Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»مذہب ،علم اور فن
    کالم

    مذہب ،علم اور فن

    صاحبزادہ محمد امانت رسولBy صاحبزادہ محمد امانت رسولستمبر 5, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read5 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

     

    مذہب ، علم اور فن میں مہارت اورثقاہت چند روز کی محنت سے نہیں زندگی بھر کی ریاضت سے نصیب ہوتی ہے۔ اس مہارت و ثقاہت کے لئے دنیا تیاگنا پڑتی اور اسے اولین ترجیح بنانا پڑتا ہے۔ اس سفر میں کوئی اپنا اور غیر نہیں ہوتا جو اس میں معاون ہو وہ اپنا اورجو رکاوٹ بنے وہ غیرکہلاتا ہے ۔ کلاسیکل مزاج کے لوگ اپنے فن اور کام سے ہی مطمئن اورخوش ہوتے ہیں ۔ ان کی راحت اور روحانیت اُن کے کام سے ہی وابستہ ہوتی ہے۔ وہ دولت ، شہرت سے بے نیاز ، بس صاف ستھرااور بغیر ملاوٹ لوگوں تک علم وفن پہنچانے کے لئے بے قرار ہوتے ہیں۔ ان کے معاشی حالات جیسے بھی ہوں ان کا قلبی اطمینان اُن کے کام سے ہی وابستہ ہوتا ہے۔ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہو گا وہ علم، فن اور مذہب کو ” وسیلہ“ نہیں بلکہ منزل خیال کرتے ہیں یعنی وہ اپنے فن کو شہرت ،دولت اور عوامی پذیرائی کا ذریعہ خیال نہیں کرتے اور نہ ہی ایسی خواہش اپنے دل میں پالتے ہیں ۔جو لوگ اسے ذریعہ بناتے اور استعمال کرتے ہیں وہ ہمیشہ علم و فن کی ثقاہت اور رازورموز سے محروم رہتے ہیں ۔

    اگر آپ علم موسیقی کے میدان میں دیکھیں تو وہ اساتذہ جنہوں نے اس علم کو اپنی زندگی دےدی ،درحقیقت انہوں نے ہی اس کی خدمت کی ،کیونکہ انہوں نے اِسے سیکھا اور سکھایا ، ان کی بنائی ہوئی دھنیں اورساز آج بھی لوگوں کے دلوں پہ حکومت کرتے ہیں، اُن کے گیت آج بھی کانوں میں رس گھولتے اور انسان کو روحانی غذا دیتے ہیں ۔اُن کے علاوہ ایسے گلوکار بھی ہیں جنہو ں نے موسیقی کو ”ذریعہ“ بنایا۔ عوامی مزاج پہ اتر کر ایک گیت بنایا، اس گیت سے وہ راتوں رات شہرت کی بلندیوں پہ پہنچ گئے لیکن اُس کے بعد انہوں نے ہسپتال بنا لیا یا سیاست میں آ گئے چونکہ وہ باقاعدہ شاگرد تھے اورنہ ہی استاد ۔لہذا انہوں نے اِسے بطور ”آلہ“ استعمال کیا۔ عوام کے جذبات اور احساسات کے مطابق گایا اور عوام کو خوش کرنے کے عوض وہ سب کچھ پایا جو ان کے مقاصد تھے۔ چند سال پہلے کامیڈین امان اللہ نے بہت ہی خوبصورت مزاحیہ انداز میں اس حقیقت کواس طرح بیان کیا ۔”اللہ کی شان دیکھو جنہیں گانا آتا ہے وہ(مہدی حسن) ہسپتال میں علاج کروا رہے ہیں اورجنہیں گانا نہیں آتا وہ (ابرار الحق) ہسپتال بنا رہے ہیں“اس جملے پہ کوئی ہنس لے تو وہ ہنس سکتا ہے لیکن اس جملے میں رونے کا سامان بھی بہت ہے۔

    محترم احمد جاوید صاحب جو اپنے مافی الضمیرکوعالمانہ اور فلسفیانہ انداز میں بیان کرنے پہ قادر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی عنایت کے بعد، احمد جاوید صاحب کی اس مہارت اور ثقاہت کے پیچھے انکی سال ہا سال کی ریاضت ہے، انہوں نے اپنے آپ کو مذہب ،فلسفہ اور تصوف سے وابستہ رکھا ہے۔ جب کبھی ان سے کوئی یہ کہے کہ” آپ اپنی بات آسان طریقے سے بیان کیا کریں“ ۔اُن کا کہنا ہوتا ہے”آپ اپنے معیار کو بلند کر لیں تاکہ آپ کو میری بات سمجھ آ سکے“۔ بالکل اسی طرح ہم نے عوام کی سطح پہ لانے کی کوشش میں علم، فن اور مذہب کو سطحی اور غیر معیاری بنا کر رکھ دیا ہے، یہ کام ہمارے اُن اہلِ علم و فن نے کیا ہے جو کبھی بھی علم اور فن کے ساتھ سنجیدہ نہیں ہوئے۔ انہوں نے انہیں منزل بنانے کے بجائے فقط سنگ راہ خیال کیا ہے ،یہی سلوک مذہب کے ساتھ بھی ہوا۔ مذہب کو ہم نے چند واقعات و آیات اور چند قصہ وداستان تک قبول کر لیا۔ وہ لوگ شہرت، دولت کی بلندیوں کو پہنچ چکے ہیں جنہوں نے مذہب کے ساتھ وہی سلوک کیا جو نوزائیدہ گلوکاروں نے موسیقی کے ساتھ کیا۔

    میڈیا نے ایسے ”انٹرنیشنل اسلامی سکالر “متعارف کروائے جنہوں نے دین کیاپیش کرنا تھا وہ اعلیٰ کردار بھی پیش نہ کر سکے۔ انہوں نے ایسے پروگرامز پیش کیے جن کا آغازوہ تلاوت، ترجمہ و تفسیر سے کرتے، درمیان میں ماڈلز ، اداکارائیں اور گلوکاراﺅں کو مدعو کیا جاتا ،اُن سے ہر قسم کی لغو گفتگو کیجاتی ،باقاعدہ موسیقی بھی ہوتی اور آخر میں پاکستان کے ترانے پہ پروگرام کا اختتام ہوتا۔ آج کل وہ(انٹرنیشنل اسلامی سکالر) کبھی کبھی مذہب پہ پروگرام کرتے ہیں لیکن اکثر کرنٹ آفیئرز کے پروگرام کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ ہم نے چرب زبانی اور قصہ کہانی کو دین کا نام دے دیا ہے۔ ایسا ہی کچھ سلوک رقص اور شاعری کے ساتھ بھی ہوا ہے ۔

    ہمارے استاذ محترم ہمیشہ مذہب اور علم وفن سے وابستہ لوگوں کی مثال بھوسہ اور گندم سے دیا کرتے تھے۔ وہ فرماتے تھے ”گندم تھوڑی اور بھوسہ زیادہ ہوتا ہے، اس وجہ سےمعیاری کام مقدار میں تھوڑ ا دکھائی دیتا ہے لیکن ہوتا وہی ہے جو تاریخ میں زندہ رہتا ہے، مذہب اورعلم وفن کو استعمال کرنے والے کا کام ”بھوسے“ کی طرح ہوتا ہے جو نظر زیادہ آتا ہے لیکن ہوتا وہ جھاگ کی طرح ہے جو زیادہ دیر تلک دکھائی نہیں دیتا“۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمیانمار میں مسلمانوں کا قتل عام کیوں؟
    Next Article ٹرمپ کے خلاف پشتون احتجاج کی حقیقت
    صاحبزادہ محمد امانت رسول

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by