پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز نے تعلیم،امن اور ہم آہنگی کے حوالے سے 2017 میں کالجز اور عصری جامعات کے اساتذہ کے ساتھ ہونے والی ورکشاپس پر مبنی رپورٹ جاری کردی ہے۔ رپورٹ کی تقریب رونمائی اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی جس کی صدارت ادارہ تحقیقات اسلامی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ضیاء الحق نے کی۔ جبکہ مقررین میں معروف سکالر خورشید ندیم،اے ایچ نیر،رشاد بخاری ،ڈاکٹر خالد مسعود اور یاسر پیرزادہ شامل تھے۔
یہ رپورٹ پاکستان کی جامعات اور کالجز کے اساتذہ کرام اور معروف ماہرین تعلیم،دانشوران،مذہبی،سماجی اور سیاسی امور کے ماہرین کے مابین منعقد کیے گئے دس مکالموں کی روداد پر مشتمل ہے ،انگریزی میں رپورٹ کی تیاری کا کام محمد اسماعیل اور صفدر سیال نے کیا جبکہ اردو میں مکمل کارروائی کی ترتیب و تدوین میں عابد سیال اور راقم الحروف نے حصہ لیا۔ ان مکالموں کا اہتمام مارچ 2017 سے ستمبر 2017 کے درمیانی عرصہ میں کیا گیا۔
مقررین نے اپنے خطابات میں پپس کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ عامر رانا نے جامعات اور اداروں کی طرف سے آج فرض کفایہ ادا کر دیا ہے۔
معروف دانشور اے ایچ نیر نے عدم برداشت پر قابو پانے کے لیے مکالمہ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مکالمہ معاشرے کے صرف چند افراد کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے بلکہ معاشرے کے تمام طبقات کواس میں شریک کرنا ضروری ہے،ان کا کہنا تھا کہ ہماری روایت میں بحث ومباحثہ کو براسمجھا جاتا ہے جبکہ علم اس وقت تک فروغ نہیں پاتا جب تک وہ قوت استدلال سے بھرپور نہ ہو۔ جامعات میں قوت استدلال کی تربیت دینا بہت ضروری ہے،نیز طلبہ کو بتایا جائے کہ تخریبی اور تخلیقی استدالا میں حد فاصل کیا ہے؟جب بحث ذاتیات پر آجائے اور چیخ وپکار شروع ہو جائے جیسا کہ ہم روزانہ رات آٹھ بجے سے
اسلامی نطریاتی کونسل کے رکن خورشید ندیم نے کہا کہ یہ پہلی جامع اورمستند رپورٹ ہے جس میں تعلیمی میدان میں شدت پسندی کی وجوہات کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے اور اس طرح عامر رانا نے فرض کفایہ ادا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو چیزیں نظری ہیں اور دو عملی ، عملی طور پر تعلیم کے معاملے میں فکری وحدت کی ضرورت ہے اور اسے صوبائی مسئلہ بنانے کی بجائے ریاست کو چاہیے کہ وہ اس سے متعلق اپنی ترجیحات متعین کرے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کے اقدامات میں ابہام در ابہام ہے،صوبہ کے پی میں مدارس اصلاحات کی خبر آئی ہے لیکن یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ وفاق المدارس کو اعتماد میں لیے بغیر صرف ایک صوبے کی حد تک یہ کام کیسے ہوگا؟ دوسرا انتظامی مسئلہ یہ ہے کہ سول سوسائٹی اور ریاست میں کوئی ہم آہنگی نظر نہیں آتی،بیک وقت کئی لوگ پہیہ ایجاد کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور ریاست و معاشرے کی سطح پر ایک واضح انتشار فکر نظر آرہا ہے۔بحیثیت رکن نیکٹا مجھے وہاں بھی ابہام میں کوئی کمی نظر نہیں آئی۔
رشاد بخاری کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہمارا طبقات پر مبنی نظام تعلیم غیر شعوری طور پر سائنسی فکر،تخلیقی
معروف صحافی یاسرپیرزادہ نے انتہاپسندی کے حوالے سے میڈیا کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر تین چار سال پہلے کے میڈیا کا ہم جائزہ
تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر ضیاء الحق نے کہا کہ آج ہماری جامعات محقق اور سکالر تیار کرنے کی بجائے فرقہ وارانہ ایکٹیویسٹ تیار کررہی ہیں ،ہم دوسروں کو مسلمان بنانے کی بجائے ہم مسلک بنا رہے ہیں،اور یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ایسے میں پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز امید کا چراغ ہے۔ہمیں آج قومی بیانیہ کی تشکیل کے لیے یہ سوچنا ضروری ہے کہ تعلیمی میدان میں کون سی ایسی خامیاں ہیں جو تشدد،فرقہ واریت اور شدت پسندی کو جنم دیتی ہیں۔
پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا نے تمام مہمانوں کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ یہ مکالمے اساتذہ کرام کے درمیان باہمی روابط بڑھانے کے ساتھ ساتھ ایک مثبت علمی تعلق کا سبب بنے ہیں۔ ہمارا مقصد اساتذہ کو مثبت مکالمے کی طرف لانا تھا تاکہ وطن عزیز کو جن فکری، سماجی،نظری اور تعلیمی مسائل کا سامنا ہے اس پر ان کی آراء سے نہ صرف ان مسائل کی نوعیت کو سمجھنے میں مددملے بلکہ وہ راہیں بھی روشن ہوں جن پر چل کر ہم اپنے سکولوں،کالجوں اور جامعات کو مفید شہری بنانے کے ادارے ،امن کے گہوارے اور فکری نشوونما کی نرسریاں بنا سکیں۔
