پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علماء اسلام (س) نے آئندہ عام انتخابات کے لیے مشترکہ انتخابی لائحہ عمل بنانے پر اتفاق کرلیاہے۔ اس بات کا فیصلہ چند روز قبل دونوں جماعتوں کے سربراہان (عمران خان اور مولانا سمیع الحق) کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مشاورت اور رابطوں کا عمل جاری رکھیں گے تاکہ آئندہ انتخابات سے قبل دونوں جماعتیں قریب آسکیں۔ ملاقات میں عمران خان نے کہا کہ مولانا سمیع الحق نے خیبر پختونخوا میں اسلام کی ترویج و اشاعت کے لیے ہماری حکومت کے اقدامات کی مکمل تائید و معاونت کی ہے جس پر ان کے شکر گزار ہیں۔ عمران خان کے مطابق مولانا سمیع الحق اور ان کی جماعت بہت سے قومی معاملات اور مسائل پر تحریک انصاف سے ذہنی اور نظریاتی ہم آہنگی رکھتی ہے، جس سے دونوں جماعتوں کے مابین تعاون کے امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ ہم ایک دوسرے کی معاونت سے دینی اور عصری علوم کے مراکز کو اپنے پاؤں پر کھڑا کریں اورعلماء کو ان کا متعلقہ مقام دلوایا جائے۔ مولانا سمیع الحق نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے صوبے میں اسلام کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی تعریف کی اورکہا کہ اس وقت ہمیں مشترکہ طور پر آنے والے طوفانوں کے سامنے بند باندھنا ہوگا کیونکہ ملک کو ہر طرف سے دشمنوں نے گھیر رکھا ہے ۔ دونوں جماعتوں کے نظریات میں مماثلت ہے، اسی وجہ سے دونوں ملکر کام کرنا چاہتے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ اتحاد نوشہرہ تک محدود نہیں بلکہ یہ اتحاد ملک بھر میں تمام نشستوں پر کیا جائے گا۔ مولانا سمیع الحق کے حوالے سے ان کے پرائیویٹ سیکریٹری احمد شاہ کے مطابق اس اتحاد کی تفصیلات 29 نومبر کو لاہور میں پارٹی کی مجلسِ شوریٰ کے اجلاس کے بعد سامنے لائی جائیں گی ۔ انہوں نے تصدیق کی کہ پی ٹی آئی کے ساتھ جے یو آئی (س) کا اتحاد ملک بھر میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کے لیے ہوگا جبکہ ان نشستوں میں سے کس نشست پر ان کی پارٹی کا امیدوار سامنے آئے گا، اس کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔متحدہ مجلس عمل کی دوبارہ بحالی کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے کا باب بند ہو چکا ہے اور اس کا دوبارہ فعال ہونے کا ابھی امکان موجود نہیں۔ جے یو آئی (س) کے سینئر نائب صدر حامد الحق نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ جے یو آئی (س) گزشتہ انتخابات میں قومی و صوبائی اسمبلی کی کامیاب نشستوں پر اپنے ہی امیدواروں کو سامنے لائے گی ، پی ٹی آئی نے ان کا یہ مطالبہ تسلیم کر لیا ہے ۔یادرہے کہ گذشتہ انتخابات میں جے یو آئی (س) 2002 کے بعد کسی نشست پر کامیابی حاصل نہیں کرسکی۔
چند روز قبل مذہبی سیاسی جماعتوں بشمول مولانا سمیع الحق نے ایم ایم اے کی بحالی پر اتفاق رائے کا اظہار کیا تھا جس کا دسمبر میں باضابطہ اعلان کرنے کا عندیہ بھی دیا گیا تھا۔ایسے وقت میں مولانا سمیع الحق اور عمران خان کی ملاقات اہمیت اختیار کرجاتی ہے۔
مولانا سمیع الحق کا پی ٹی آئی کے ساتھ انتخابی اتحاد جے یوآئی (ف) اور جماعت اسلامی کے لیے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔ماضی میں بھی مولانا سمیع الحق ایم ایم اے کا حصہ تھے مگر سینیٹ کی نشست حاصل کرنے کے بعد ایم ایم اے سے جدا ہوگئے تھے مگر اس دفعہ ایم ایم اے کی بحالی سے قبل ہی مولانا سمیع الحق ایم ایم اے سے الگ ہوگئے ہیں۔خیبرپختونخواہ میں مولانا سمیع الحق اپنے شاگردوں کی ایک بڑی تعداد رکھنے کے باوجود ووٹ بینک سے محروم ہیں ،البتہ نوشہرہ میں ان کا کسی حد تک ووٹ بینک ہے مگر اس نشست پر بھی وہ کبھی کسی کے تعاون کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکے۔ ماضی کی طرح آئندہ انتخابات میں مولانا فضل الرحمن کی جانب سے عمران خان پر یہودی لابی جیسے الزامات اور عوام میں اس قسم کے پروپگنڈے کی روک تھام کیلئے مولانا سمیع الحق ڈھال ثابت ہونگے مگر یاد رہے کہ عمران خان پر مولانا فضل الرحمن سے بھی پہلے یہودی ایجنٹ ہونے فتویٰ مولانا سمیع الحق کے مدرسہ دارالعلوم حقانیہ کے شیخ الحدیث ڈاکٹر شیر علی شاہ نے جاری کیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے الزامات اور مولانا سمیع الحق کی جانب سے پی ٹی آئی حکومت کے اقدامات کو لائق تحسین قرار دیئے جانا مذہبی طبقے کو جہاں سوچنے پر مجبور کرے گا وہیں انہیں مشکوک بھی کرے گا کہ درست موقف کس کا ہے اور کس کے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے۔
یہ اتحاد پی ٹی آئی کے لیے خیبرپختونخواہ میں توکارآمد ثابت ہوسکتا ہے مگر دیگر صوبوں میں پی ٹی آئی کو اس حوالے سے ردعمل کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔ مولانا سمیع الحق افغان جہاد اور تحریک طالبان پاکستان کے حامی رہے ہیں، ڈرون حملوں میں تحریک طالبان کے اہم رہنماؤں کے ہلاک ہونے پر مولانا سمیع الحق ہمیشہ تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ مولانا سمیع الحق کو جہاں ایک جانب طالبان کا گاڈ فادر قرار دیا جاتا ہے تو دوسری جانب تحریک انصاف کے قائدعمران خان بھی طالبان کے دفاتر کے قیام کی خواہش کا اظہار کرچکے ہیں۔دونوں رہنماؤں کے نظریات میں ہم آہنگی اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ لبرل جماعت کے سربراہ ہونے کے باوجود عمران خان شدت پسند عناصر کے حامی سوچ کے مالک ہیں ۔ یہی نظریہ انکے لئے ملک کے دوسرے صوبوں بالخصوص پنجاب میں مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ مولانا سمیع الحق سے اتحاد کے بعد طالبان کی حمایت کرنا اور انکے نظریے کے پرچار سے تحریک انصاف کا ووٹ بینک بری طرح متاثر ہوسکتاہے۔ تاہم یہ دیکھناہوگا کہ عمران خان اور انکی جماعت اس اتحاد کے اثرات کو خیبرپختونخوا تک محدود رکھنے میں کامیاب ہوپاتے ہیں یا نہیں۔

