سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اپنے ویژن ۲۰۳۰ کی جانب بڑی تیزی کے ساتھ بڑھ رہے ہیں اور سعودی عرب میں مختلف میدانوں میں اصلاحات اور بہبود کا سفر جاری ہے۔ ویژن ۲۰۳۰ کے تحت ولی عہد نے سعودی عرب کو مضبوط معاشی طاقت بنانے اور مملکت میں اصلاحات لانے کا جو عزم کیا تھا اس میں گزشتہ چند ماہ میں کافی پیش رفت ہوئی ہے اور سعودی عرب تیل سے انحصار ختم کر کے امارات کی طرح ماڈریٹ اور مضبوط معاشی طاقت کا حامل ملک بنتا جا رہا ہے۔اس ضمن میں شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے بھی کئی اقدامات اٹھائے ہیں۔
شہزادہ محمد بن سلمان جدید تعلیم یافتہ نوجوان ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے ملک کی شناخت محض حرم مکی و حرم مدنی کی وجہ سے نہ ہو بلکہ غیر اسلامی دنیا بھی سعودی عرب کا رخ کرے اور سعودی عرب سے دنیا بھر کے سیاحتی و تجارتی مراسم قائم ہوں۔یہی وجہ ہے کہ سعودی ولی عہد مستقبل میں خادم الحرمین الشریفین کا مخصوص لقب بھی ترک کرنا چاہتے ہیں جسے اسی کی دہائی سے عرب فرمانرواوں نے اختیار کیا ہوا ہے۔ساسہ پوسٹ کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان اقتدار سنبھالتے ہی یہ اعلان کریں گے کہ انہیں خادم الحرمین الشریفین نہ کہا جائے کیونکہ وہ پورے سعودی عرب کے خادم ہیں۔اس لقب کو ترک کر کے شہزادہ محمد بن سلمان سعودی عرب کے مذہبی ریاست ہونے کا تشخص زائل کر کے اپنے آپ کو ماڈریٹ اور لبرل بادشاہ کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔
رواں ہفتے سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر خواتین کے لیے ڈرائیونگ کی اجازت کا اعلان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ مملکت میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت کا دیا جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ سعودی حکومت اس بات کی شدید خواہش رکھتی ہے کہ عورت معاشرے کا ایک فعّال عنصر ہو اور اس حق سے فیض یاب ہو جو بعض سماجی وجوہات کی بنا پر معطل تھا۔سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے یہ فیصلہ شہزادہ محمد بن سلمان کی سفارش اور علما کرام کی حمایت سے کیا جسے دنیا بھر میں سراہا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ نے مملکت میں ڈرائیونگ کی اجازت دیے جانے کے فیصلے پر سعودی خواتین کو مبارک باد پیش کی ہے۔ ایوانکا نے کہا کہ "خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی اٹھائے جانے کا فرمان جاری ہونے کے بعد آج سعودی عرب میں خواتین کے لیے تاریخی دن ہے”۔ انہوں نے کہا کہ یہ صحیح سمت میں ایک اہم اقدام ہے۔
خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان کی طرف سے جاری کردہ شاہی فرمان میں کہا گیا ہے کہ خواتین کی ڈرائیونگ کے معاملے پر ملک کے سرکردہ علماء اور سپریم علماء کونسل نے شاہی فرمان کی تائید کی ہے۔ فرمان میں کہا گیا ہے کہ چونکہ سعودی عرب اسلامی شرعی قوانین اور روایات کا پاسبان ہے اس لیے شرعی قوامین واحکامات پرعمل درآمد کرنا اس کی اولین ترجیحات میں سےہے اسی لیے یہ فیصلہ علما کی تائید حاصل کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔علماء کرام کے خیال میں خواتین کی ڈرائیونگ میں کوئی شرعی امر مانع نہیں، تاہم بعض تحفظات کی بناء پر علماء نے خواتین کی ڈرائیونگ پر محتاط رویہ اپنایا تھا۔اب چونکہ وہ تمام تحفظات ختم ہوگئے ہیں اس لیے ڈرائیونگ کی اجازت دینے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔
ایک اور قابل توجہ پہلو جو اس دفعہ سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر سامنے آیا وہ یہ تھا کہ سرکاری تقریب میں خواتین فنکاراوں نے بھی پہلی مرتبہ فن کا مظاہرہ کیا۔دیگر ملکوں میں قائم سعودی سفارت خانوں میں منعقد ہونے والی تقریبات میں بھی بڑا جوش و خروش دیکھا گیا اور مختلف فنکاروں نے اپنے اپنے فن کے جوہر دکھائے۔اس تبدیلی کو بھی بعض حلقوں میں استعجاب کی نظر سے دیکھا گیا۔
سعودی ریاست کے مذہبی تشخص زائل کرنے کے اقدامات اگر یہیں تک محدود ہوتے تو شاید کسی کو بھی اعتراض نہ ہوتا لیکن سعودی حکومت نے ضروری سمجھا کہ اعتدال پسندی کے اس سفر میں علما اور مذہبی جماعتوں پر بھی عرصہ حیات تنگ کیا جائے اور اس کے بغیر شاید انہیں کوئی بھی اعتدال پسند تسلیم نہ کرے۔حالیہ دنوں میں ممتاز علما کی گرفتاریوں،مذہبی جماعتوں پر پابندی اور پھر قومی دن کے موقع پر فنکارہ کے رقص سے مذہبی حلقوں میں کافی تشویش پیدا ہوئی ہے اور مختلف فورمز پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کہیں سعودی عرب لبرل ازم کی طرف تو نہیں جا رہا؟
سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت،سینموں پر عائد پابندی کا خاتمہ ،سیاحت کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور دیگر اصلاحات اگر لبرل ازم ہیں تو اس سے سعودی عرب یا اسلام کو کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن کیا مذہبی جماعتوں پر پابندی اور علما کی گرفتاری بھی لبرل ازم کا ہی جزو ہے؟یا پھر یہ اعتدال پسندی کا حصہ ہے؟نئے ولی عہد کی اصلاحات کی کوششیں قابل ستائش ہیں لیکن اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کی کوششوں کو منزل ملے تو انہیں اعتدال پسندی کا یہ سفر کھلی آنکھوں کے ساتھ بغیر کسی جلد بازی کے جاری رکھنا ہوگا ۔عاقبت کی پرواہ کیے بغیر عجلت میں اٹھائے جانے والے اقدامات عموما نتیجہ خیز نہیں ثابت ہوتے۔

