عسکری اداروں کی پاکستانی معیشت پر تنقید کے نتیجہ میں حالیہ سول وعسکری تناؤ ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کرتا ہوا نظر آرہا ہے۔ اس دوران ٹیکنوکریٹ یا کسی بھی غیر جمہوری حکومت کی باتیں زبان زدعام ہیں اور ریاستی اداروں کی دوسرے بعض اداروں میں مداخلت کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔ اس موقع پر وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کا یہ کہنا کہ ” ترقی جمہوریت ہی سے ہوگی،کوئی ٹیکنو کریٹ یا غیر جمہوری حکومت مسائل حل نہیں کرسکتی” بڑی اہمیت کا حامل ہے۔
جمہوری اور غیر جمہوری حکومتوں میں ایک واضح فرق یہ بیان کیا جاتا ہے کہ جمہوریت میں غلطیوں کی بروقت نشان دہی اور درستگی کا ایک خود کار نظام موجود ہوتا ہے جبکہ غیر جمہوری حکومتیں اس نظام سے محروم ہوتی ہیں۔ اس کا تجربہ پاکستان میں بارہا ہوچکا ہے۔پاکستان کے متفقہ آئین کا لازمی تقاضا جمہوریت کا تسلسل ہے اور پاکستانی قوم کی بھاری اکثریت بھی اس پر یکسو ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ٹیکنو کریٹ حکومت یا ایسی دیگر تجاویز کو زیر بحث لاکر آئینی وجمہوری نظام کے حوالے سے عوام میں بے یقینی کی صورت حال پیدا کرنا قوم کے مفاد میں ہوگا؟
اس صورت حال میں ریاستی اداروں کی دوسرے بعض اداروں کے دائرہ کار میں مداخلت کا تاثر درست ہے یا تمام ریاستی اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنی اپنی ذمہ داریا ں ادا کرنی چاہییں؟
جمہوری نظام کو لپیٹ کر کسی بھی غیر جمہوری حکومت کا قیام یا ریاستی اداروں کی مسلسل دوسرے اداروں میں مداخلت کے نتیجہ میں پاکستان کو کن سیاسی ومعاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے؟ اس کا فائدہ پورے ملک کو ہوگا یا چند مخصوص افراد کو؟
تجزیات کے قارئین اس بارے میں اپنی آراء کا اظہار اس صفحے پر کرسکتے ہیں۔
