Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تراجم»ثقافتی تاریخ کے تراشے
    تراجم

    ثقافتی تاریخ کے تراشے

    سلوت علیBy سلوت علیستمبر 19, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read0 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    کینوس گیلری کراچی میں منعقدہ ”بکھرے اوراق“ کے نام سے معنون نائلہ محمود کے متنوع ڈیجیٹل اور نقاشی فن پاروں کی حالیہ نمائش ایک مختلف طرز کی مصوری کا مظہر ہے۔کسی معروف تصویری اظہاریے کی بجائے’ بکھرے اوراق‘ ایک غیر معمولی مصورانہ نمائش ہے جس میں سامراج زمانے کے منحنی خطوط اور شاعری پر مشتمل نقاشی کے نمونے ، بوسیدہ،گردآلود اور خستہ حال تحریروں کے ٹکڑے ،بکھرے ہوئے اوراق اور موسمیاتی تغیر کا مقابلہ کرتے نسخوں کی ترجمانی کرتے فن پارے جمع کئے گئے ہیں۔یہ فن پارے دیکھنے سے زیادہ پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنے اندر پوشیدہ معلومات کے سبب دیکھنے والوں کو تفریح ِطبع اور آگہی بخشنے کے ساتھ ساتھ ورطہ حیرت میں ڈال دیں گے۔ یہ نمائش نو آبادیاتی یادگاروں کو جمع کرنے کا شوق رکھنے والے افراد، سماجی ماہرین اورکتاب پسندوں کیلئے خصوصی دلچسپی کا باعث ہونی چاہئے۔

    یہ نائلہ محمود کا تاریخ سے غیر معمولی لگاﺅ ہے جس نے انہیں اس جداگانہ اور بدیہی منظر کشی پر مائل کیا۔ اس نمائش کا خوش کن پہلو تاریخ کے کوڑے دان سے بطور ثبوت مسلم گھرانوں کے رسوم و رواج اوربرطانوی ثقا فت کے زیرِ اثرپنپنے والے رویوں کو تفصیلاًبیان کرنے والے بوسیدہ صفحات، گوند سے باہم جڑے ہوئے اوراق اور خستہ حال کتابوں کی سخن طرازی او رحالتِ طبعی کوبازیافت کرنا ہے۔ ان متفرقات کو ایک جمال آرا ءنمائش میں اس قدر محبت اور عمدگی سے پیش کرکے نائلہ محمود نے ناظرین کوسامراج کے تحت چلنے والے نو آبادیاتی نظام کے بارے میں تحقیق کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ بالکل بنیادی اور ابتدائی سطح کی عکاسی کرتی منظرنگاری کے باعث اس میں پنہاں پیغام کے ذریعے اس نمائش کو برِصغیر میں انیسویں اور بیسویں صدی میں مسلمانوں کی مادری زبان اردو کے اندازِبیاں، اسلوبِ تحریر اورطرزِ قرات کی ترجمان کہا جا سکتا ہے۔ مصنفین کی طرف سے گھرداری پر مبنی موضوعات پر لکھی گئی کتابوں کی تصاویر زیادہ صریح  اورواضح ہیں جیسا کہ محترمہ محمدی بیگم صاحبہ مرحومہ کی کتاب جو قاری کو زنان خانے کے اندرونی منظر سے آگاہی فراہم کرتی ہے۔Queen Victoria’s favourite Soup کا ترجمہ ’ملکہ معظمہ کا پسندیدہ شوربا ‘ مضحکہ خیز ہے مگر نعمل خانہ (Kitchen) تحریر النساء (Self Help) جیسے عنوانات اردو زبان کے رسمی اور شائستہ استعمال کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ آج کی انگریزی زدہ عامیانہ اردو زبان کے مقابلے میں ایسا اندازہمیں کافی عجیب اور فرسودہ لگتا ہے۔ مصنفین کی جانب سےکُکری بُک، مشرقی مغربی کھانے ،  چِیز سُواس ، بلیسنگ فرام دی کپ بورڈ، اور دی برائڈ جیسے عنوانات کی حامل گھریلو تراکیب کیلئے راہنما کتابوں کے فنی شہہ پاروں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ برطانوی ادب و آداب نے کس طرح مسلمان گھرانوں کے باورچی خانوں میں سرایت کرنا شروع کیا۔روایتی دسترخوان سے مروجہ کھانے کی میز تک کا سفرصر ف ایک عام معاشرتی بدلاﺅ نہیں ہے۔

     اگر غور و خوص کیا جائے تو کوئی بھی شخص اس نمائش سے یہ اخذ کر سکتا ہے کہ سامراجی نظام کے زیرِ سایہ رہنے والے لوگوں کوکس طرح غیر محسوس طریقے سے ثقافتی تغیر کے مدوجزرکا سامنا رہا۔گرِڈ آئرن( آہنی آتش دان)، سکریو پین (پیچدارتوّا)، سٹوو (چولھا)، لیڈل (ڈونی) اور چَرن(مٹکا)جیسے کھانا بنانے کے مخصوص برطانوی آلات کی اردو تفصیلات اور برطانوی پکوانوں کے ناموں اور اوقاتِ کار بیان کرنے والے کتابچے ،دی آرمی بریک فاسٹ کا فن پارہ بیرونی اثرا ت کی تقلید اور پسندیدگی کی شروعات کی عمدہ وضاحت کرتا ہے۔سلسلہ وار’ظالم‘ ، ’قاتل ماں‘ ، ’خنجرِ عشق‘ ، ’ظالم پھوپھی‘جیسی کہانیوں کے پراگندہ سرورق کا مجموعہ مختصر افسانہ نگاری اور ناولٹ جیسی ادبی اصناف سے تعلق رکھتاہے۔ ان کا مواد اور ظاہری حالت اردو مجلات میں اب تک ملنے والی سب سے قدیم مختصر افسانہ نگاری کے طور پر ان کی درجہ بندی کرتے ہیں۔ گھوڑوں کی بنیادی مصوری پر مبنی ”کیور دی ہارس الی الفیل 1869ء“ (Cure The Horse Ila Al feil 1896) کے نام سے موجود کتاب کے کھلے ہوئے دو صفحات ایک ایسے زمانے کی طرف راہنمائی کرتی ہے جب موٹر گاڑیاں عمومی ذرائع نقل وحمل کا حصہ نہیں تھیں۔بوسیدہ کپڑے کی جلد والی قدیم کتابوں کی تصویریں، جن کے دیمک زدہ پیلے اوراق ابھی بھی دستی بُنّتکاری کی نشاندہی کرتے ہیں ایک ایسے دور کی طرف اشارہ دیتے ہیں جس میں روایتی دستکاری سے کتابوں کی جلد بندی کا کام لیا جاتا تھا۔

    موجودہ زمانے میں ہم ٹیکنالوجی کا احترام کرتے ہیں اورکاغذ سے آزاد برقی کتب بینی ہماری زندگیوںمیں داخل ہو رہی ہے۔ نوجوان نسل تو اسے زندگی کا جزوِ لازم سمجھنے لگی ہے مگر عمر رسیدہ افراد ابھی بھی کتاب کے قلمی نسخوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہم ماضی سے لگاﺅ رکھتے ہیں مگر آخر کار ہمیں وقت کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ نائلہ محمود کیلئے ’بکھرے اوراق ‘ ایک’ ’فنائیت اور ماند پڑ جانے کے عمل کی توثیق “ ہے۔مگر نو آبادیاتی توقعات، روایتی مسلم ثقافت اور جدیدیت کے مابین کشمکش کو آشکار کرتے رسوم ورواج کا اظہاراور روز مرّہ زندگی کاعکس ثقافتی تاریخ کے ان تراشوں کودلچسپ بناتاہے۔

    بکھرے اوراق‘ کینوس گیلری کراچی میں15 تا24 اگست2017ءکو منعقد ہوئی۔

    ترجمہ: حزیفہ مسعود، بشکریہ روزنامہ ڈان

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleنواز شریف کے ورانٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا مسترد
    Next Article عسکری تنظیمیں ۔۔۔بدامنی کا محرک
    سلوت علی

    Related Posts

    ایران جنگ شیعہ عسکریت پسندی اور عالمی جہاد کی نئی لہر

    جون 12, 2026

    مغرب مسلم لبرلز کو کھو رہا ہے۔

    فروری 26, 2024

    انصاف اور سیاست

    جنوری 23, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by