Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»نااہلی کے بعد
    کالم

    نااہلی کے بعد

    سجاد اظہرBy سجاد اظہرجولائی 28, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پانامہ کا فیصلہ اقامت پزیر ہو چکا ہے ،نواز شریف کی نااہلی کا معاملہ نوشتہ دیوار تھا ۔مسئلہ یہاں صرف آئین کی دفعات 62اور 63کا نہیں بلکہ ان سول ملٹری تعلقات کا بھی ہے جن میں ہونے والی سرد مہری کی بازگشت کل وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس میں بھی سنائی دی بلکہ انہوں نے تویہاں تک کہا کہ یہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے ۔اس لئے پاکستان میں ہونے والی حالیہ تبدیلی کو بھی اسی پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے ۔

    پاکستان میں عدالتوں کے سیاسی فیصلوں پر ہمیشہ سے مختلف آراء رہی ہیں حالیہ فیصلے کا پوسٹ مارٹم بھی تاریخ کے صفحات میں ہوتا رہے گا ۔شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ آئین میں انتظامیہ اور عدلیہ کے اختیارات واضح ہونے کے باوجود ان میں صراحت نہیں ہے ۔عدلیہ خالصتاً انتظامی معاملوں میں حکومت کو مفلوج کر کے رکھ دیتی ہے اور اب یہ معاملہ حکومتی سربراہوں کی نااہلی تک بھی پہنچ چکا ہے ۔اب یہ پارلیمنٹ پر منحصر ہے کہ وہ اس آئینی خلا کو کیسے پُر کرتی ہے ۔62-63کا کیا مستقبل طے کرتی ہے ۔

    آنے والے دن بہت زیادہ ہنگامہ خیز ہوں گے ۔عدالتوں میں کئی ایسے کیسز زیر سماعت ہیں جن پر

    حالیہ فیصلہ اپنے اثرات مرتب کرے گا ۔

    ابھی تک حکمران جماعت کی حکمت عملی بھی سامنے نہیں آئی ۔کہا جاتا ہے کہ ایم کیو ایم ، پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف سب میں’’ مائینس ون ‘‘ فارمولہ چل رہا ہے ۔ماضی میں اسٹیبلشمنٹ نے بیک وقت اتنے بڑے محاذ نہیں کھولے ۔اگر ایک جماعت کو کارنر کیا گیا تو اس کے مقابلے میں دوسری جماعتوں کو گلے لگا لیا گیا ۔چھوٹے صوبوں کو ہمیشہ یہ شکوہ رہا کہ اسٹیبلشمنٹ پنجاب کی ہے مگر اس بار پنجاب کی قیادت بھی زیر عتاب ہے ۔

    ان حالات میں کئی سوالات پیدا ہو رہے ہیں؟ سب سے اہم سوال تو یہ کہ کیا نظام چل بھی پائے گا یا نہیں ؟

    حالیہ فیصلے کے  بعد اس سوال کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ ملک کی دونوں بڑی جماعتوں کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک ہوا ہے ۔بظاہر یہ حالات تیسری جماعت کے حق میں ہیں ۔لیکن اگر عمران خان اور ان کی جماعت کے اور لوگ بھی نااہل ہو گئے تو پھر کیا ہو گا ؟

    کیا ان حالات میں سیاسی طور پر انتشار نہیں بڑھے گا ؟ اور کیا ایک ایسے وقت میں جب سی پیک پر ہمسایہ ملک چین نے اربوں ڈالر سرمایہ کاری کر رکھی ہے تو پاکستان میں کسی بھی قسم کا انتشار اس اہم منصوبے کی تکمیل پر سوالیہ نشان نہیں کھڑے کر رہا ؟

    خلیج ، افغانستان اور کنٹرول لائن کی صورتحال ،کہیں سے بھی پاکستان کے لئے اچھی خبریں نہیں آرہیں اور المیہ تویہ ہے کہ سرحدوں کے اندر قوم فکری ، سیاسی ، مسلکی اور لسانی طور پر تقسیم در تقسیم کا شکار ہے ۔اگر ملک کے گلی محلوں میں ایک دوسرے پر چور چور کے آوازیں کسی جائیں گی تو پھر کوئی نہیں بچے گا ۔

    ملکی سلامتی کے تصورات بھی اب بدل چکے ہیں ۔کبھی بھی صرف  مظبوط دفاع  سلامتی کا ضامن نہیں ہوتا بلکہ یہ معیشت و سماج سے مشروط ہوتا ہے ۔پاکستان کی معیشت 32ارب ڈالر کا سالانہ خسارے میں ہے ۔بیرونی قرضوں کا حجم 80ارب ڈالر اور اندرونی قرضے 230ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں ۔اس صورتحال کا سبب اگر شخصیات تھیں بھی تو یہ بار اب اداروں کے کندھوں پر ہے ۔

    ادارے ،روشن خیالی اور علم و ہنر کی روایات پر قائم ہوتے ہیں اور کم نگاہی  سے ختم ہوجاتے ہیں اور ان کے ساتھ قومیں بھی اور ملک بھی ۔

    پاکستان کا فیصلہ جمہور کی آواز پر ہوا تھا ۔ جمہور کے بغیر جب بھی ا س کو چلانے کی کوشش کی گئی تونتیجہ کسی نہ کسی سقوط  پر منتج ہو ا۔اس لئے حالات جو بھی ہوں پارلیمنٹ کی بلادستی پر حرف نہیں آنا چاہئے۔

     

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleنوازشریف گلگت بلتستان کے لوگوں سے کئے گئے وعدے نہیں نبھا سکے
    Next Article آپ فیصلے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟
    سجاد اظہر

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by