سفر کو وسیلہ ظفر کہا گیا ہے کیونکہ یہ بہت سی کامیابیوں کا ذریعہ ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ جس مقصد کے لیے آپ کسی خاص سمت کا سفر اختیار کر رہے ہیں اسی کا کامیاب حصول کر کے واپس لوٹیں گے بلکہ سفر ازخود ایک مقصد ہے اور علم کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو بسا اوقات کتابوں سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے۔
اس مسافر کو ملکی سطح پر کئی اسفار کا موقع ملا اور پاکستان کی متنوع تہذیبیں ،روایات،زبانیں،شہری دیہاتی صحرائی و پہاڑی زندگی اور مختلف روایات کے حامل لوگوں کے رہہن سہن کو قریب سے دیکھا اور ان کی طبائع کو جانا،ہر جگہ اپنائیت محسوس ہوئی لیکن دیار غیر کا رخت سفر اس پاکستانی مسافر نے پہلی دفعہ باندھا تھا اس لیے کچھ بھی اندازہ نہیں تھا کہ اپنے ملک کی سرزمین سے باہر قدم رکھنے پر کیا بیتتی ہے اور کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سب سے پہلے ہوائی اڈے پر بین الاقوامی روانگی کے لیے تندو تیز سوالات کا سامنا کرنے کے لیے یہ مسافر تیار تھا تاہم الحمدللہ اس مرحلے میں کوئی پریشانی نہیں ہوئی البتہ جہاز پر سوار ہوتے ہی اس مسافر کے ذہن میں گزشتہ برس ہونے والے طیارہ حادثہ کی یاد تازہ ہو گئی،دیگر مسافروں کی گفتگو سے بھی اندازہ ہوا کہ ادھر بھی یہی کیفیت ہے۔ کوئی اپنے کسی پیارے کو یاد کر رہا تھا اور کوئی جنید جمشید مرحوم کو،جونہی طیارہ فضا میں بلند ہوا تو وہ خوف کی فضا ختم ہو گئی۔تین گھنٹے کی مسافت طے کر کے یہ مسافر اسلام آباد سے دبئی ہوائی اڈے پر پہنچ چکا تھا،مختلف ممالک کے لوگ نظر آنا شروع ہو گئے لیکن حیران کن امر یہ تھا کہ دبئی ایئرپورٹ کا عملہ پاکستانی مسافروں سے ٹوٹی پھوٹی اردو میں ہی بات کر رہا تھا،اس پاکستانی مسافر کی حیرت میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب اس نے دبئی اور شارجہ کے مختلف مالز اور ہوٹلوں میں اکثریت اردو بولنے اور سمجھنے والوں کی دیکھی،بلکہ شاپنگ مال میں داخل ہوتے ہی انڈین موسیقی سماعت سے ٹکراتی جس سے یہ احساس تک نہ رہتا کہ کسی دوسرے ملک کا شاپنگ مال ہے۔
آب و ہوا کافی مختلف تھی اور گرمی بھی ایسی کہ دن کو چند قدم چلنا مشکل ہوتا،لیکن اسی شدید گرمی میں مزدور کام کرتے بھی نظر آتے جن کے لیے ٹھنڈک کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔اگرچہ رہائش گاہوں،دفاتر اور تجارتی مراکز میں اے سی لگے ہوئے ہیں لیکن نہانے کے لیے اس کھولتے پانی کا کوئی متبادل نہیں ہے،زیادہ سے زیادہ آپ اتنا کر سکتے ہیں تھوڑی دیر پہلے پانی نکال کر اس میں برف ڈال لیں،لیکن ایسی مصروف زندگی میں اتنا تکلف کم ہی کوئی کرتا ہے۔شہر سے ذرا باہر نکلیں تو ریت ہی ریت ہے،اگر آپ اس میں پیدل چلنے کی غلطی کریں گے تو وہی ہو گا جو اس مسافر کے ساتھ ہوا،یعنی پاوں میں چھالے پڑ جائیں گے۔
دبئی میں ہندوستانی،بنگالی،پاکستانی اور فلپائنی کثیر تعداد میں نظر آئے،چار دنوں میں صرف دو مرتبہ ٹیکسی میں سفر کرنے کا موقع ملا،دونوں ڈرائیور پاکستانی تھے ۔کام سے متعلق سوال پر ایک نے اطمینان اور رضا بالقضا کا اظہار کیا جبکہ دوسرے نے گھریلو پریشانیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ
,مجھے نہیں معلوم پاکستان میں میرے بچے کیا کر رہے ہیں اور ان کا مستقبل کیسا ہو گا؟میں معاش کی فکر میں یہاں تو آ گیا ہوں لیکن اپنے بچوں کی تربیت نہیں کر سکتا,
ٹیکسی ڈرائیور کی یہ بات بڑی اہم تھی کیونکہ ہمارے سامنے کی یہ بات ہے کہ بہت سے والدین اولاد کی خاطر پیسہ کمانے کی غرض سے ملک سے باہر رہے اور پردیس کی مشکل زندگی گزاری لیکن چونکہ وہ اپنی زندگی میں سے اولاد کو صرف پیسہ دے سکے اس لیے اولاد کے دل میں بھی والد کی بہ نسبت پیسہ کی محبت ہی زیادہ تھی، اس لیے پردیسیوں کو اس بارے میں بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی اولاد کو کتنا وقت دے رہے ہیں۔
اپنے وطن سے دور رہتے ہوئے اگر کوئی ہم وطن دور سے بھی نظر آجائے تو کلیجہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے ایسے میں اس مسافر کے کیا کہنے جسے اپنے عزیز اور دوست مل جائیں؟ اس مسافر کی ہمشیرہ اور بہنوئی چونکہ شارجہ میں ہی مقیم ہیں اس لیے ہوائی اڈے پر ہی لوکل سم کنکشن لیے استقبال کے لیے موجود تھے۔یہ ایسی سم تھی جس سے چار دن تک یہ مسافر بغیر بیلنس کے کالز بھی کرتا رہا اور تھری جی انٹرنیٹ بھی استعمال کرتا رہا۔
دوستوں میں ہمارے یار غار اسعد الیاس بھی دبئی میں ہی مقیم تھے ،ایسے یار کی موجودگی میں ہوٹل میں ٹھہرنے کا کوئی سوچ بھی کیسے سکتا ہے؟اسعد بھائی کی طرف سے پہلے ہی یہ طے تھا کہ انہی کے ہاں ٹھہرنا ہے،انہوں نے اس مسافر کو خوب گھمایا پھرایا،کبھی دبئی مال تو کبھی جمیرہ بیچ،کبھی مرینا اور مردف سٹی مال اور کبھی قریبی سویمنگ پول پر۔ مختلف پاکستانی ہوٹلوں سے انواع و اقسام کے لذیذ کھانے،اور اس سب سے بڑھ کر ان کے دوستوں سے ملاقات۔
فکر معاش میں مارے مارے پھرنے والے ان دوستوں کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ یہاں جس ٹھاٹھ سے ان کے گھر والے زندگی گزار رہے ہیں وہ اگر یہ دیکھ لیں تو کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر آمادہ ہو جائیں
لیکن اپنے پیاروں کو کبھی پردیس نہ جانے دیں۔ایک دوست صبح دس بجے جاب پر جانے کے بعد جب رات گیارہ بجے تک نہیں لوٹے تو اس مسافر نے دریافت کیا کہ وہ ابھی تک کیوں نہیں پہنچے؟ جس پر بتایا گیا کہ ان کا معمول رات بارہ بجے آنے کا ہے۔ادھر گھڑی نے بارہ بجائے ادھر انہوں نے قدم کمرے میں رکھا۔پاکستانی مسافر نے پوچھا کہ آپ اتنی دیر تک جاب کرتے ہیں؟ تو جواب تھا کہ ,آپ نے کیا سمجھ رکھا ہے کہ درہم کمانا کوئی آسان کام ہے؟ایک اور جاننے والے بھی حال ہی میں جاب کی غرض سے متحدہ عرب امارات آئے تھے ان سے رابطہ کیا تاکہ ملاقات ہوجائے تو معلوم ہوا کہ وہ ایک جزیرے میں ہیں اور چھ ماہ تک وہاں سے دبئی یا ابوظبی بھی نہیں جا سکتے۔
سمندر پار پاکستانیوں کا یہ حال دیکھ کر اس پاکستانی مسافر نے پردیس میں جاب کرنے کا خیال دل سے نکال دیا جو وہ کبھی سوچا کرتا تھا اور نہ جانے کتنے جوان ہیں جو ملک سے باہر پاکستانیوں کے گھر والوں کا شاندار رہن سہن دیکھ کر یہ تمنا کرتے ہیں کہ وہ بھی سمندر پار جائیں تاکہ ان کے گھر والے بھی اچھے دن دیکھ سکیں لیکن جب کشتیاں جلا کر وہ آ جاتے ہیں تو متعین مدت پوری کیے بغیر ان کا وطن لوٹنا ناممکن ہو جاتا ہے اور پھر یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کی خوشی پر اپنا آپ قربان کر دیتے ہیں اور ہر دفعہ یہی عزم کر کے واپس پردیس چلے جاتے ہیں کہ اس دفعہ وہ آخری بار جا رہے ہیں۔
اس مسافر نے یہ نوٹ کیا کہ ہماری نظریں ہمیشہ سمندرپارعزیزوں کی طرف ہوتی ہیں کہ وہ ہمارے لیے کیا گفٹس بھیجیں گے اور جب بھی کوئی آرہا ہوں تو ہم پیشگی فرمائیشیں کر دیتے ہیں اور اگر کوئی کچھ نہ لاسکے تو گلےشکووں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے لیکن کبھی یہ نہیں سوچتے کہ کبھی کسی جانے والے کے ہاتھ ان کے لیے بھی کچھ بھیج دیں کہ ان کے لیے بھیجا گیا چھوٹا سا گفٹ بھی بہت معنی رکھتا ہے اور ان کی مہینوں کی تھکاوٹ اتار سکتا ہے۔
چار دن کا سیاحتی دورہ مکمل کر کے جب یہ مسافر لوٹ رہا تھا تو پاکستانی دوست اس پر رشک کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تم کتنے خوش نصیب ہو جو اپنے وطن واپس لوٹ رہے ہو،ہم تو اپنی دو سال کی قید مکمل کر کے ہی لوٹ سکیں گے۔اسلام آباد پہنچتے ہی بارش نے استقبال کیا،ہرطرف ہریالی اور سبزہ دیکھ کر جس قلبی راحت کا احساس ہوا ایسا اندرون ملک سفر کے بعد کبھی نہیں ہوا تھا۔بے نظیر اینٹرنیشنل ایئرپورٹ سے گھر تک کے سفر میں ہر چیز بدلی بدلی لیکن اپنی اپنی محسوس ہو رہی تھی اور یہ مسافر سوچ رہا تھا کہ آخر وہ کیسے پاکستانی ہیں جو دوسرے ممالک سے آکر پاکستان کی برائیاں کرتے ہیں؟

