سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات 2000ء سے ہی خراب چلے آ رہے ہیں ۔جن کی وجہ اسرائیل ، جمہوریت ، ایران اور کچھ دیگر مسائل ہیں ۔صدر اوبامہ اس ہفتے سعودی عرب پہنچ رہے ہیں جن میں وہ ان اختلافات کو کم کرنے اور مشترکہ مفادات کا اعادہ کریں گے ۔لیکن جو کچھ بھی ہو جائے یہ تعلقات اب پہلے کی طرح گرم جوش نہیں ہو سکتے ۔
نشیب و فراز کی کہانی
امریکہ اور سعودی عرب کے اتحاد کی داغ بیل اس وقت پڑی تھی جب دو سعودی شہزادوں فیصل اور خالد نے 1943ء میں امریکی صدر روز ویلٹ کی دعوت پر وائیٹ ہاؤس کادورہ کیا تھا۔ جس میں دونوں شہزادوں نے فوجی امداد کے بدلے میں امریکی کمپنیوں کو اجازت دی تھی کہ وہ سعودی عرب میں کاروبار کر سکتی ہیں ۔ یہ معاہدہ 1945 میں ویلنٹائن ڈے پر اس وقت طے پایا تھا جب شاہ سعود اور روزویلٹ نے نہر سوئز میں امریکی بحری بیڑے USS Quincyپر ملا قات کی تھی ۔فلسطین کے مستقبل پر دونوں کے اختلافات کے باوجود یہ ملاقات بہت شاندار ثابت ہوئی تھی ۔

اگلی چھ دہائیوں میں باہمی تعلقات میں کئی اتار چڑھاؤ آئے لیکن اس کے باوجو ددونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ۔جب 1973ء میں رچرڈ نکسن نے عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل کی حمایت کی تو اس کی پاداش میں شاہ فیصل نے امریکہ کو تیل کی بر آمد پر پابندی لگا دی مگر یہ دوبارہ اس وقت بحال ہو گئی جب دونوںممالک عرب اسرائیل مزاکرات پر رضا مند ہوگئے ۔ شاہ خالد ،افغانستان میں روس کے خلاف جنگ میں جمی کارٹر کے اتحادی تھے ۔شاہ فہد نے کویت کی آزادی اور صدام حسین کے خلاف صدر بش سے مد دکی درخواست کی ۔ 1980 اور 1990 کی دہائیوں میں دونوں ممالک کے درمیان بے مثال تعاون رہا ۔
سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات 2000ء سے ہی خراب چلے آ رہے ہیں ۔جن کی وجہ اسرائیل ، جمہوریت ، ایران اور کچھ دیگر مسائل ہیں ۔صدر اوبامہ اس ہفتے سعودی عرب پہنچ رہے ہیں جن میں وہ ان اختلافات کو کم کرنے اور مشترکہ مفادات کا اعادہ کریں گے ۔
مگر ان میں 2000ء میں اس وقت دراڑ آ گئی جب صدر کلنٹن شیفرڈز ٹاؤن پیس کانفرنس کے موقع پر شام اسرائیل اور کیمپ ڈیوڈ میں فلسطین اسرائیل کے مابین امن سمجھوتے میں ناکام ہو گئے ۔جس پر اس وقت کے ولی عہد عبداللہ نے قیاس کیا کہ امریکہ قیام امن میں مخلص ہی نہیں ہے ۔سعودیوں کا خیال تھا کہ اگر شام کا اسرائیل کے ساتھ معاہدہ ہو جاتا ہے تو تو اس سے دمشق کو ایران سے دور رکھا جا سکتا تھا ،حزب اللہ کو تنہا کیا جا سکتا تھا اور آگے چل کر فلسطین پر کوئی سمجھوتا بھی طے پا جاتا۔ عبداللہ اس وقت شاہ فہد کی بیماری کی وجہ سے قائم مقام بادشاہ بھی تھے ۔اس وقت انھیں سخت مایوسی ہوئی جب 2001ء میں فلسطینیوں کی دوسری مزاحمتی تحریک انتفادہ کے وقت جارج بش ایریل شیرون کے ساتھ کھڑے ہو گئے ۔جب عبداللہ اور سیکرٹری آف سٹیٹ کولن پاول پیرس میں ملے تو انھوں نے کہا کہ اس سے خطے میں فساد ہو جائے گا انھوں نے صدر بش پر اسرائیل کے ساتھ مل کر ساز باز کرنے کا الزام بھی لگایا۔عبداللہ نے دونوں بش باپ بیٹے کے عہد میں واشنگٹن جانے سے معذرت کر لی ۔ تاہم ان کے رویئے میں کسی قدر نرمی اس وقت پیدا ہوئی جب جب جارج بش نے واضح طور پر فلسطین کو ایک ریاست قرار دیا ۔ اگرچہ سعودیوں کو اس بار ے میں شبہ ہی رہا کہ کیا واقعی ایسا ہے ۔
1973ء میں رچرڈ نکسن نے عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل کی حمایت کی تو اس کی پاداش میں شاہ فیصل نے امریکہ کو تیل کی بر آمد پر پابندی لگا دی مگر یہ دوبارہ اس وقت بحال ہو گئی جب دونوںممالک عرب اسرائیل مزاکرات پر رضا مند ہوگئے ۔
گیارہ ستمبر کے حملوں نے باہمی تعلقات کو ابتر کر دیا۔امریکی یہ پوچھنے میں حق بجانب تھے کہ 15 سعودیوں نے امریکہ پر کیوں حملہ کیا اور اسامہ بن لادن امریکہ سے کیوں نفرت کرتا ہے ؟ القائدہ کے نظریات کی جڑیں سعودیہ کے وہابی ازام میں تھیں ۔ سعودی اس وقت تک القائدہ کے بارے میں انکاری رہے جب تک 2003 ء میں اس نے سعودی عرب میں حملے نہیں کئے تھے ۔ جب ریاض پر حملہ ہوا تواس وقت سعودی عرب نے القائدہ کے خلاف مؤثر رد عمل دیا ۔ سعودی عرب یہ تک نہیں سمجھ سکا کہ گیارہ ستمبر کے بعد امریکہ عراق پر کیوں چڑھ دوڑا کیونکہ عراق کا القائدہ سے کوئی لینا دینا نہیں تھا ۔ سعودی اس بات پر خوش تھا کہ صدام سے جان چھوٹ جائے مگر وہ اس کے بعد کسی سنی جرنیل کو اقتدار دینے کا حامی تھا نہ کہ شیعہ اکثریت کو جمہوری طور پر موقع دیا جائے کہ وہ اپنا نمائندہ لے آئیں ۔ سعودیہ مکمل آمریت کا خواب دیکھ رہا تھا۔کیونکہ اگر عراق میں جمہوریت کامیاب ہو گئی تویہ سعودی عرب کے لئے بڑا خطرہ ہو سکتی تھی جس پر آگے چل کر سعودی عرب کے شہریوں کو بھی ووٹ کا حق دینا پڑ جاتا۔
امریکی یہ پوچھنے میں حق بجانب تھے کہ 15 سعودیوں نے امریکہ پر کیوں حملہ کیا اور اسامہ بن لادن امریکہ سے کیوں نفرت کرتا ہے ؟ القائدہ کے نظریات کی جڑیں سعودیہ کے وہابی ازام میں تھیں
حالات اس وقت مزید بگڑ گئے جب عراق میں انتخابات کے بعد شیعہ حکومت بن گئی ۔سعودی عرب کے لئے یہ دن عراق کو ایران کے حوالے کرنے کے برابر تھا ۔ عبداللہ بش کی اس کارگزاری پر خوف زدہ ہو گیا اور آج تک سعودی عرب کا یہ خوف برقرار ہے ۔
اوبامہ کا دور
اوبامہ 2009ء میں مشرق وسطیٰ کے اپنے پہلے دورے پر نکلے تو ان کا پہلا پڑاؤ ریاض ہی تھا ۔ شاہ عبدللہ کے ساتھ ان کے ملاقات اچھی نہیں تھی مگر صدر اوبامہ نے وعدہ کیا کہ وہ فلسطین کے مسئلے پر اپنی توجہ مرکوز کریں گے ۔ لیکن پھر سعودیوں کو محسوس ہوا کہ اوبامہ نیتن یاہو کے قابو میں آ گئے ہیں جس سے انھیں مایوسی ہوئی ۔
عرب بہار سے یہ تعلقات مزید خراب ہوئے ۔عبداللہ چاہتے تھے کہ اوبامہ حسنی مبارک کی مدد کرے اور اپنے پرانے اتحادی کو تنہا نہ چھوڑے ۔ کیونکہ سنی اکثریتی ملک مصر میں جمہوریت کا رواج شیعہ اکثریتی ملک عراق سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا تھا ۔ اگر مصر میں شخصی حکومت کی جگہ جمہوریت رائج ہو سکتی ہے تو پھر سعودی عرب میں کیوں نہیں ۔ یہ بات خلیج کے آمروں کے لئے سخت تشویش کا باعث تھی ۔ حتی ٰ کہ سعودی شاہی افراد سیاسی اصلاحات کے خیال کے حامی تھے نہ ہی بحرین میں جمہوریت کا نفاذ چاہتے تھے ۔ اگر سعودی عرب کے مشرقی صوبے جو تیل کی دولت سے مالا مال ہیں وہاں سنی آمریت کو کوئی خطرہ ہوا تو سعودی عرب کی دولت داؤ پر لگ سکتی ہے کیونکہ ان علاقوں میں شیعوں کی اکثریت ہے ۔واشنگٹن واضح طور پر بحرین میں اصلاحات کا حامی ہے جہاں ریاض اور ابوظہبی نے اپنی فوجیں بھیج رکھی ہیں ۔وہ اب بھی وہاں موجود ہیں ۔ ابھی تک اس انقلاب کو طاقت سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔
حالات اس وقت مزید بگڑ گئے جب عراق میں انتخابات کے بعد شیعہ حکومت بن گئی ۔سعودی عرب کے لئے یہ دن عراق کو ایران کے حوالے کرنے کے برابر تھا ۔ عبداللہ بش کی اس کارگزاری پر خوف زدہ ہو گیا اور آج تک سعودی عرب کا یہ خوف برقرار ہے ۔
ایک اور مثال مصر کی ہے ۔ ریاض جنرل عبدل السیسی کو اس وقت سے بخوبی جانتا ہے جب وہ سعودی عرب میں مصر کا فوجی اتاشی تھا ۔واشنگٹن میں سابق سعودی سفیر شہزادہ بندر جو کہ 2013ء سے سعودی عرب کے انٹیلی جنس چیف ہیں انھوں نے سیسی کو مبارک کی جانشینی کے طور پر پیش کیا ۔جب السیسی نے اقتدار پر قبضہ کیا تو شاہ عبداللہ نے پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں اس کی حکومت کو تسلیم کر لیا اور اب سعودی اس کی آمریت کو قائم رکھنے کے لئے اپنی تجوریوں کے منہ کھولے ہوئے ہیں ۔
نیا بادشاہ نیا دور
عبداللہ بہت محتاط اور خطرات مول نہ لینے والا رہنما تھا ۔ جبکہ شاہ سلیمان بہت نڈر اور جارح مزاج رکھتا ہے ۔ ایک بار وہ اوبامہ سے بھی الجھ چکا ہے ۔وہ یمن میں جنگ چھیڑ چکا ہے ۔ درجنوں دہشت گردوں کا پھانسی پر لٹکا چکا ہے ۔اس نے ایران کے خلاف 34 اسلامی ممالک کا فوجی اتحاد قائم کر دیا ہے ۔ ابھی حال ہی میں شاہ سلمان مصر گیا جہاں اس نے اربوں ڈالر کی امداد اور سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی اوردونوں ممالک کو خشکی کے راستے سے منسلک کرنے کے لئے آبنائے تران پر پل بنانے کا بھی اعلان کیا ۔ وہابی علماء شاہ سلمان پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ایران کی صفویت (صفوی بادشاہت کے دور میں ایران میں شیعہ ازم کو عروج ملا تھا)کو لگام ڈالنے کے لئے مزید سخت اقدام کرے ۔اس ماہ 140 علماء جن کا بادشاہ پر کافی اثرو رسوخ ہے انھوں نے بادشاہ کو ایک عرضداشت پیش کی ہے جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ اسلامی دنیا میں ایران کے نظریاتی غلبے کو روکنے کے لئے کو ششیں کریں ۔
پھر بھی امریکہ سعودیہ اکھٹے کیوں ہیں ؟
ان تمام اختلافات کے باوجود ابھی تک سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان بات علیحدگی تک نہیں پہنچی ۔ کیونکہ ودنوں ایک دوسرے کی ضرورت ہیں ۔ اوبامہ اور سلمان کا مفاد ایک دوسرے سے وابستہ ہے دونوں کے درمیان کئی معاہدے ہیں ۔ اوبامہ نے 95 ارب ڈالر کا اسلحہ سعودی عرب کو بیچا ہے ۔دونوں دولتِ اسلامیہ اور القائدہ کے خلاف لڑنے کے لئے یک سو ہیں ۔ولی عہد محمد بن نائف نے ثابت کیا ہے کہ وہ امریکہ کے اچھے سیکورٹی شراکت دار ہیں ۔ جزیرہ نما عرب میں القائد کو شکست دینے کے لئے دونوں ممالک کو تعاون بڑھانا چاہئے کیونکہ یمن میں جنگ کے دوران القائدہ کا اثر ورسوخ ڈرامائی طور پر بڑھ گیا ہے ۔
واشنگٹن اور ریاض کو خلیج میں ایران کی تخریبی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے بھی تعاون کرنا چاہئے ۔ کیونکہ ایران اب یہ سرگرمیاں بڑھائے گا کیونکہ اس کی تیل کی دولت بحال ہو گئی ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان شام بھی ایجنڈے پر موجود ہے ۔ سعودی چاہتے ہیں کہ امریکہ بشار الاسد کو ہٹانے کی یقین دہانی کرائے ۔ کیونکہ سعودیہ کو یقین ہے کہ شام میں خانہ جنگی اسد کی رخصتی سے ہی ختم ہو سکتی ہے ۔
یمن میں قیام امن پہلی ترجیح ہونی چاہئے ۔واشنگٹن اس میں ریاض کا خاموش حمایتی ہے اور اہم مدد فراہم کر رہا ہے ۔ یہ جنگ سعودی ارب کو بہت مہنگی پڑ رہی ہے ۔یمن اور سعودی عرب کی سرحدوں کے اطراف اس کے انسانی اثرات بہت تباہ کن ہیں ۔ نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے درست کہا کہ وقت آگیا ہے کہ سیاسی پیش رفت شروع کی جائے ۔
اگر سعودی عرب کے مشرقی صوبے جو تیل کی دولت سے مالا مال ہیں وہاں سنی آمریت کو کوئی خطرہ ہوا تو سعودی عرب کی دولت داؤ پر لگ سکتی ہے کیونکہ ان علاقوں میں شیعوں کی اکثریت ہے ۔
محمد بن سلمان نے یہ بھی کہا ہے کہ سعودی عرب چاہتا ہے کہ خطے میں امریکہ کا کردار کم ہونے کی بجائے بڑھے ۔ یمن اس کے لئے اچھا مقام ہے جہاں دونوں ممالک مشترکہ حکمت عملی اختیار کر سکتے ہیں ۔ درحقیقت ریاض اور واشنگٹن دونوں کا مفاد اس میں ہے کہ وہ صنعا میں تہران کا اثررو رسوخ کم کریں اور زیدی شیعہ کو یہ باور کرائیں کہ انھیں ایرانی مدد کے بغیر بھی یمن کی سیاست میں اچھا مقام مل سکتا ہے ۔
سعودی عرب کی لیڈر شپ نصف صدی میں پہلی بارایسی تبدیلیوں کی زد میں ہے جس کا سہرا اس کی نئی نسل کے سر ہے ۔سعودی آمریت کے لئے یہ ایک بڑا چیلنج ہے ۔شاہی خاندان میں 1963 ء کے بعد سے سیاسی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں ۔تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں نے حالات کو مزید ابتر کر دیا ہے ۔اوبامہ کا یہ خیال درست ہے کہ اختلافات کے باوجود ہمیں سعودی رہنماؤں کے ساتھ کام کرتے رہنا چاہئے ۔ کیونکہ مشرق ِ وسطیٰ میں سعودی عرب ایک بڑی طاقت ہے ۔
(بروس رائیڈل فارن پالیسی کے سینئر فیلو ہیں ، اس سے قبل وہ سی آئی اے میں 30 سال تک مختلف عہدوں پر کام کر چکے ہیں ۔ بروس رائیڈل امریکہ کی نیشنل سیکورٹی کونسل میں مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا ء کے بارے میں گزشتہ چار صدور کے مشیر ہیں ۔ان کا یہ مضمون بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کی ویب سائٹ سے لیا گیاہے جو 14 اپریل 2016 کو شائع ہوا ۔)
انگریزی سے ترجمہ : سجاد اظہر