رہائش گاہ سب سے اہم مسئلہ ہے:جبکہ حکومت چارلاکھ مکمل تباہ شدہ فی گھروں اورایک لاکھ ساٹھ ہزار جزوی طور پر تباہ ہونے والے گھروں کے لیے دینے کا اعلان کر چکی ہے،یہ رقوم اُن گھروں میں خرچ کی جارہی ہے جو حکومتی سروے میں تباہ شدہ گھرہیں ،جب کہ کل کتنے گھر انے تباہ ہیں ،یہ سروے اُس کا احاطہ نہیں کرتا۔

جون 2014میں شمالی وزیرِ ستان میں فوجی آپریشن ضربِ عضب کا آغاز ہوا تھا۔جس کے نتیجے میں ایک ہفتہ کے اندر چارلاکھ ،پینتیس ہزار چار سو اُنتیس( 435,429)سے زائد افراد نے نقل مکانی کی۔جبکہ عارضی طور پر بے گھر (ٹی ڈی پیز) ہونے والوں کی ایک اہم ہجرت حکومت اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے قائم کردہ رسمی کیمپوں میں تھی ،جبکہ اکثریت نے غیر رسمی مقامات پر رہنا پسند کیا  جن کامیزبان خیبرپختونخوا سے متصل معاشرہ ہے،جس نے رہائش ،بجلی ،صحت وصفائی کے حوالے سے مزید کشیدگی پیدا کی۔

اپریل 2015میں فاٹا سیکرٹریٹ،پائیدارواپسی،اور بحالی کی حکمت عملی میں بہترین رہنمائی لے کر آیا،کہ اس اَمر کو یقینی بنایا جائے کہ تمام ٹی ڈی پیز کی فاٹا میں پائیدار بحالی دسمبر2016 تک ہوجائے گی، اس مشکل کام کے لیےا یک محتاط اندازے کے مطابق،پاکستان کی معیشت پر 753 ملین ڈالر لاگت آئے گی۔اس حکمت عملی پر دو مرحلوں پر کام ہورہا ہے۔

نمبر 1 :ٹی ڈی پیز کی فوری واپسی اور بحالی،جس کا عمل اس وقت جاری ہے

نمبر2:مستقل بنیادوں پر تعمیرِ نَو،اس عمل کا شروع کیا جانا ابھی باقی ہے۔

اپریل 2016 میں تقریباًاَڑتیس ہزار دو سوپچیس(38,225)خاندان پہلے ہی شمالی وزیرستان کو واپس جا چکے ہیں ۔حقائق سے یہ پتا چلتا ہے کہ واپس جانے والے خاندان دس ہزار روپے ٹرانسپورٹ پر اُٹھنے والے خرچ کے حق دار ہیں اور پچیس ہزار بنیادی مالی وظیفہ کے طورپراُنہیں فوری طور پر ملنے چاہئیں۔رواں مالیاتی سال میں منصوبوں کی بحالی کے لیے ،وفاقی حکومت نے کل رقم80 ارب روپے مختص کی ہے ، اس میں سے 50 ارب رہائش کی سبسڈی ،وطن واپسی اور بحالی کے لیے تقسیم کیے گئے ہیں ،فروری 2016ءمیں صرف پندرہ سے بیس فیصدرقم حکومت کی جانب سے وعدہ کے مطابق جاری کی جا سکی ہے۔

Pakistani soldiers stand guard at a destroyed empty bazaar during a military operation against Taliban militants in the main town of Miranshah in North Waziristan on July 9, 2014. Last month Pakistan’s military launched a long-awaited offensive in North Waziristan, aimed at wiping out longstanding militant strongholds in the area, which borders Afghanistan. More than 800,000 people have fled a major military offensive against the Taliban in a Pakistani tribal area, officials said Wednesday. AFP PHOTO/Aamir QURESHI

انسانی بنیادوں پر یونیسف اور ڈبلیو ایف پی کی طرف سے حال ہی میں حفظانِ صحت کی کٹس اور چھ ماہ کا راشن مہیا کیا گیا ہے ۔تاہم نقد رقم کے باوجود،ہرچارواپس جانے والوں میں سے تین ایسے ہیں جن کے پاس بنیادی ضروریات کے لیے فنڈز کی کمی ہے ۔مزیدیہ کہ واپس جانے والوں میں ساٹھ فیصد فاٹا میں زرعی زمینوں کے مالک ہیں ،جنہیں زرعی معاش کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے قابلِ توجہ مشکلات کا سامنا ہے ،اس کی وجہ ایک تو بیج ،جانوراور سامان کی عدم دستیابی ہے ۔ہر واپس لوٹنے والے کوا وسطاًگھریلو ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تین سے پانچ ماہ تک کا سامان ِ خوردو نوش درکار ہے ۔

ابتر بات یہ ہے کہ بہت سے عارضی طور پر بے گھر (ٹی ڈی پیز) واپس جانے کے خواہش مند ہیں ،مگر اُنہیں وہاں دینے کے لیے گھر نہیں ہیں ۔کچھ علاقوں میں اسی فیصد گھر تباہ ہو چکے ہیں ۔ابتدائی جائزے اور اشارے یہ بتاتے ہیں کہ تحفظ کی صورتِ حال شمالی او رجنوبی وزیرستان میں بدترین ہے ۔

جون 2014میں شمالی وزیرِ ستان میں فوجی آپریشن ضربِ عضب کا آغاز ہوا تھا۔جس کے نتیجے میں ایک ہفتہ کے اندر چارلاکھ ،پینتیس ہزار چار سو اُنتیس( 435,429)سے زائد افراد نے نقل مکانی کی۔جبکہ عارضی طور پر بے گھر (ٹی ڈی پیز) ہونے والوں کی ایک اہم ہجرت حکومت اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے قائم کردہ رسمی کیمپوں میں تھی ،جبکہ اکثریت نے غیر رسمی مقامات پر رہنا پسند کیا  جن کامیزبان خیبرپختونخوا سے متصل معاشرہ ہے

رہائش گاہ سب سے اہم مسئلہ ہے:جبکہ حکومت چارلاکھ مکمل تباہ شدہ فی گھروں اورایک لاکھ ساٹھ ہزار جزوی طور پر تباہ ہونے والے گھروں کے لیے دینے کا اعلان کر چکی ہے،یہ رقوم اُن گھروں میں خرچ کی جارہی ہے جو حکومتی سروے میں تباہ شدہ گھرہیں ،جب کہ کل کتنے گھر انے تباہ ہیں ،یہ سروے اُس کا احاطہ نہیں کرتا۔

ایک اور فوری مسئلہ صنفی بنیادوں پر پیدا ہو کر باعث تشویش ہو چکا ہے ،وہ یہ کہ ایک اندازے کے مطابق شمالی وزیرستان سے پانچ فیصد ٹی ڈی پیز خاندان ایسے ہیں جو غیر رجسٹرڈ ہیں،کیونکہ اُن کا کوئی مرد سربراہ نہیں ہے۔ یوں نتیجے کے طور پر گھرانے کی خاتون سربراہ ماہانہ غذائی پیکج ،غیر غذائی اشیاء،سفری اخراجات اور دوسری نوع کی مالی امدادکو حاصل کرنے کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئی ہیں ۔

قبائلی ایجنسیوں میں جنگ کو داخل ہوئے مسلسل تیسرا موسم گرما شروع ہو چکا ہے،پالیسی ساز اور انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے گروہوں کو ، واپس لوٹنے والوں کی محفوظ واپسی اور پائیدار آبادکاری کو یقینی بنانے کے لئے فوری طور پر اپنی پالیسی میں ایسی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ،جو اُن کے مسائل کے خاتمے میں پل کا کردار اداکرے۔تحقیق کے نتائج کی بنیاد پر مرتب کی جانے والی سفارشات نے یہ واضح کر دیا کہ کھانے کیلئے کام اور نقدی کیلئے کام جیسے پروگراموں میں ذریعہ معاش اور خوراک کے عدم تحفظ کی روشنی میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔بحا لی زراعتِ کے علاوہ،حکومت ایسے ذریعہ معاش کے مواقع پیدا کرے جو غیر کاشتکاری سے متعلق ہوں۔آخر میں واپسی کا منصوبہ حتمی بحالی اور آبادکاری میں داخلہ،تباہ شدہ گھروں کا احاطہ کرنے کے لیے مصالحانہ رقوم کی تقسیم ،اس کے ہمراہ پانی اور حفظانِ صحت کے پروگراموں کو ترتیب دے کر خاندانوں کو رہنے کے لیے مفید ماحول دیا جائے۔

انفو گرافکس: زاراحق

(تلخیص و ترجمہ: احمد اعجاز )

بشکریہ جناح انسٹیٹیوٹ

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version