور عدالت آتا جاتا رہتا ہے۔

    یہ پروفیشنلز م ہے کہ آپ جس شعبے میں ہیں اس میں مہارت اور فن سے ترقی اور کمال لانے کی کوشش کریں۔قانون اور شرعی طور پر آپ پابند بھی اسی بات کے ہیں کہ آپ کو جس کا ذمہ دار بنا یا گیا ،آپ اس میں تبدیلی لانے کی کوشش کریں ۔میڈیکل کے شعبہ سے وابستہ فرد اپنے شعبے کو اپنی تحقیق و جستجو کا مر کز بنائیں،عالم دین علم و شریعت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے،استاذ تعلیم و تربیت سے قوم کے مستقبل کو روشن کرے۔قاضی اپنے فیصلوں سے قوم کی زندگی کو آسان بنائے۔تب ہی معاشرے میں تجر بہ کار اور ماہر افراد پیدا ہوتے اور افرادِ معاشرہ باشعور ہوتے ہیں۔ ورنہ  اسی طرح ہوتا ہے جب قوم کو کچھ لوٹانے اور دینے کا وقت آ تا ہے تو وہ اپنا شعبہ چھوڑ کر سیاست میں آجاتے ہیں یا پھر میڈیا کو اختیار کرلیتے ہیں ۔وہ اس بات پہ ہی پھولے نہیں سماتے کہ اخبارات اور چینلز ہماری "دبنگ انٹری”اس طرح دکھاتے ہیں جیسے ہم اس قوم کے نجات دہندہ ہیں۔حالانکہ قوم کا نجات دہندہ ہونا تو درکنار، وہ اپنے شعبے میں بھی ایک بونے سے بڑا قد نہیں رکھتے ۔اگر ان کے قد کا اندازہ کر نا ہو تو ان کی ریٹائر منٹ کے بعد معلوم کیجئے کہ انہیں  اپنے ہی لوگ کیسے یاد کر تے ہیں  اور  اپنے شعبے میں انہوں نے جو کارنامے سر انجام دیے، ان کے نتائج کیا سامنے آ رہے ہیں ۔دور حاضر میں پرو فیشنلزم یہی ہے کہ آپ اپنی jurisdiction میں ہی  Engaged رہیں ۔اسی سے نام زندہ رہتا ہے اور کا م بھی۔

     

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleداعش افغانستان میں
    Next Article فلموں کے سکرپٹ لکھنے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں
    صاحبزادہ محمد امانت رسول

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by