Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رپورتاژ»مدرسہ مائنڈ سیٹ
    رپورتاژ

    مدرسہ مائنڈ سیٹ

    عاطف ہاشمیBy عاطف ہاشمیجنوری 26, 2018کوئی تبصرہ نہیں ہے۔8 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز نے  مدرسہ مائنڈ سیٹ  کے موضوع پر اپنی سروے رپورٹ جاری کر دی ہے،رپورٹ کے اجرا کی تقریب 24 جنوری  کو  اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد کی گئی جو کہ دو سیشنز پر  محیط تھی،پہلی نشست میں فاضل محققین  نے اس تحقیقی رپورٹ  سے متعلق اپنے تجربے سے آگاہ  کیا اور اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کلیدی خطبہ دیا جبکہ دوسری نشست میں ملک کے نامور سکالرز اور دانشوروں نے موضوع کی مناسبت سے معروضات  پیش کیں۔دونوں نشستوں میں میزبانی کے فرائض  ممتاز سکالر خورشید ندیم نے سرانجام دیے جبکہ محمد اسماعیل  خان  نے رپورٹ کے نتائج  پر مبنی پریذینٹیشن دی۔

    سینئر صحافی اور مدرسہ سروے رپورٹ میں بطور فیلڈریسرچر کام کروانے والے  سبوخ سید نے کہا کہ رپورٹ کی تیاری کے دوران ہم  نے محسوس کیا کہ طلبہ کی گفتگو اساتذہ کے سامنے کچھ تھی اور باہر کچھ،وہ ہر سوال کا جواب ہاں یا  نہیں  میں  دیتے  اور اساتذہ  و نصاب پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے لیکن  انہیں طلبہ سے جب علیحدگی میں ان کے مستقبل کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ پریشان دکھائی دیے،کراچی کے بعض طلبہ نے  نصاب کے حوالے سے  عدم اطمینان کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ  میڈیا اور این جی اوز سے متعلق بعض مدارس کے مہتممین نے یہ نوٹس  جاری کیا ہوا ہے کہ انہیں کسی قسم کی معلومات نہ دی جائیں،  اس لیے وہ کھل کر جواب نہیں  دیتے، یہی وجہ ہے کہ شروع میں ہمیں  ان سے جوابات لینے میں کافی دقت ہوئی۔

    دوسرے فیلڈ ریسرچر مجتبیٰ راٹھور  نے  کہا کہ چونکہ مدارس کی بنیاد ہی فرقہ واریت پر ہے اس لیے وہ  اپنے حلقے سے نکلنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے،ہر مکتب فکر کے مدرسہ پر صرف اسی کی تنظیمو ں اور اداروں کا اثر و رسوخ  ہے اور وہ اپنی ہی ہم مسلک سیاسی جماعتوں سے وابستہ ہیں،کچھ تعداد ایسے طلبہ کی بھی ہے جو قومی دھارے کی سیاسی جماعتوں سے وابستہ ہیں۔

    اقبال انٹر نیشنل انسٹی ٹیوٹ فارریسرچ اینڈڈائیلاگ کے ریسرچ سکالر اور مدرسہ سروے رپورٹ میں بطور فیلڈ ریسرچر کام کرنے والے محمد یونس  نے  کہا کہ اگرچہ  مدارس کے نصاب میں ایسا کوئی مواد شامل نہیں ہے جو فرقہ واریت  کو فروغ دیتا ہو لیکن ہر مدرسہ میں ایک ایسا استاد موجود ہوتا  ہے جو بچوں کی مناظرانہ خطوط پر تربیت کرتا ہے اور دوسرے مکاتب فکر کے بارے میں نفرت کی آبیاری کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دیوبندی مدارس میں  تا حال اینٹی شیعہ سوچ موجود ہے،اور اسی طرح  بعض بریلوی حلقوں میں  شیعہ مخالف سوچ سپاہ صحابہ  سے بھی بڑھ کر پائی جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بعض مدارس میں اخبارات پر اب تک پابندی ہے جس کی وجہ سے  طلبہ  معاشرے میں  رونما ہونے والی تبدیلیوں سے ناواقف رہتے ہیں۔ محقق محمد یونس نے مزید کہا کہ   مختلف سطحوں پر مدارس کی ضرورت پر بحثیں ہوتی ہیں اور ہمارے بہت سارے دوست ان کے وجود بھی قائل نہیں ۔ بعض لوگ وہاں عصری تعلیم کی شمولیت پر زور دیتے ہیں مگر میرے خیال میں کوئی ایسا نظام وضع ہونا چاہیئے جس سے مدارس کے طلبہ کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے باقاعدہ تربیت دی جاسکے اور انہیں معاشرے کا ایک بہترین اور کارآمد فرد بنایا جاسکے۔ اس سلسلے میں مدارس کی انتظامیہ اور مدارس کے وفاقوں پر انحصار کرنے کی بجائے ایسے اقدامات ریاستی سطح پر اٹھائے جائیں۔ کیونکہ مدارس انتظامیہ اور وفاق کے منتظمین کے ساتھ مل کر یہ کوششیں گذشتہ تیس سال سے کی جارہی ہیں مگر ضیاء دور اور مشرف دور میں ملنے فنڈز سے علماء کرام کے پرائیویٹ عصری تعلیم کے ادارے تو وجود میں آئے ہیں جو ان کاذاتی  بزنس بن گئے ہیں مگر حقیقی مدرسہ کو یا مدارس کے طلبہ کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔

    اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین  ڈاکٹر قبلہ ایاز نے اپنے کلیدی خطبہ میں کہا کہ  مدرسہ اس وقت بین الاقوامی سطح پر بھی اثرانداز ہو رہا ہے اور قومی و معاشرتی سطح پر بھی،افغانستان کے طالبان  مدارس کے طلبہ ہی تھے، مسئلہ افغانستان پر اس وقت روس،چین اور امریکہ مذاکرات کر رہے ہیں جس میں  مثبت یا منفی سے قطع نظر بنیادی کردار مدرسہ کا ہی ہے۔پاکستان میں بھی قومی سیاست  میں  مدرسہ  کے  تعلیم یافتہ  لوگ نمایاں ہیں۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ مدرسہ کے ہی پڑھے ہوئے اور پاکستان کی سیاست میں بھی بھرپور کردار ادا کررہے ہیں بلکہ ایک موقع پر تو مولانا  فضل الرحمن  وزارت عظمی سے آدھ فٹ کے فاصلے پر رہ گئے تھے کہ ان کی کمان توڑ دی گئی۔انہوں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح  فاٹا کو یونیورسٹی کے نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے ،اسی طرح   مدرسہ اسٹڈی کو بھی نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ ہم مدرسہ کو سمجھ سکیں اور ماضی کی  طرح  مدارس سے متعلق غیر حقیقی  پالیسیاں نہ بنیں ۔ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ ایچ ای سی نے2018 سے ایم اے سسٹم ختم کردیا ہے جس سے مدارس کے لیے میدان وسیع ہو گیا ہے کیونکہ ان کی ڈگری ایم اے عربی و اسلامیات کے مساوی تھی مگر اب وہ ثانویہ خاصہ کی سند مع لازمی مضامین کی بنیاد  پر  عصری جامعات کے بی ایس پروگرامز میں شرکت کر سکیں گے جس سے ان کا فلسفہ،تاریخ،بین الاقوامی تعلقات اور ماس کمیونیکیشن جیسے میدانوں میں بھی آگے آنے کا امکان ہے۔پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے کردار کو سراہتے ہوئے ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ مدرسہ اسٹڈی پر پاکستان میں پپس کا کردار قائدانہ ہےاور اس ادارے کی طرف سے فراہم کردہ لٹریچر نہایت ہی قابل قدر ہے۔

    دوسرے سیشن  میں اسلامی سکالر صاحبزادہ امانت رسول  نے کہا کہ اگرچہ مدارس کے نصاب میں تاحال کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی تاہم  اس کے متوازی سیمینارز و محاضرات کا ایک سسٹم شروع ہو چکا ہے، جس کے مثبت اثرات آنے والے سالوں  میں  ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے۔انہوں نے تجویز دی کہ مدارس کو اب یونانی فلسفہ کی بجائےمغربی فلسفہ نصاب میں شامل کرنا چاہیے۔

    ممتاز  دانشور حارث خلیق  نے کہا کہ وہ اس مفروضے سے اتفاق نہیں کرتے کہ مدارس انتشار اور تخریب کے ذمہ دار ہیں،انہوں نے کہا کہ احیائےعلوم کا مسئلہ تہذیبی سطح پر ہے۔

    سپریم کورٹ میں شریعت ایپلیٹ بینچ کے جج ڈاکٹر خالد مسعود نے کہا کہ المیہ یہ ہے  کہ مدرسہ ایجوکیشن کی ابتدا ہی  "ضرب یضرب” سے ہوتی ہے جس کا اثر ان پر یہ پڑتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں بغیر مار کے کام نہیں چل سکتا،اس لفظ کے علاوہ بھی کسی لفظ سے ابتدا کی جاسکتی تھی۔انہوں نے کہا  انتہاپسندی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کو اپنی کتابوں کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ غلط اپروچ ہے،اور اس وجہ سے جو نرگسیت آتی ہے وہ انتہاپسندی کی طرف لے جاتی ہے۔

    سوال و جواب کی نشست میں خواتین نے  بھی حصہ لیا اور  اور خواتین کے مدارس  کے حوالے سے بھی  گفتگو ہوئی،ڈاکٹر قبلہ ایاز   نے کہا کہ ان کا مشاہدہ یہ ہے کہ مدرسہ  سسٹم سے گزرنے والی بچیوں میں زیادہ خشونت  پائی جاتی ہے اور ادبیات  کا ذوق بالکل بھی نہیں ہوتا،انہوں نے کہا کہ ہمیں نالج بیسڈ  اکانومی کے بجائے نالج بیسڈ سوسائٹی پر زور دینا چاہیے۔ 

    آخر میں  پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ  اس سروے رپورٹ کا کریڈٹ ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب کو جاتا ہے  کہ یہ انہی کا آئیڈیا تھا،مدارس  اور ان کے نصاب پر بہت کام ہو چکا ہےلیکن ڈاکٹر صاحب کا مشورہ تھا کہ  پڑھائی کے اوقات کے بعد طلبہ کی سرگرمیوں،ان کی سوچ،اساتذہ کے ساتھ تعامل اورسیاسی و سوشل میڈیا پر ان کی سرگرمیوں  کا مطالعہ کیا جائے۔اس سروے کے بہت سے نتائج ہمارے لیے حیران کن  بھی تھے،مثلا یہ کہ اکثریت نے تاریخ  میں دلچسپی ظاہر کی،وہ تاریخ کیوں پڑھنا چاہتے ہیں؟  کیا انہیں شناخت کا مسئلہ درپیش ہے یا کوئی اور وجہ ہے؟انہوں نے کہا  کہ انڈونیشیا کے مدارس   کا جو نظام ہے اس کا تجربہ یہاں بھی کیا جا سکتا ہے کہ  وہ صبح کے اوقات میں سرکاری نصاب پڑھتے ہیں جبکہ ظہر کے بعد دو گھنٹے مذہبی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ وہاں   مذاہب کے تعارف پر مشتمل ایک کتاب ہر طالب علم کے لیے ضروری ہے جس کی وجہ سے انڈونیشیا کا عام شہری بھی  مختلف مذاہب سے ابتدائی  اور ضروری واقفیت رکھتا ہے۔انہوں نے ڈاکٹر قبلہ ایاز کی تجویز سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ  مدرسہ ایجوکیشن اسٹڈی کو ڈسپلن بنانا شاید  زیادہ مفید ثابت نہ ہو کیونکہ اس پر پہلے ہی کافی کام ہو چکا ہے۔


    Gallery

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleسویلین بالادستی پر کوئی کمپرومائز ممکن نہیں۔مرتضیٰ سولنگی
    Next Article اندھیر نگری، چوپٹ راج، جے مہاراج!
    عاطف ہاشمی

    Related Posts

    پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے زیرِ اہتمام "سی پیک کے 10 سال اور پاکستان کی معاشی نمو” کے موضوع پر مباحثے کا اہتمام

    اگست 16, 2023

    پاک انسٹٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) اسلام آباد نے “Pakistan’s Afghan Perspective And Policy Options” کے عنوان سے اپنی رپورٹ کا اجراء کردیا

    جون 21, 2023

    عجائب خانہ ادب: آزربائیجان

    جون 20, 2023

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by