Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»سقوطِ بغداد کا معاشرہ
    کالم

    سقوطِ بغداد کا معاشرہ

    صاحبزادہ محمد امانت رسولBy صاحبزادہ محمد امانت رسولاکتوبر 13, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read4 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    سقوطِ بغداد کا معاشرہ اپنی آب و تاب سے ہماری مسجدوں، مدرسوں، گلیوں، بازاروں اور چینلز پہ موجود ہے۔ ابھی تلک ہم سقوطِ بغداد کا معاشرہ قائم کیے ہوئے ہیں۔ ہم امام ابو حنیفہ، امام احمد بن حنبل، امام شافعی اور امام مالک کے معتقد ہیں جنہوں نے دلیل کے کلچرکو رواج دیا ،اپنے سے اختلاف کرنے والے کی رائے کا احترام کیا ،

    ماقبل اور مابعد سقوطِ بغداد کے معاشرے میں واضح فرق صحت مند مکالمہ، مباحثہ اور ڈائیلاگ کا ہے۔ یہی فرق قوم کے عروج کا سبب بھی ہے اور علامت بھی۔ سقوطِ بغداد کے عرصے میں مسلم معاشرے میں مذاکرہ کی بجائے مناظرہ، مکالمہ کی جگہ مباہلہ نے لے لی تھی۔ بغداد کے بازاروں، گلیوں اور محلّوں میں مسلمانوں کے فرقوں کے مابین مناظروں کا بازار گرم تھا۔ تکفیر، تفسیق و تضلیل کے فتاویٰ کے  جاری تھے، علماء، عوام سے، علماءعلماءسے اور عوام عوام سے باہم دست و گریبان تھے بلکہ ایک دوسرے کی بے پناہ تضحیک کا مظاہرہ ڈاڑھیوں کے کھینچنے سے بھی کرتے تھے۔ ان حالات میں ہلاکو خاں بغداد پہ حملہ آور ہوتا ہے۔ ہلاکو خاں بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجاتا،بلا تفریق مسلک و مشرب، مسلمانوں کا قتلِ عام کرتا اور علمی ورثہ کو دریا بُرد کرتا ہواآگے بڑھ جاتاہے۔

    ماقبل سقوطِ بغداد ایک ایسا وقت بھی گزرا جب علماءاوراُمت کا رویہ باہمی طور پر ہی نہیں بلکہ غیر مسلموں کے ساتھ بھی مثالی ہوتا تھا۔ ائمہ، فقہاءاور مشاہیر نے پورے وثوق و تیقّن سے اپنی رائے کو پیش کیا لیکن مقابل کی رائے کا احترام بھی کیا، انہوں نے اپنے gestureسے کبھی دوسرے کو اپنے سے کمتر ہونے کا احساس دلایا اور نہ ہی اپنی رائے کو اُس پہ مسلط کیا۔ قلبی وسعت اور خدا خوفی سے وہ اپنی بات اس طرح پیش کرتے کہ مقابل کے دلائل مضبوط ہوتے یا کمزور ، بہرِ حال اُن کی ذات کے اعلیٰ اخلاقی پہلوﺅں سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتا۔ اُن کے ہاں اجتہاد کی حوصلہ افزائی تھی لیکن گمراہی نہ تھی۔ وہ آزادی اظہار کے قائل تھے لیکن اُن کے ہاں جرات اظہار کے پیمانے اور Parametersتھے۔ انہوں نے دین کی وہ خدمت کی جس کے نتائج و ثمرات سے اُمت آج بھی مستفید ہو رہی ہے۔سقوطِ بغداد کے زمانے کے حالات زوالِ اُمت کا آغاز تھا یا عروجِ اُمت کا اختتام۔ اِسے جو نام بھی دیجیے بہر حال اس دور میں مکالمہ، مباحثہ ،مذاکرہ اور دلیل حالتِ نزع میں تھے۔ ہر صاحبِ مسلک اپنی بات ،رائے اور تحقیق کو حرفِ آخر خیال کرتا اور قرآن و حدیث کی اپنی تشریح و تفسیر کو حتمی تصور کرتا تھا۔ بد قسمتی سے اُمت نے ماضی میں  کی ہوئی غلطیوں سے سبق سیکھ کر نئے سفر کا آغاز کرنے بلکہ یوں کہیے کہ  اعلیٰ اسلامی اقدار سے تعلق قائم کرنے کے بجائے اسبابِ زوال یا زمانہ زوال کے پست رویوں سے ناطہ جوڑ لیا ۔یعنی ہم نے مکالمہ، ڈائیلاگ اور دلیل سے بات کرنے کا رویہ اختیار کرنے کے بجائے تکفیر، تفسیق اورتضلیل کا رویہ اختیار کیے رکھا۔ ہم نے وسعتِ قلبی کے بجائے تنگ نظری کو اختیار کر لیا۔ ہم نے فتنوں کے سدِ باب کیلئے اجتہاد کا دروازہ بند کر دیا۔ لیکن اس سے نقصان یہ ہوا کہ ہمیں ہر نئی بات، سوچ اور رائے فتنہ نظر آنے لگی۔ ہم نے ڈائیلاگ اور مکالمہ کرنے کے بجائے Confrontation کاطریقہ اختیار کر لیا۔ ایسا لگتا ہے ہم آج بھی سقوطِ بغداد کے زمانے میں رہ رہے ہیں۔

    سقوطِ بغداد کا معاشرہ اپنی آب و تاب سے ہماری مسجدوں، مدرسوں، گلیوں، بازاروں اور چینلز پہ موجود ہے۔ ابھی تلک ہم سقوطِ بغداد کا معاشرہ قائم کیے ہوئے ہیں۔ ہم امام ابو حنیفہ، امام احمد بن حنبل، امام شافعی اور امام مالک کے معتقد ہیں جنہوں نے دلیل کے کلچرکو رواج دیا ،اپنے سے اختلاف کرنے والے کی رائے کا احترام کیا ، ہم عصرکی دلیل کو توڑ کر پھینکنے کی بجائے فقط اپنی بات کو پیش کرنے کا رویہ اختیار کیا۔ اُن کا طرزِ استدلال اتنا خوبصورت تھا کہ مخالف رائے رکھنے والا بھی ادب و احترام کے تقاضے بھولتا نہ تھا۔ ہم اِن شخصیات کے پیروکار اور عقیدت مند ہیں لیکن ہمارے رویے اور ذہنیت سقوطِ بغداد کے زمانے کی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم ابھی تلک زمانہ در زمانہ شکست در شکست سے گزر کر بھی کسی طرح اپنے حالات اور حرکات پر نظر ثانی کے لیے تیار نہیں ہیں۔ آج بھی تفرقہ و فرقہ واریت نے ہمارے معاشروں میں اپنے پنجے گاڑھے ہوئے ہیں، آج بھی ہماری مسجدوں کے منبر و محراب ایسے خطیبوں سے گونج رہے ہیں، جن کے نزدیک دین کی خدمت کا مفہوم ہی اُمتِ مسلمہ میں  نفرت و شدّت کو پھیلانا ہے جو علی الاعلان اپنے مخالف مسلک کی مسجد سے اُٹھنے والی اذان کو ہندو کے مندر میں بجنے والے گھنٹے سے تشبیہ دیتے ہیں، جو قرآن مجید کی آیات سے اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے عقائد و نظر یات کو کفر کاپلندہ ثابت کرتے ہیں، جن کا مکمل اصراراُمت کو زیادہ سے زیادہ محدود کرنے پر ہے، جب وہ اتحادِ اُمت کی بات کرتے ہیں تو اُن کے نزدیک فقط اپنے مسلک کی مختلف سیاسی اور مذہبی دھڑوں کا اتحاد ہی اُمت مسلمہ کا اتحاد کہلاتا ہے۔

    اب بھی وقت ہے کہ ہم سقوطِ بغداد سے ماقبل دور کی طرف پلٹیں جو ہماری بنیاد اور اساس ہے۔ اعلیٰ اقدار کی علامت اور ہمارے عروج و ترقی کا سبب بھی ہے۔ ہم اُس جیسا معاشرہ تخلیق کریں جہاں دلیل، مکالمہ اور ایک دوسرے کی رائے کا احترام تھا، جہاں وجوبِ قتل کے بجائے حفاظت جاں کی تعلیم تھی، جہاں اہلِ علم برداشت اور تحمل کے کلچر کو فروغ دیتے اور ایک دوسرے کیلئے اختلاف کے باوجود احترام کا جذبہ رکھتے تھے۔ ہم انہی کے راستے پہ چلتے ہوئے اپنے معاشرے کو زوال، پستی، فتنہ، فرقہ واریت اور دہشت گردی سے پاک کر سکتے ہیں۔ ورنہ یقین کیجئےکہ ہمارے پروردہ نظریات اور رویوں کی آخری اور عملی شکل ”طالبان“ کا اسلام ہی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleشاہ سلمان کے دورہ روس کے مضمرات
    Next Article سیکولرزم کی نئی اسلامی تعبیریں
    صاحبزادہ محمد امانت رسول

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by