رسول اللہ ﷺ کسی خاص زمانے یا خاص قوم کی طرف معبوث نہیں ہوئے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کوتمام زمانوں اورتمام انسانیت کے لئے نبی بنا کر بھیجا ۔ قرآن مجید اللہ کا آخری او ر ابدی پیغام ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی سیرت قرآنی احکامات کی عملی تفسیر اور مکمل پیروی کا نام ہے۔ قرآن مجید کی آفاقیت کو آپ کی سیرت نے اپنے اندر سمو لیا ہے۔ اس لئے ہر زمانے اور معاشرے کا انسان آپ کی سیرت سے استفادہ کر سکتا ہے ۔ آپ کی سیرت مبارکہ زندگی کے ہر پہلو میں ہماری راہنمائی کرتی ہے۔ میں نے اس  مضمون میں چار پہلو بالا ختصار بیان کیے ہیں جن کا تعلق ہماری اجتماعی ، سیاسی ، سماجی اور خاندانی زندگی سے ہے۔ یہ اس لئے بھی اہم ہیں کہ ہم انفرادی زندگی سے اجتماعی زندگی تک، سیرت کی بنیادی راہنمائی سے محروم ہوتے جا رہے ہیں ۔
آیئے سیرت کے ان چار اہم پہلوؤں کا مطالعہ کرتے ہیں

مثبت سوچ اور رویہ

 

 

 

آپ ﷺکے خلاف جتنی بھی سازشیں کی گئیں ،راستے میں کانٹے بچھائے گئے،اونٹ کی اوجھڑی ڈالی گئی، پتھر برسائے گئے، کوڑا ڈالا گیااور آپ سے زبانی بدکلامی کی گئی لیکن آپ نے کبھی معاشرے کی بہتری اور فلاح کو ترک نہ کیا ،حتیٰ کہ اپنے رفقاء کو بددعا سے بھی منع فرمایا۔ کفار و مشرکین ،منافقین ،یہودو نصاریٰ نے آپ کو تکلیف دینے کا ہر طریقہ اختیار کیا۔ آپ نے کبھی ان سے انتقام کا راستہ اختیار نہیں  کیا،درحقیقت مشکلاتِ زندگی ایک صالح انسان کو اسے اپنے مقصد سے ہٹانے کیلئے آتی ہیں لیکن مثبت لوگ ہمیشہ اس سوچ ،رویئے اور کارروائی سے باز رہتے ہیں جو انہیں اپنی منزل سے دور کر دیں۔ میں یہاں شب ہجرت کا ذکر ضرور کروں گا جب کفار و مشرکین نے آپ ﷺکے قتل کا فیصلہ کر لیا تو آپﷺ نے حضرت علی کو بلا کر فرمایا”میرے ذمہ بہت سی امانتیں ہیں، تم میری جگہ سو جاؤ اور امانتیں ادا کر کے مدینہ پہنچ جانا” اندازہ کیجئے ! مخالفت کے باوجود ان لوگوں کو آپ کی صداقت پہ کتنا بھروسہ تھا کہ اپنی امانتیں آپ ﷺ کے پاس رکھواتے ۔ مثبت عمل کا نتیجہ ہمیشہ اچھا ہی ہوتا ہے،دشمنیوں اور عداوتوں کے باوجود آپ ﷺ نے اپنے دشمنوں کا بھلا ہی سوچا،انہیں کبھی  نقصان نہیں پہنچایا اور ہمیشہ ان کیلئے ایمان کی دعا فرمائی۔

ردعمل نہیں عمل

 

 

 

حضور ﷺ کی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ زندگی کی بنیاد عمل پر رکھنی چاہیے۔ میں نے پہلی بات جو عرض کی وہ دوسری بات سے بالکل جدا ہے۔ ردعمل کی سوچ اجتماعی عمل کو بانجھ کر دیتی ہے، قوم ردعمل کیلئے کسی بڑے حادثے کا انتظار کرتی ہے۔ جب کوئی حادثہ ہوا‘ قوم اٹھتی ہے ، ردعمل ظاہر کرتی ہے اور پھر سو جاتی ہے، اسے اس خواب غفلت سے پھر کوئی حادثہ ہی اٹھا سکتا ہے۔ ردعمل کا رویہ قوم کے اعصاب و ارادوں کو شل کر کے رکھ دیتا ہے۔ حضور ﷺ ایک خدائی پروگرام کے مطابق احسن طریقے سے اپنے مقصد کی طرف بڑھتے رہے، آپ عمل کرتے رہے،مخالف ردعمل کرتے رہے،آپ نے قرآن مجید سنایا، انہوں نے ردعمل میں شاعری کا الزام لگایا، آپ نے توحید کی تعلیم دی ، انہوں نے شرک کا پرچار کیا، آپ نے اسلام کی دعوت دی، کفار نے دعوت کا انکار کیا، مسلمانوں نے ہجرت کی انہوں نے تعاقب کیا، مسلمانوں نے سرعام تلاوت کی، کفار نے اذیت دی، آپ ﷺ نے معاہدات کیے انہوں نے معاہدہ شکنی کی،اسلام پھیلتا رہا وہ روکنے کی کوشش میں لگے رہے،پیغمبرخدا اور مسلمان عمل میں رہے، کفار و مشرکین ردعمل میں رہے،وقت نے ثابت کر دیا کہ جیت عمل کرنیوالوں کی ہوتی ہے۔ ردعمل کرنیوالے ناکام ہوتے ہیں کیونکہ انکو بیدار رکھنے کیلئے ہمیشہ ایمرجنسی حالات کی ضرورت ہے اور ایسے حالات ہمیشہ رہتے نہیں ہیں۔
رسول اللہﷺنے مسلمانوں کی خفیہ صلاحیتوں کو جگایا،انہیں ایک باعمل انسان بنایا،انہیں وہ سوچ دی جو عمل پر مبنی تھی۔اس حوالے سےبہت سارے  واقعات ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔ کسی کافر ، منافق یا مشرک نے آپ کی شان میں گستاخی کی،صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی ہمیں حکم دیجئے ،ہم اس گستاخ کی گردن سر تن سے جدا کر دیں ۔لیکن آپ نے منع فرمایا اور معاف کرنے کو ترجیح دی چونکہ یہ ردعمل کا نتیجہ تھا، اس لئے آپﷺ نے اس سے منع فرمایا اور ہمیں تعلیم دی کہ ناقابل برداشت حالات میں ردعمل نہیں۔ عمل کی بنیاد پہ سوچو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے عمل کو عارضی غصہ، وقتی کیفیت اور جذباتی حالت ختم کر دے،تم اپنی طاقت و صلاحیت کو عمل کیلئے جوڑ کر رکھو،یہ دنیوی اور اخروی ترقی کیلئے ذریعہ بنے گی۔
حضرت علی دوران جنگ ایک کافر سپہ سالار کے سینے پہ قتل کرنے کیلئے چڑھ بیٹھے ، اس نے فوراً تھوک دیا، آپ اسی وقت اس کے سینے سے اٹھ گئے ، اس نے کہا میں خدا کا دشمن ہوں اور میں نے آپ کی بھی گستاخی کی،آپ مجھے بیدردی سے قتل کر دیتے لیکن آپ اٹھ کھڑے ہوئے۔ آپ نے فرمایا میں اس لئے اٹھ کھڑا ہوا کہ میری دشمنی کی وجہ یہ ہے کہ تو دشمنِ خدا ہے لیکن جب تو نے تھوکا تو میری ذاتی عداوت بھی اس میں شامل ہو گئی۔ یہ واقعہ حضرت علی کے حوالے سے ہے لیکن اس سے حضوﷺکی سیرت کا یہ پہلو بھی اجاگر ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے صحابہ کی تعلیم و تربیت کیسی کی تھی؟ حضور ﷺ نے انہیں عمل کرنا سکھایا تھا۔ امت مسلمہ کو سیرت سے یہی سبق حاصل کرنا ہے کہ بین الاقوامی معاملات ہوں یا ملکی، سیاسی ہوں یا مذہبی،ردعمل کی پالیسی اختیار نہیں کرنی اور نہ ہی اپنی سوچ اور رویے کو اس کے تابع کرنا ہے۔ بس ہم نے عمل کیے جانا ہے کیونکہ عمل میں Originality ہے۔ ردعمل اشتعال و برانگیختی کا نام ہے۔ اس کا نتیجہ سوائے  وقت ا ور صلاحیت کو ضائع کرنے  کے اور کچھ نہیں ہے۔

تصادم سے گریز

 

 

 

آ پ ﷺنے ٹکراؤ اور تصادم سے احتراز کیا، مکی زندگی ہو یا مدنی زندگی آپ نے بلاتفریق سب سے صلح جوئی کا راستہ اختیار کیا۔ مخالف فریق کی شرائط کو تسلیم کیا اگرچہ وہ خود آپ کے اور آپ کے صحابہ کے خلاف تھیں ، آپ نے اس حد تک جا کر بھی یہ بتا دیا کہ میں کسی قیمت میں تصادم نہیں چاہتا۔ مثلاً صلح حدیبیہ کے موقع پر جو شرائط لکھی گئیں وہ بظاہر مسلمانوں کے مفاد کے خلاف تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اسی سے "خیر” پیدا فرما دی۔ آپ نے ہمیشہ امن و سلامتی کی تمنا فرمائی۔ Confrontation سے آ پ نے ہمیشہ گریز کیا۔ جہاں تک جنگوں کا سوال ہے وہ بھی مسلمانوں پر مسلط کی گئیں ، جب کفار و مشرکین نے مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا ارادہ کر لیا تو مسلمانوں کو جنگ کی اجازت دی گئی، رب تعالیٰ کی طرف سے مدنی دور میں جنگ کی اجازت دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اجازت دشمن کی جنگی تیاریوں اور ان کی طرف سے ہونے والے مذہبی جبر کے باعث دی گئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے "عافیت” کا سوال کیا اور اسی بات کی تلقین فرمائی۔ فتح مکہ کے دن جب کسی نے اسے جنگ و سزا کا دن قرار دیا تو آپ نے فرمایا نہیں یہ رحمت کا دن ہے، حالانکہ فتح مکہ کے روز کفار آپ کے سامنے محکوم قوم کی حیثیت رکھتے تھے لیکن آپ نے اس دن بھی ٹکراؤ سے پرہیز کیا بلکہ سب کو معاف فرما دیا۔ مسلمانوں کی حالت کوئی بھی ہو اسے ہر طرح جانی، مالی نقصان سے خود کو بچانا ہے، اپنے آپ کو خوامخواہ مشکل  اور امتحان میں ڈالنا خدا و رسول کو پسند نہیں ہے ۔اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو راستوں کا اختیار ہوتا تو آپ دونوں میں سے وہ راستہ اختیار فرماتے جو سب سے زیادہ آسان ہوتا۔ آپ نے یہی فرمایا”آسانیاں پیدا کرو، تنگی پیدا نہ کرو،بشارت دو، متنفر نہ کرو۔”ممکنہ حد تک غیر مسلم اقوام سے تصادم سے بچنا یہ سیرت رسول ﷺ کی تعلیم ہے، تصادم سے پرہیز ہی دعوت اسلام کے امکانات کو بڑھاتا ہے، ٹکراؤ سے بچنا ہی غیروں کے دلوں میں مقام بنانے کا سبب ہے،اسلام محبت سے پھیلا اور اب بھی پھیلے گا۔

 نظام اجتماعی

 

 

 

رسول  اللہ ﷺ نے مکہ و مدینہ کے نظام اجتماعی کو یکلخت نہیں بدلا۔ آپ نے ایک ہی وقت میں سب محاذ نہیں کھولے، آپ نے مکہ میں لوگوں کو توحید کی دعوت دی ،انہیں خدا کی طرف بلایا،جو رویے بنیادی حقوق کے خلاف تھے ان کی نشاندہی فرمائی اور چند افراد ایسے تیار فرمائے جو”بنیادی حقوق” کا خیال رکھنے والے اور غیر انسانی رویوں سے پاک تھے۔ آپ نے ان کے سیاسی نظام کو جو قبائلی نظام پہ مشتمل تھا، اسے غیراسلامی قرار نہیں دیا کیونکہ اس نظام میں خوبیاں بھی تھیں۔ اس نے لوگو ں کو آپس میں باندھ کر رکھا ہوا تھا۔ اس نظام میں سردار و قبیلہ کا تصور موجود تھا، لوگ بڑوں کے فیصلے کو سنتے اور مانتے تھے۔ وہ قوم صحرا وریگستان کے ماحول میں پرورش پاتی اور جوان ہوتی تھی‘ ان کی عادات و خصائل میں وہی وسعت و جفاکشی موجود تھی۔ رسول اللہﷺنے ان کی صلاحیتوں  کو اسلام کیلئے استعمال فرمایا، ایسا طریقہ کار اختیار نہ فرمایا اور نہ اپنے ماننے والوں کو اختیار کرنے دیا جو نظام اجتماعی کے خلاف ہو جس سے کچھ کرنے کے مواقع کم اور خوامخواہ کے مسائل کے اضافے کے امکانات زیادہ ہوں۔
یہ نکتہ اس حوالے سے بہت اہم ہے کہ ہمارے مصلحین و مبلغین معاشرے کو اخلاقی بنیادوں پر کھڑا نہیں کرتے اور نہ ہی لوگوں کی اصلاح کا کام کرتے ہیں، لیکن نظام اجتماعی جو اپنی بسیار خامیوں خوبیوں کے ساتھ کام کر رہا ہوتا ہے، اس کو بدلنے کیلئے ایک ایسی جنگ چھیڑ بیٹھتے ہیں جس سے خرابیوں میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ اپنی صلاحیتوں اور قیمتی وقت کو بے فائدہ جنگ میں جھونک دیتے ہیں۔ حضور ﷺنے سب سے پہلے لوگوں کی اخلاقی اقدار کی بنیاد پر اصلاح کا کام کیا، اس بات کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ آپ ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں کرپشن‘ بدعنوانی‘ جھوٹ‘ فریب‘ دغا بازی ‘ زناکاری ‘ شراب نوشی‘ حق تلفی‘ ظلم و زیادتی ‘ انسانی حقوق کی پامالی‘ زمینوں پر قبضہ‘ غبن مال‘ ملاوٹ‘ رشوت ستانی اور ذخیرہ اندوزی جیسی برائیاں ہیں۔ لوگ معاملات میں کمزور ہیں، لوگوں کی فقط اخلاقی حالت ہی نہیں بلکہ علمی،فکری صلاحیت بھی زنگ آلود ہو چکی ہے،اصابت رائے اور وسعت خیال ناپید ہو چکے ہیں ،جہاں لوگوں کے کردار کا یہ عالم ہو تو سب سے پہلے ایک مفکر،مصلح یا انقلابی شخصیت کو کیا کرنا چاہیے ؟ واضح بات ہے ہر شخص یہی کہے گا کہ اسے معاشرے کی اصلاح کرنی چاہیے، وہ اصلاح علم، اخلاق اور فکر کی بنیاد پہ ہونی چاہیے۔ جب مصلحین یہ فریضہ سر انجام دیتے ہیں، اگلے مرحلے کیلئے معاشرہ خود تیار ہو جاتا ہے۔ رسول اللہﷺ نے بھی ایسا کیا کہ سب سے پہلے افراد سازی کا فریضہ سرانجام دیا، افرادسازی کے بعد معاشرے کے نظام اجتماعی میں جو خرابیاں تھیں ان کا علاج بھی خودبخود ہوتا چلا گیا۔
مسلم ممالک میں ہماری  ترجیحات  اس کے برعکس ہیں ۔جو کام ہمیں سب سے پہلے سرانجام دینا ہے ، اس کے نشانات دور دور تک دکھائی نہیں دیتے اور جو کام نتیجتاً خودبخود ہو جاتا ہے، اس کیلئے ہم اپنا سب کچھ کھپا دیتے ہیں۔ سب سے پہلےہم نظام کو چیلنج کرتے ہیں جس وجہ سے مسلم ممالک میں غیرضروری مسائل نے جنم لیا ہوا ہے۔ مذہبی رہنما اسلام کے نام پہ حکمرانوں کو للکارتے اور نظام بدلنے کی بات کرتے ہیں حالانکہ جس نظام کو بدلنے کی بات کرتے ہیں اس کیلئے ذہن سازی اور افراد سازی بہت ضروری ہے۔ حضور ﷺکی سیرت رہنمائی کرتی ہے کہ سب سے پہلے نظام نہیں افراد بدلے جاتے ہیں ایسے افراد تیار کیے جاتے ہیں جو نظام اجتماعی میں ترمیم کرتے،اس کی خوبیوں کو باقی رکھتے اور خامیوں کو دور کرتے ہیں۔
میں نے سیرت کے یہ چار اہم پہلو موجودہ حالات کی روشنی میں نقل کیے ہیں۔ آپ نے ان چار پہلوؤں کا مطالعہ کر لیا۔ اب آپ کا کام یہ ہے کہ آپ اس پہ غور و فکر کریں۔ تعصبات خواہ سیاسی ہوں یا مذہبی، گروہی ہوں یا ذاتی ان سب کی سیرت کے باب میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہم ایسے نبیﷺ کی امت ہیں جنہوں نے تعصبات سے بالا ترہو کر خالص دین کی اشاعت و دعوت کیلئے زندگی بسر کی۔ ہم پر بھی لازم ہے کہ ہم بھی ایسے مسلمان بنیں جو اپنے ماحول و حالات سے بالا ترہو کر سوچیں ،لکھیں اور عمل کریں۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version