کیا صاف چلی شفاف چلی کا نعرہ لیکر اٹھنے والی پی ٹی آئی حکومت ایسے معاملات کی تحقیقات کرانے میں دلچسپی رکھتی ہے جو اسکی سیاسی ساکھ کو گھن کی طرح چاٹ رہے ہیں۔وائسرائے کی طرح زندگی گزارنے والے 16 گریڈ کے ای ٹی او نے 22 گریڈ کے وائس چانسلر کی سرکاری گاڑی کو آٹھ ماہ تک سرکاری نمبر پلیٹ جاری نہ کر کے قانون اور شرافت کا مذاق اڑایا اور پھر مافیاکے رکن کے اشارے پہ سرکاری نمبر الاٹ کرنے کے عوض بہت کچھ وصول کیا۔
پی ٹی آئی حکومت نے صوبہ خیبر پختون خوا ہ کے سرکاری شعبہ جات میں اصلاحات متعارف کرانے کے بلند آہنگ دعوے کیے اور صحت و تعلیم کے شعبوں میں انقلابی تبدیلیوں کی نوید سنائی تھی لیکن عملاً وہ اس پراگندہ نظام حیات پر کوئی دور رس اثر ڈالنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔جس کا اعتراف خود عمران خان نے حال ہی میں عالمی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کیا،وہ انرجی پروڈیوسنگ، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بہتری لا سکے نہ تحریک انصاف کی قیادت جمود پرور نظام کی طرف سے ہونے والی مزاحمت کا درست ادراک کر سکی۔عمران خان نے کہا کہ بلدیاتی نظام جو آخری سانسیں لے رہا ہے،کو ممبران اسمبلی نے چلنے نہیں دیا۔یعنی صرف جمہوریت ہی نہیں وہ خود بھی ناکام ہو گئے۔بجلی بنانے والے ادارہ پیڈو میں 1.3 بلین روپے ڈوب گئے،ہسپتالوں میں اصلاحات کے خلاف ڈاکٹرز کی مزاحمت نے بلآخر حکومت کو ایم ٹی آئی نظام کی بساط لپیٹنے پہ مجبور کر دیا، کالجز و سکولز کے اساتذہ بائیو میٹرک حاضریوں کے خلاف سربکف ہیں، کاشتکاروں کامگر کوئی پرسان حال نہیں۔اگر یہ کہا جائے کہ پی ٹی آئی کی اصلاحات پالیسی نے رہے سہے زرعی نظام کو منشتر کر دیا تو غلط نہیں ہو گا۔گویاکاونٹر پروڈیکٹیو اصلاحات نے بگاڑ کو دوچند کر دیا۔
ڈی آئی خان کے ریونیو ڈیپارٹمنٹ نے جائیداد کی خرید و فروخت کے لئے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سے این او سی حاصل کرنے کی شرط عائد کر کے ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں کیلئے رقم کمانے کا محفوظ راستہ ایجاد کر دیا،اسی ضابطہ کی آڑ لیکر باکمال لوگوں نے تجوریاں بھرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی،جب بھی کوئی مجبور شہری دکان،مکان یا بنگلہ بیچنا چاہے تو اسے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر سے این او سی لینا پڑتی ہے جو مبینہ طور پہ تین سے پانچ لاکھ روپے کے عوض ملتی ہے لیکن دفتری فائلوں میں ایسی آمدن کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا۔اگر نیب والے اس معاملہ کی چھان بین کرنا چاہیں تو انہیں محکمہ مال میں دکانوں،مکانات اور بنگلوں کی خرید و فروخت کی دستاویزات کے ساتھ منسلک ایکسائز ڈیپارٹنمنٹ کی طرف سے جاری کردہ این او سی کے ریکارڈ کا معائنہ کرنا پڑے گا۔کوئی عام شہری یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ سرویسز فراہم کرنے والے سرکاری اداروں کے اہلکار اتنے سائنسی اور نفیس طریقوں سے شہریوں کا خون نچوڑ سکتے ہیں،یہاں ڈیرہ اسماعیل خان میں نئے موٹر سائیکل خریدنے والے شہریوں کو نمبر الاٹ کرنے سے قبل ایکسائز ڈیپارٹمنٹ والے کراچی اور لاہور کی موٹر سائیکل ساز کمپنیوں سے تصدیقی سرٹیفکٹ منگوانے کی ایسی مہمل شرط پیش کرتے ہیں،جس کا حصول ناممکنات کے قریب ہوتا ہے چنانچہ وہ مجبور شہری،جو اپنی ذاتی رقم سے موٹر سائیکل خریدنے کے بعد حکومت کو ٹیکس دینا چاہے،محکمہ ایکسائز کے اہلکار ان کا دانتوں سے پسینا نکال دیتے ہیں،خاص کر ایسے وقت میں جب پولیس سیکورٹی خدشات کے پیش نظر بغیر نمبر پلیٹ کی موٹر سائیکلوں کے خلاف مہم چلا کے سینکڑوں موٹر سائیکلیں پکڑ کے تھانوں میں بند کر دے تو موٹرسائیکل نمبر حاصل کرنے کی فیس مزید بڑھ جاتی ہے تاہم حصول آسان ہو جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اس منفی دھندہ سے محکمہ ایکسائز کے حکام بالا بے خبر ہیں بلکہ عہد جدید کے موبائل فون کال،واٹس ایپ مسیجزاور آئی ٹی ٹیکنالوجی کے ذریعے تیز تر پیغام رسانی کے باعث پشاور ہیڈ آفس میں بیٹھے ڈی جی،سیکریٹری اور صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن تک پل پل کی خبریں اور طریقہ کار کے ہتھکنڈوں کے ذریعے کی جانے والی کمائی کے اثرات بھی پہنچاتے ہیں،یہ کوئی انہونی بات نہیں بلکہ مبینہ سرگرمیاں دفتری دستور العمل کا حصہ ہیں، اگر یہ رواج نہ ہوتا تو محکمہ ہذا کی منافع بخش پوسٹوں پہ انتہائی جونیئر،نااہل اور بری ساکھ کے حامل اہلکاروں کو تعیناتی کبھی نہ ملتی کیونکہ سیکریٹری اور ڈی جی ایکسائز اینڈ ٹیکسشن جانتے ہیں کہ اچھی ساکھ کے حامل اور اہل افسران کماو پوت نہیں بن سکتے۔
اسی سیکم کے تحت ڈیرہ اسماعیل خان جیسے بڑے اسٹیشن پہ جہاں 1 ڈپٹی ڈائریکٹر،2 اسسٹنٹ ای ٹی او،13 انسپکٹر اور70 کے لگ بھگ کانسٹیبلز اور اے ایس آئز کام کرتے ہیں وہاں 16 گریڈ کے جونئر افسر مگر کماو ای ٹی او کو تعینات رکھا جاتا ہے۔اس کے برعکس ضلع ٹانک جہاں صرف 1 انسپکٹر اور پانچ چھ اہلکاروں پہ مشتمل مختصر سا عملہ ہے وہاں 17 گریڈ کا پی ایم ایس افیسر بیٹھا دیا گیاہے،اسی طرح ضلع لکی مروت جہاں 4 انسپکٹرز اور دس بارہ چھوٹے اہلکاروں پر مشتمل محدود اسٹاف موجود ہے وہاں 17 گریڈ کا پی ایم ایس کیڈر کا ایسا نیک نام اور اہل افیسر تعینات ہے جسکی صلاحتوں کا اعتراف کرنے کے باوجود حکام بالا اسے اچھی پوسٹنگ دینے سے گریزان رہتے ہیں،کچھ ایسی ہی صورت حال بنوں ایکسائز آفس کی ہے جہاں 6 انسپکٹرز اور کم و بیش پندرہ اہلکاروں پہ مشتمل اسٹاف پہ محیط دفتر کیلئے بھی 17 گریڈ کا ای ٹی او تعینات ہے۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پشاور کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا دوسرا بڑا مرکز ہے جہاں سالانہ کروڑوں روپے کی ٹیکس ریکوری ہوتی ہے لیکن اس دفتر میں ہمیشہ جونیئر مگر کماو پوت کو پوسٹنگ ملتی ہے تاکہ گلشن کا کاروبار چلتا رہے۔ڈی جی ایکسائز کے لاڈلے 16 گریڈ کے ای ٹی او کی خرمستیوں کا اندازہ صرف اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے گومل یونیورسٹی کے نہایت بدنام کردار،جن کے خلاف بدعنوانی کی انکوائریز شروع تھیں،کے ایماء پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی گاڑی کے لئے سرکاری نمبر الاٹ کرنے سے انکار کر دیا۔وزیر اعلی سے لیکر گورنر تک ہر سطح تک شکایت پہنچانے کے باوجود وائس چانسلر کی شنوائی نہ ہوئی۔آٹھ ماہ کی اعصاب شکن تگ و دو کے بعد مطلق العنان ای ٹی او نے بلآخر یونیورسٹی کے اسی بدنام اہلکار کے کہنے پر وی سی کو سرکاری نمبر الاٹ کر کے اپنی طاقت کا لوہا منوا لیا۔
کیا صاف چلی شفاف چلی کا نعرہ لیکر اٹھنے والی پی ٹی آئی حکومت ایسے معاملات کی تحقیقات کرانے میں دلچسپی رکھتی ہے جو اسکی سیاسی ساکھ کو گھن کی طرح چاٹ رہے ہیں۔وائسرائے کی طرح زندگی گزارنے والے 16 گریڈ کے ای ٹی او نے 22 گریڈ کے وائس چانسلر کی سرکاری گاڑی کو آٹھ ماہ تک سرکاری نمبر پلیٹ جاری نہ کر کے قانون اور شرافت کا مذاق اڑایا اور پھر مافیاکے رکن کے اشارے پہ سرکاری نمبر الاٹ کرنے کے عوض بہت کچھ وصول کیا۔اگر گومل یونیورسٹی کی گاڑی کو سرکاری نمبر الاٹ کرنے میں قانونی رکاوٹ تھی تو پھر آٹھ ماہ بعد سرکاری نمبر پلیٹ کیسے الاٹ ہوئی؟بدقسمتی سے صحافتی کلچر میں مشاہدے کے فقدان کے باعث پروپگنڈہ کے بہاؤمیں پی ٹی آئی حکومت کی تعریف کرنا فیشن بن گیا۔دوسرے ریاستی ڈھانچے میں گوناں گوں سرکاری دفاتر کی تخلیق اور نت نئے قوانین کی بہتات نے ایسی پیچیدگیوں کو جنم دیا جنہیں ایکسپلائٹ کر کے کوئی بھی سرکاری اہلکار شہریوں کی زندگی اجیرن بنا سکتا ہے،پہلے تو صرف ٹریفک پولیس سڑکوں پہ ناکے لگا کر گاڑیوں کے ٹوکن چیک کیا کرتی تھی،اب خیر سے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن والے بھی سیاہ یونیفارم پہن کے مین شاہراہوں پہ ناکہ بندی کر کے گاڑیوں کے ٹوکن چیک کرنے جیسا کار عظیم سر انجام دینے لگے ہیں۔خاص کر مڈل کلاس کے وہ شہری جو اپنی فیملی کے ساتھ ایک سے دوسرے شہر کو محو سفر ہوں وہ ان ہوشیار اہلکاروں کے لئے نرم چارہ ثابت ہوتے ہیں۔کچھ عرصہ قبل تک صرف پولیس ہی چیکنگ کر کے نان کسٹم اور ٹمپرڈ گاڑیوں کو پکڑ سکتی تھی لیکن اب ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ والوں کو بھی نہ صرف مشتبہ گاڑیوں کو پکڑ کے کمپاؤنڈ کرنے کا اختیار مل گیا بلکہ وہ اب منشیات سمگلنگ کی روک تھام کا فریضہ بھی سرانجام دینے لگے ہیں حالانکہ نارکوٹکس کنٹرول فورس اور کسٹم ڈیپارٹمنٹ جیسے کئی موثر ادارے پہلے ہی سے اندرون ملک سڑکوں،خاص کر صوبائی سرحدات پہ گاڑیوں کی چیکنگ کر کے صوبہ جاتی تفریق بڑھاتے نظر آتے ہیں۔
