شنید ہے کہ رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان نے 25 جون کو پشاور میں اجلاس طلب کیا ہے جس میں مفتی پوپلزئی کو بھی دعوت دی گئی ہے اور 26 جون کو عید منائے جانے کا واضح امکان بتایا جارہا ہے ۔

اس وقت  دنیا بھر میں امت مسلمہ کا تصور ایک خواب کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور کہیں بھی کوئی ایسا مظہر  نظر نہیں آرہا جس میں مسلمانوں کی وحدت   کی عکاسی ہو رہی ہو، بلکہ دن  بہ دن ایسی خبریں سامنے آرہی ہیں  جو مسلمانوں کے درمیان خلیج کے مزید گہرا ہونے کا پتا دیتی ہیں جس کی حالیہ نظیر  قطر  اور خلیجی ممالک کے مابین  پیدا ہونے والی کشیدگی ہے۔

اسلامی ممالک کی تنظیم  او آئی سی   کی خستہ حالی  پر تو ہم ایک عرصہ سے نوحہ کناں ہیں  اور درد دل رکھنے والے  دہائیاں دے رہے ہیں کہ کوئی اسلامی دنیا کا بھی پرسان حال ہو لیکن  امت مسلمہ کی وحدت اور اجتماعیت  کی صدائیں صدا  بہ صحرا   ثابت ہو رہی ہیں۔ مسلم ممالک کی دوسری بڑی تنظیم عرب لیگ ہے  لیکن اس میں بھی کوئی جان نہیں ہے،گو کہ او آئی سی کی بہ نسبت یہ لیگ زیادہ متحرک نظر آتی ہے اور سال میں دو دفعہ اجلاس بھی کرتی ہے لیکن یہ اجلاس نشستن ،گفتن اور پھر  برخاستن سے پہلے بسیار خوردن سے  زیادہ  کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔

خلیجی ممالک کے اتحاد پر مبنی ایک اور  کونسل جی سی سی (گلف کنٹریز کونسل)تھی جس  کا تماشہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے اور یہ اس وقت دو حصوں میں بٹ چکی ہے اور مشرق وسطی  میں شیعہ سنی تقسیم کے بعد   اب اس نئی تقسیم کو اینٹی ٹیررازم اور پرو ٹیررازم کا نام دیا جا رہا ہے اور قطر پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ  داعش،حماس،حزب اللہ اور حوثیوں جیسی  شدت پسند تنظیموں  کوفنڈنگ کر رہا ہے۔ایسے میں یہ بات  واضح ہو رہی ہے کہ مشرق وسطی میں پھیلنے والی جنگ  کی آگ  اب خلیج میں  بھی داخل ہونے والی ہے ۔کیونکہ کسی بھی خلیجی ملک پر وار  سے پہلے اسے تنہا کرنا ضروری ہے اس طرح مسلم ممالک رضاکارانہ طور پر  ایک ایک  ملک کو جنگ کی آگ میں  دھکیل رہے ہیں  اور اپنے  تئیں یہ گمان کیے بیٹھے ہیں کہ ان کے پڑوس میں جلنے  والی آگ جسے وہ مزید بھڑکا رہے ہیں سے وہ خود محفوظ رہیں گے۔

ایسی صورتحال میں پاکستان،ترکی اور ملائشیا کا کردار بڑا اہم ہو جاتا ہے اور  اب تک    کی جنگ میں غیرجانبدار   رہنے کی وجہ سے ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ   اسلامی دنیا   میں  پہلے سے موجود خلیج کو مزید گہرا ہونے سے بچائیں اور اپنی داخلی سلامتی پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے   اسلامی ممالک  کے مابین تنازعات کو بھی خوش اسلوبی سے حل کروائیں تاکہ  امت مسلمہ کی وحدت  کا خواب شرمندہ تعبیر ہو اور  عید کے موقع   پر مسلمانوں کو حقیقی خوشی نصیب ہو۔

یہ عید کا چاند جہاں ماضی میں مسلمانوں کے لیے خوشیوں کا پیغام لے کرآتا تھا اب کچھ عرصہ سے یہ چاند بھی مسلمانوں کے  خلاف سازشیں کرنے لگ گیا ہے اور  پاکستان جیسے ایک ملک میں دو ،دو اور تین تین عیدوں کا باعث بن رہا ہے، لیکن  عرب و عجم سے آنے والی دو خبروں  سے پتا چلتا ہے کہ اس سال   یہ چاند بھی ہمیں اکٹھے ہونے کا موقع دے رہا ہے کہ ہم مل جل کر رہیں اورایک ساتھ عید منائیں۔

 شنید ہے کہ رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان نے 25 جون کو پشاور میں اجلاس طلب کیا ہے جس میں  مفتی پوپلزئی  کو بھی دعوت دی گئی ہے اور 26 جون کو عید منائے جانے کا واضح امکان  بتایا جارہا ہے ۔دوسری طرف معروف  عرب   مجلے المجتمع  کے مطابق  عرب ماہر فلکیات عادل سعدون  کا  بھی کہنا ہے کہ عید کا چاند 25 جون بہ روز اتوار سے قبل نظر آنا  ناممکن ہے،اگر کوئی ہفتہ کی شام چاند نظر آنے کا دعوی کرے تو اس کے دعوی کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے کیونکہ ہفتے کو کوئی  اور ستارہ تو نظر آسکتا ہے مگر چاند نہیں۔سعدون  کے مطابق جو عرب ممالک اتوار 25 جون کو عید  کریں گے ان کی عید اپنے پہلے سے تیار شدہ کیلنڈر کے مطابق تو ہو گی مگر  رؤیت ہلال کے مطابق نہیں۔عادل سعدون کا کہنا ہے کہ شمالی افریقہ کے ممالک   بھی 25 جون  کو  آلات رصد کے ذریعہ ہی چاند دیکھ سکیں گے،برہنہ آنکھ سے وہاں بھی چاند نظر آنے کا امکان کم ہے اس لیے جو ملک بھی ہفتے کی شام چاند نظر آنے کا اعلان کرے اسے واضح دلائل دینا ہوں گے۔

معجزوں کی منتظر قوم دعاگو ہے کہ خدا کرے امسال عید کا چاند پورے عالم اسلام کے لیے حقیقی خوشیاں لے کر آئے اور  امت مسلمہ کی عمارت کے لیے وحدت کی پہلی اینٹ ثابت ہو۔ 

Share.
Leave A Reply

Exit mobile version