مشرق وسطی میں 2011 کے اوائل سے شروع ہونے والے انقلاب بہار کو پانچ سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔یمن میں حوثی باغیوں کا مقابلہ اتحادی افواج سے جاری ہے،لیبیا میں انقلاب پسندسابقہ نظام کی باقیات سے لڑ رہے ہیں،شام میں اپوزیشن کے ہر دو سیاسی و مسلح دھڑے سعودی عرب کی سربراہی میں بشار الاسدکی حکومت اور داعش سے برسرپیکار ہیں لیکن تاحال یہ مزاحمتی تحریکیں کسی نتیجہ خیز مرحلے میں داخل نہیں ہو سکیں اور حالات کے تیور بتا رہے ہیں کہ ابھی مشرق وسطی میں کشمکش جاری رہے گی ۔
گذشتہ پانچ برس میں اس انقلابی تحریک نے8 ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیا جن میں سے صرف تیونس میں اسے کامیابی ملی اور خوش اسلوبی سے انتقال اقتدار کا مرحلہ پایہ تکمیل کو پہنچا،اسکے علاوہ مراکش کی مدبر قیادت نے بھی حالات پر بگڑنے سے پہلے ہی قابو پالیا اور آئینی طریقے سے نظام میں اہم تبدیلیاں کیں،اس طرح تدبیر اور معاملہ فہمی نے مراکش کو خون آشام انقلاب سے بچا لیا۔
آج کی اس نشست میں ہم اس "عرب بہار” سے متاثرہ ممالک کےحالات کا مختصرا جائزہ لیں گے اور موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مشرق وسطی کے مستقبل میں جھانکنے کی کوشش کریں گے۔
تیونس :
سب سے پہلے عرب بہار کی یہ آواز تیونس سے اس وقت بلند ہوئی جب 17 دسمبر 2010 کو ایک پھیری لگانے والے محمد بو عزیزی نے پولیس گردی سے تنگ آ کر خودسوزی کر لی۔جس کے نتیجے میں عوام مشتعل ہو کر سڑکوں پر آگئے یہاں تک کہ 14 جنوری 2011 کو زین العابدین بن علی کی ڈکٹیٹر شپ کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا۔
دوسال گذرنے کے بعد تیونس نے نیا آئین تشکیل دیا اور نداء تیونس پارٹی کےمحمد الباجی قائد السبسی ملک کے پہلے منتخب جمہوری صدر بن گئے۔ سیکولر ز کو بھی نمائندگی دی گئی اور آمریت قصہ پارینہ بن گئی ۔جسے جمہوریت کے لیے فتح سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ کہیں کہیں دہشت گردی کے واقعات بھی ہوتے رہے لیکن مجموعی حالت تسلی بخش رہی ہے ،رواں برس کے دوسرے مہینے میں تیونس میں تحریک کی کامیابی پر اطمینان کا اظہار کیا جارہا تھاکہ حالات نے ایک مرتبہ پھر کروٹ لی اور نئی نویلی جمہوریت کو ایک مرتبہ پھر ابتری کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ ا۔ تاحال ملک دہشتگری کے عفریت سے جان نہیں چھڑا سکا۔ اس کے علاوہ اقتصادی طور پر تیونس کافی کمزور ہو چکا ہے جس کا فائدہ انتہا پسند عناصر اٹھا سکتے ہیں،26 اکتوبر 2014 کو ہونے والے انتخابات میں ٹرن آوٹ میں کمی بھی نوجوانوں کی موجودہ سیاسی قیادت پر عدم اطمینان پر دلالت کرتی ہے حالات جس رخ پر جا رہے ہیں اس سے ماہرین پھر قیاس کر رہے ہیں کہ 2016 میں تیونس ایک اور انقلاب بہار کی طرف بڑھ رہا ہے
مصر:
آزادی چوک سے آزادی اور انصاف کا مطالبہ لے کر اٹھنے والی انقلابی تحریک کے 18 دنوں میں 850 شہری جاں بحق ہوئے۔بالآخر حسنی مبارک کو اقتدار چھوڑنا پڑااور جون 2012 میں اخوان المسلمین کے محمد مرسی صدر بن گئے۔اخوان کے پاس کچھ حد تک نظام کا متبادل موجود تھا جسے مرسی حکومت نے نافذ کرنے کی اپنی سی کوشش بھی کی۔ لیکن شاید انہوں نے فطرت کے قانون "تدریج اور ارتقاء” کا لحاظ نہ کیا نیز دوسری جماعتوں کو ساتھ ملانا گوارا نہ کیا حالانکہ وہ بھی تحریک کا حصہ تھیں ۔جس کی و جہ سے ابھی ایک سال بھی نہیں گذرا تھا کہ مرسی کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے ،(یہ مظاہرین وہی تھے جن کے نمائندوں کو اقتدار میں شریک نہیں کیا گیا)جس پر اخوان نے بھرپور مزاحمت کی۔جس کے نتیجے میں سینکڑوں اخوانی کارکنوں کو جیل میں جانا پڑا،بہت سوں کو پھانسی ہوئی اور ایک سال بعد عبدالفتاح السیسی مصر کے نئے صدر بن گئے۔اس طرح یہ انقلابی تحریک پہلے ہی مرحلے میں کامیابی کو چھو نے کے باوجود لائحہ عمل نہ ہونے اور تنہا پرواز کی خواہش کی وجہ سے دوسرے مرحلے کی ابتدا میں ہی ناکام ہو گئی۔
لیبیا :
2011 میں مسلح باغیوں نے چار دہائیوں تک مسلسل مسند اقتدار سے چمٹے رہنے والےمعمر قذافی کو طرابلس سے 360 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر سرت میں قتل کر دیا ۔جس کے بعد لیبیا میں خانہ جنگی شروع ہوگئی اور داعش ملک کے کونے کونے میں پھیل گئی ،لیبیا کے سابق نائب وزیر اعظم اور لیبین سٹریٹیجک آرگنائزیشن کے چیرمین عوض البرعصی کے مطابق قذافی حکومت کے خاتمے کے باوجود انقلابیوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوا،اس لیے کہ لیبیا میں 40 سال تک ادارتی خلا رہا جس کی کمی حکومت کے وجود سے پوری ہوتی رہی،قذافی حکومت کے سقوط سے لیبیا کے اداروں کی خوفناک شکل سامنے آئی ہے جس سے لیبیا کا مستقبل گھناؤنا دکھائی دے رہا ہے۔اس ساری صورتحال سے یہ بھی واضح سمجھ میں آتا ہے کہ لیبیا کی انقلابی تحریک کے عوامل داخلی نہیں بلکہ خارجی تھے،اور یہ کہ عالمی طاقتوں کا تخریب کا ایک ایجنڈا تھا جسے عربی محاورے "على أهلها تجني براقش ” یا”آ بیل مجھے مار” کےمصداق لیبی عوام نے ہی عملی جامہ پہنایا۔چند روزقبل امریکی صدر باراک اوباما نے بھی لیبیا میں مداخلت کو غلطی قراردیا ہے،اس سے قبل برطانوی صدر بھی عراق پر حملے کو غلطی قرار دے چکے ہیں، نہ معلوم کب تک ان غلطیوں کا اعادہ ہوتا رہے گا۔ دیکھا دیکھی اٹھنے والی لیبیا کی اس تحریک کا مقصد اگر صرف قذافی سے جان چھڑانا تھا تو اس میں تو تحریک بہرحال کامیاب ہوئی لیکن اس کامیابی نے لیبیائی عوام کو تباہی کے غار میں دھکیل دیا ہے اور متبادل نظام نہ ہونے کی وجہ سے انارکی اور خانہ جنگی ان کا مقدر بن گئی۔
یمن:
فروری 2012 میں علی عبد اللہ صالح عوامی بغاوت کے ایک سال بعد اقتدار اپنے نائب عبد ربہ منصور ہادی کوسونپ کر حکومت سے کنارہ کش ہو گئے۔2014 میں حوثیوں نے بغاوت کر دی اور صنعاء سمیت شیعہ اکثریتی علاقوں میں اپنی حکومت قائم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔مارچ 2015 میں سعودی عرب نے یمن حکومت کی اپیل پر اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر یمنی باغیوں پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں تقریبا 6000 حوثی باغی ہلاک ہوئے۔تاحال حوثیوں اور اتحادیوں کے درمیان جنگ جاری ہے۔
شام:
مارچ 2011 میں شامی عوام نے پرامن احتجاجی مظاہروں کا آغاز کیا اور حکومت سے اصلاحات کا مطالبہ کیا،لیکن بشار الاسد نے پرامن مظاہرین کے ساتھ سختی سے نمٹنا مناسب سمجھا اور مظاہرین پر چڑھائی کر دی جس کے بعد مظاہرین نے بھی تشدد کی راہ اختیار کر لی جو بالآخر خون ریز جنگ میں تبدیل ہو گئی،جس کے نتیجے میں ایک رپورٹ کے مطابق تقریبا اڑھائی لاکھ شہری جاں بحق ہوئے اور لاکھوں اپنی زندگیاں بچانے کے لیے وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ستمبر 2014 میں امریکہ نے داعش کی سرکوبی کے لیے ایک اتحاد بنایا،ٹھیک ایک سال بعد ستمبر 2015 میں روس بھی بشار الاسد حکومت بچانے کے لیے شام کی جنگ میں کود پڑا اور شامی اپوزیشن اور داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کر کے سینکڑوں افراد کو ابدی نیند سلا دیا۔
پیرس میں مشرق وسطی ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر برہان غلیون کے مطابق شام کی تازہ صورتحال سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ یہاں بھی اصل کھیل عالمی طاقتوں کا ہے جبکہ داخلی وجوہات ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ شام میں تین بڑی طاقتوں کے درمیان کشمکش جاری ہے۔
1: ایران کا منصوبہ یہ ہے کہ خطے کی حکمرانی اس کے حصے میں آئے اور اس مقصدکے حصول کے لیے وہ مذہب اور مسلک کا سیاسی استعمال بڑی مہارت سے کر رہا ہے۔
2: دوسرا منصوبہ اسرائیل کا ہے جس کی خواہش ہے کہ وہ تمام قوتیں آپس میں ٹکرا کر ہی پارہ پارہ ہو جائیں جو مستقبل میں اس کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ڈاکٹر غلیون کے مطابق ایران اور اسرائیل اس پر متفق ہیں کہ عرب طاقتوں کو کمزور کر دیا جائے۔
3: تیسرا منصوبہ روس کا ہے جسے مغربی ممالک کی طرف سے عراق اور لیبیا میں مداخلت کے بعد شام میں مداخلت کا جواز مل گیا ہے۔
ان ممالک کے علاوہ مراکش ،ا ردن اور بحرین میں بھی عوام سڑکوں پرآئے لیکن وہاں کی مدبر سیاسی قیادت نے حالات کو اس نہج پر جانے سے پہلے ہی سیاسی اصلاحات اور ریاستی کنٹرول سے نظام کو کنٹرول کو بچا لیا ۔
مجموعی طور پر تیونس اور مصر کی صورتحال قدرے بہتر ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں انقلابی تحریکوں میں نہ مسلکی رنگ تھا اور نہ ہی وہ کسی خارجی اشارے سے شروع ہوئیں،یہ علیحدہ بات ہے کہ بعد میں وہاں بھی خارجی طاقتوں کے عمل دخل کی کڑیاں نظر آتی ہیں۔
عراق اور یمن میں مسلک کی جنگ اور ایران کی اعلانیہ سپورٹ اور خطے پر تسلط کے خواب(جسے مولانا زاہد الراشدی صاحب خلافت فاطمیہ کے احیاء کے خواب سے تعبیر کرتے ہیں) نے حالات کو سنگین بنا دیا، بدنام زمانہ داعش نے بھی مسلکی تفریق سے ہی جنم لیا۔جواب میں سعودیہ بھی میدان میں آگیا ۔ اب تک سب سے زیادہ نقصان لیبیا اور شام کا ہوا، کیونکہ ان دونوں ممالک میں تخریبی کاروائیوں میں عالمی طاقتیں بھی ملوث تھیں،شام میں مسلکی عنصر نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔
خطے کا مستقبل:
ممتاز عرب صحافی و دانشور فہمی ہویدی عرب بہار کے مستقبل سے کچھ زیادہ پرامید نظر نہیں آتے،ان کے مطابق مشرق وسطی کے مستقبل کا فیصلہ موجودہ تحریکوں کا عملی فریم ورک کرے گا جو کہ تاحال سامنے نہیں آسکا،اس حوالے سے نہ سول سوسائٹی کا کوئی لائحہ عمل نظر آتا ہے تو نہ ہی سیاست کے میدان سے وہ پختگی دکھائی دے رہی ہے جو کہ خطے کی عوام کے لیے یکساں قابل قبول ہو،اس لیے ہر گروہ اپنا جتھا بنانے اور تنہا پرواز کے لیے فکرمند ہے جس کی وجہ سے خانہ جنگی میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔اس لیےبہتر مستقبل کے لیےجامع منصوبہ بندی ،متبادل نظام اور سیاسی پختگی کی ضرورت ہے۔اگر ہمارے ہاں تاریخ سے سبق حاصل کرنے کی روایت ہوتی تو مشرق وسطی کی حالیہ تاریخ سے ہم یہ سبق حاصل کر سکتے ہیں کہ کسی بھی نظام کے خلاف تحریک برپا کرنا،اس پر تنقید کرنا نہ اہم ہے نہ ہی مشکل ہے اصل چیز گھسے پٹے نظام کا خرابیوں سے پاک متبادل پیش کرنا ہے،جب تک نظام میں تبدیلی کی دعویدار جماعتیں اور پارٹیاں متبادل نظام کا فریم ورک مکمل نہیں کرلیتیں تب تک موجودہ نظام کو سپورٹ کرنے میں ہی عافیت ہے۔
